Breaking News
Home / اہم ترین / سنگولی راینا برگیڈ غیر سیاسی تنظیم میں تبدیل؛ یڈیورپا اور ایشورپا کے درمیان جاری سرد جنگ ختم کرنے کی پہل

سنگولی راینا برگیڈ غیر سیاسی تنظیم میں تبدیل؛ یڈیورپا اور ایشورپا کے درمیان جاری سرد جنگ ختم کرنے کی پہل

بنگلورو۔10/اکتوبر(ہر پل نیوز) ریاستی بی جے پی میں انتشار کا سبب بننے والی سنگولی راینا برگیڈ اب ایک غیر سیاسی تنظیم کے طور پر سرگرمیاں برقرار رکھے گی۔ اب تک برگیڈ کے ذریعہ یہ اعلان کیا جارہاتھاکہ اس کا مقصد بی جے پی کو اقتدار پر لانا اور پارٹی صدر بی ایس یڈیورپا کو دوبارہ وزیراعلیٰ بنانا ہے، مگر اب اس مقصد سے دستبرداری اختیار کرلی گئی ہے، جس کے تحت یہ برگیڈ کسی بھی پارٹی کیلئے کام نہیں کرے گا،بلکہ پسماندہ اور دلت طبقات کی فلاح وبہبود کیلئے کوشش ہوگی۔اسی طرح کانگریس پارٹی اور اس کے لیڈران کو برگیڈ سے دور رکھنے کے فیصلے کو بھی واپس لے لیا گیا ہے، اب کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھنے والا قائد اس تنظیم میں شامل ہوسکتاہے۔ اب پسماندہ طبقات اور دلتوں سے تعلق رکھنے والے مٹھوں کے سربراہان نے بھی اس میں شامل ہونے کا فیصلہ لیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ سابق وزیراعلیٰ بی ایس یڈیورپا کے ذریعہ یہ فرمان جاری کیاگیا تھاکہ کے ایس ایشورپا کو برگیڈ کی سرگرمیوں سے دور رکھا جائے، جس کے نتیجہ میں یہ تمام تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اس خصوص میں چترادرگہ میں قانون سازکونسل کے اپوزیشن لیڈر کے ایس ایشورپا کی قیادت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا،جس میں دلت مٹھوں کے فیڈریشن کے سربراہ مادارا چنیا، گلو پیٹ کے بسوا مورتی مادارا چنیا سوامی جی کاگی نیلے مٹھ کے نرنجنا نندا پوری سوامی جی اور اپارا گروپیٹ کے پرشوتما نندا سوامی جی وغیرہ نے شرکت کی، جس میں مندرجہ ئ بالا فیصلہ لیا گیا۔اس موقع پر ایشورپا نے بتایاکہ اس برگیڈ سے بی جے پی یا یڈیورپا کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ پسماندہ و دلت مٹھوں کے فیڈریشن کو تمام طبقات کی حمایت حاصل ہے، جس کے سبب اسے غیر سیاسی تنظیموں کے طور پر تبدیل کردیا گیا ہے، جو دلتوں، کمزوروں اور پسماندہ طبقات کی آواز بن کر ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ مٹھوں کے سربراہان کسی مخصوص سیاسی جماعت کیلئے کام نہیں کرسکتے، جس کے سبب انہوں نے بتایا تھاکہ اگر اسے صرف بی جے پی تک محدود کردیا گیا تو ان کی حمایت نہیں حاصل ہوگی، جس کے سبب یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ فیڈریشن کے سربراہ سوامی جی نے بتایاکہ برگیڈ سے متعلق ایشورپا سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا تھاکہ یہ برگیڈ مخصوص سیاسی جماعت تک محدود رہے گی اور اس سے یڈیورپا کو دوبارہ وزیراعلیٰ بنانے میں آسانی ہوگی، مگر مٹھوں کے ذریعہ کسی ایک مخصوص سیاسی جماعت کی حمایت کرنا مشکل ہے۔ اس سے غلط پیغام بھی روانہ ہوسکتا ہے، جس کے سبب اسے غیر سیاسی تنظیم بنانے کی پہل کی گئی ہے۔ ایک طرف جہاں یڈیورپا نے ایشورپا کو اس برگیڈ سے دور رکھنے کی کوشش کے طور پر پارٹی قیادت کے ذریعہ ان پر دباؤ ڈالا تھا وہیں برگیڈ کو غیر سیاسی تنظیم بنانے کے ذریعہ ایشورپانے یڈیورپا کو کرارا جوا ب دیاہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ogkB4

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے