Breaking News
Home / اہم ترین / سن دو ہزار چودہ میں ہوئی جج لوہیا کی موت پر’’کیراوان‘‘ میگزین کا سنسنی خیزخلاصہ۔ قتل کا شبہ؟

سن دو ہزار چودہ میں ہوئی جج لوہیا کی موت پر’’کیراوان‘‘ میگزین کا سنسنی خیزخلاصہ۔ قتل کا شبہ؟

نئی دہلی (ہرپل نیوز، ایجنسی)23نومبر۔سہراب الدین انکاؤنٹر معاملے میں سماعت کر رہے سی بی آئی جج برج گوپال لوہیا کی موت پر دی ’’کیراوان‘‘ میگزین نے ایک رپورٹ شائع کی ہے ،جس میں ان کے گھر والوں نے ان کی موت سے متعلق مشتبہ حالات پر سوالات اٹھائے گئےہیں،اورساتھ ہی انہیں سہراب الدین معاملے میں امت شاہ کے حق میں فیصلہ دینے کے لیے 100کروڑ روپے رشوت اور ممبئی میں ایک فلیٹ کی پیش کش کی بات بھی کی ہے ۔خصوصی سی بی آئی عدالت نے جج بی ایچ لویا کی موت میں ناگپور پولس، آر ایس ایس اور سہراب الدین شیخ فرضی تصادم معاملے میں ٹرائل کا سامنا کر رہے بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کے خلاف ایک کے بعد ایک ثبوتوں کا انکشاف ہو رہا تھا۔

’’کیراوان‘‘ میگزین نے جج لوہیا کے اہل خانہ کے بیان کا ایک ویڈیو جاری کیاگیا ہے ۔جس سے جج لوہیا کی حیرت انگیز موت پر کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔22 نومبر کو نئی دہلی میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں’’کیراوان‘‘ کے سیاسی مدیر ہرتوش سنگھ بل نے واضح کیا کہ جج لوہیا کی موت شک کے دائرہ میں ہے۔ پریس کانفرنس کا انعقاد ’’کیراوان‘‘ کے سینئر مدیر اور سول سوسائٹی کے ممبر، شبنم ہاشمی، سیدہ حمید، کولن گونجالوس اورپرفیسر اپوروانند کے ذریعہ کیا گیا تھا۔’’کیراوان‘‘ کے مدیران نے کو بتایا کہ نرنجن اس خبر کے ساتھ دوسرے میڈیا ہاؤس بھی گئے تھے لیکن کوئی اسے شائع کرنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ کیونکہ یہ خبر برسراقتدار بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کے کردار پر کئی سوال کھڑے کرتی نظر آرہی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران سماجی کارکنان نے جج لوہیا کی موت کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ حمید نے اس سلسلے میں کہا کہ جج لوہیا کی موت کے معاملے میں حیران کن باتیں منظر عام پر آنے کے بعد آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ سے بھروس ہ اٹھ گیاہے۔سول سوسائٹی کے اراکین نے ’’کیراوان‘‘ کے مدیران اور پوری تحقیق کرنے والے صحافی نرنجن ٹاکلے اور جج لوہیا کی فیملی کو سیکورٹی دینے کا مطالبہ کیا۔ حالانکہ ’’کیراوان‘‘ کے مدیران نے کسی طرح کی سیکورٹی لینے سے انکار کر دیا ہے۔ سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے اس موقع پر بتایا کہ ان لوگوں کو پریس کانفرنس نہیں منعقد کرنے کے لیے بھی کہا گیا تھا۔

یاد رہے کہ بی ایچ لوہیا جون 2014 میں ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت سے منسلک تھے۔ یہ عدالت سہراب الدین معاملے کی سماعت کر رہی تھی ۔جس میں بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ اہم ملزم تھے۔بتایا جاتا ہے کہ لوہیا کی 30 نومبر 2014 کی شب دل کادورہ پڑنے سے موت ہو گئی تھی۔جبکہ ان کی موت کی اصل وجہ کا پتہ نہیں چلا ہے۔ اور لویا کی فیملی نے بھی ان کی موت کے بعد میڈیا سے بات نہیں کی ہے۔

صحافی نرنجن ٹاکلےنومبر 2016 میں لوہیا فیملی سے بات کر رہے تھے۔ کئی میٹنگوں اور ملاقاتوں کے بعد جج لویا کی موت اور سہراب الدین تصادم معاملے میں کئی حیران کرنے والے ثبوت سامنے آئے ہیں۔نرنجن ٹاکلے کے ذریعے کیے گئے انکشافات کو ’’کیراوان‘‘میگزین لگاتار شائع کر رہا ہے۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ جج لوہیا کی بہن اور والد نے کہا تھا کہ سہراب الدین معاملے میں ایک خاص فریق کے حق میں فیصلہ دینے کے لیے جج لوہیا کو 100 کروڑ روپے اور ممبئی میں ایک گھر دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔ جج لوہیا نے اپنی فیملی کو یہ بھی بتایا تھا کہ رشوت لینے کے بجائے یا تو وہ سبکدوش ہو جائیں گے ،یا کہیں دوسری جگہ ٹرانسفر کرا لیں گے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/4hXJB

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے