Breaking News
Home / اہم ترین / سنگھ پریوار کو پھوٹی آنکھوں سے بھی مسجد برداشت نہیں،ایودھیا میں نئے کھیل کی تیاری۔کرشن پرتاپ سنگھ کی خاص تحریر

سنگھ پریوار کو پھوٹی آنکھوں سے بھی مسجد برداشت نہیں،ایودھیا میں نئے کھیل کی تیاری۔کرشن پرتاپ سنگھ کی خاص تحریر

اتر پردیش میں یہ سوال تو وزیراعلیٰ کے طور پر یوگی آدتیہ ناتھ کےپہلے ایودھیا سفر کے وقت سے ہی پوچھا جا رہا تھا کہ ایودھیا اور اس کے مندر-مسجد تنازعہ کو لےکر ان کے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے سر اتنے الگ الگ کیوں ہیں۔حال ہی میں دیوالی پر ‘ تریتا کی واپسی ‘ کے یوگی کی پیش قدمی کے بعد یہ بھی پوچھا جانے لگا ہے کہ بی جے پی 2014 کے برعکس 2019 کا پارلیامنٹ انتخاب ہندو توا کے ایجنڈے پر لڑے‌گی یا اس سے پہلے ان کو وزیراعلیٰ کےعہدے سے ہٹا دے‌گی؟

حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کےاندرونی اختلافات سے جڑا یہ سوال مودی حکومت کی حکمت عملی اورپالیسی کو لےکر ان کے ‘اندرباہر ‘سب کچھ ٹھیک نہ ہونے، گجرات میں وکاس کے پاگل ہونے، معیشت کے نام نہاد گجرات ماڈل کا بھانڈا پھوٹ جانے اور مودی کے گجرات تک میں ان کے متوازی یوگی کے استعمال کے مدنظر لگاتار زیادہ دھاردار ہوتا جا رہا ہے، مگر ابھی تک لا جواب  ہے۔اس سبب بی جے پی میں بڑے الٹ پلٹ کا اندازہ لگانے والےیہاں تک کہنے لگے ہیں کہ 2019 تک مودی اس طرح لڑکھڑا جائیں‌گے کہ ان کی عظمت یوگی پر عائدکر کےان کو لال کرشن اڈوانی کی طرح الگ تھلگ کر دیا جائے گا۔ اس لئے کہ گجرات کے نتائج صاف کر دیں‌گے کہ مودی کی ‘ کاٹھ کی ہانڈی ‘ آگے اور چڑھنے والی نہیں ہے۔

جو بھی ہو، ایودھیا میں ابھی تک اس حقیقت کو کسی راز کی ہی طرح دیکھا جا رہا ہے کہ بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوارکا اعلان ہونے سے پہلے  ہی اپنی شبیہ بدلنے کی کشمکش میں پڑے نریندر مودی خود کو ہندو توا سے جوڑنے، ایودھیا آنے اور رام مندر کے مسئلے پر منھ کھولنے سے بچتے رہے ہیں۔ اس لئے اپنے وزیر اعظم کے ابتک کے تین سال سے زیادہ کی مدت میں وہ ایک بار بھی ایودھیا نہیں آئے ہیں۔بھلےہی مندر تحریک کے نایکوں رام چندرداس پرم ہنس اور رام جنم بھومی ٹرسٹ کے صدر مہنت نرتیہ گوپال داس سے منسلک مختلف تواریخ پر ان کو ‘ مودبانہ مدعو ‘ کیا جاتا رہا ہے۔

2014 کے پارلیامنٹ انتخاب میں وہ ایودھیا کے جڑواں شہر فیض آباد میں بی جے پی امیدوار للّو سنگھ کی حمایت میں ریلی کو خطاب کرنے آئے بھی تو انہوں نے ایودھیا مسئلے پر منھ نہیں کھولا تھا۔گزشتہ اسمبلی انتخاب میں تو وہ ایودھیاباشندوں سے ووٹ مانگنے تک نہیں آئے، جبکہ پوری ریاست میں گھوم گھوم کر اکھلیش کی حکومت پر قبرستان اور شمشان اور ہولی، دیوالی اور عید میں جانبداری کرنے جیسے الزام عائدکرتے رہے۔اس کے برعکس یوگی آدتیہ ناتھ وزیراعلی عہدے کا حلف لینے کے بعد سے ہی کسی نہ کسی بہانے بار بار ایودھیا آتے اور ہندو مذہب کے مبینہ ایجنڈے کو رفتار دیتے رہتے ہیں۔

حزب مخالف اس کو کبھی بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا داخلی انتشار بتاتی ہیں، کبھی دونوں کی سازش اور کبھی سوچی سمجھی حکمت عملی۔ان کی مانیں تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کہ وزیر اعظم نے خود چپ رہ‌کر دوسری قطار کے بی جے پی رہنماؤں کو ایودھیا مسئلے کو بھرپور گرمانے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، جو مسئلے کو اتفاق رائے سے یا کہ بات چیت سے حل کرنے کی بات کرتے ہیں توبھی لگتا ہے کہ دھمکی دے رہے ہیں۔

بی جے پی اورسنگھ کو مخالف کے ایسے رد عمل بہت موافق لگتے ہیں کیونکہ یہ بات ان کے حق میں جاتی ہے کہ مخالف ان کے داخلی انتشار کی اصل شکل کو نہ سمجھ سکے ۔ہاں، یہ داخلی انتشار  کھلیں نہیں، اس کے لئے سنگھ پریوار کی تنظیم ان دنوں ایودھیا میں خود کو رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ کے خوش آئند حل کا سب سے بڑا پیروکار ‘ ثابت ‘ کرنے میں لگے ہیں۔اس کارعظیم میں ان کی ‘عالی ظرفی ‘ کا حال یہ ہے کہ وہ تنازعہ سے متعلق اکثر ہر سوال کا جواب ‘ابھی تو معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے ‘ کہہ‌کر ٹال دیتے ہیں اور بہت ہوا تو اتفاق رائے بنانے یا بات چیت کرنے اور عدالتی فیصلے کا انتظار کی بات کہہ دیتے ہیں۔جیسے چھ دسمبر، 1992 کو بابری مسجد کے انہدام کے وقت ان بیچاروں کو تنازعہ کے عدالت میں زیر التوا ہونے کی جانکاری ہی نہیں تھی!

ایسے میں، جب عدالت عظمی تک تنازعہ کو آپسی بات چیت سے کورٹ کے باہر حل‌کر لینے کا مشورہ دے چکی ہے،عام طور پر بدگمانی پھیلانے میں والی ان تنظیموں کو یوں ‘سدھرتے ‘ دیکھنا ایودھیاباشندوں کے لئے خوشی کی بات ہو سکتی تھی۔ویسے بھی شاید ہی کوئی عام ایودھیاباشندہ ہو، جو اس تنازعہ کا خوش آئند حل نہ چاہتا ہو۔ لیکن بدقسمتی سے نہ تو ان تنظیموں کی خیرسگالی کی کوئی تاریخ ہے اور نہ ہی ان کو نیک نیتی کی تشہیر کی اس سے پہلے کی کوئی مشق۔ اس سبب ان کے کرتب ابھی بھی ایسے ہیں کہ نیک نیتی قائم ہونے جا رہی ہو توبھی نہ ہو۔دراصل وہ سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ نیک نیتی، صلح یا سمجھوتہ کی کوشش تنازعہ کے سارےفریقوں کے درمیان برابری کے برتاؤ، ‘ایک قدم ہم چلیں، ایک قدم تم ‘والی سمجھداری اور لین دین کے جذبات سے کامیاب ہوتے ہیں، نہ کہ دوسرےفریق سے مکمل خود سپردگی کی  دو رخی خواہش سے چلی جانے والی شاطر چالوں سے۔اس لئے ان کی  نیک نیتی کی پیروکاری میں سارا زور مسلم بھائیوں کو رام مندر تعمیر کی دریادلی کا مظاہرہ کرنے کے لئے راضی کرنے پر ہے۔کہا جا رہا ہے کہ ہندو اکثریت والے اس ملک میں مسلمانوں کو بڑا دل دکھانا اور ہندوؤں کے عقیدے کی عزّت کرنا چاہیے۔

ظاہر ہے کہ ان کی اس ‘ چاہ ‘ میں مسلمانوں کے عقیدہ کے لئے کوئی عزّت نہیں ہے اور ‘اٹ بھی میری، پٹ بھی میری اور انٹا میرے بابا کا ‘بول بالا ہے۔ اس لئے نیک نیتی کا اصل جذبہ ہی ختم ہوا جا رہا ہے۔ہاں،اس پیروکاری کی کامیابی میں دسمبر2002 میں اس وقت کے سرسنگھ چالک کےایس سدرشن کی پہل پر تشکیل شدہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی حوصلہ مندانہ معاون تنظیم  مسلم راشٹریہ منچ ان کے بہت کام آ رہی ہے۔ بشکریہ دی وائر اردو 

The short URL of the present article is: http://harpal.in/bftAd

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے