Breaking News
Home / اہم ترین / سچ بولنے والے کو آج ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ مسلم طلبہ ہندوستانی آئین کا گہرا مطالعہ کریں۔(آئی او ایس) کی 30 ویں سالگرہ کی تقریب میں دانشوران کا کا اظہار خیال

سچ بولنے والے کو آج ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ مسلم طلبہ ہندوستانی آئین کا گہرا مطالعہ کریں۔(آئی او ایس) کی 30 ویں سالگرہ کی تقریب میں دانشوران کا کا اظہار خیال

نئی دہلی ۔ ( ایجنسی ، ہر پل نیوز ) 7نومبر ۔ سابق مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے رحمن خاں نے کہا کہ سچ بات کہنے والے کو آج ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ عدلیہ کا ایک طبقہ بھی حق بجانب دکھائی نہیں دیتا ہے۔ مسٹر رحمان آج یہاں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) کی 30 ویں سالگرہ کی تقریب کے موقع پر بعنوان ’’ہندوستان کے موجودہ سیاق میں مساوات، انصاف اور بھائی چارے کی جانب ایک بہتر مستقبل کی تخلیق بذریعہ تعلیم‘‘پر منعقد کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بہت ہی فکر مندی کے دور سے گزر رہے ہیں جب آئین خاص طور سے اس کے دیباچہ پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ ہمارا آئین کثرت کے فلسفہ پر مبنی ہے اور اسی کثرت پر کچھ حلقوں میں شک وشبہات پیدا کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج پریس آزاد نہیں ہے اور آزاد پریس کے سامنے بہت بڑا خطرہ لاحق ہے۔ سچ بات کہنے والے کو آج ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ عدلیہ کا بھی ایک حصہ حق بجانب دکھائی نہیں دیتا ہے ۔ اس ضمن میں کرناٹک ہائی کورٹ کا ابھی حال میں دیا گیا یہ فیصلہ کہ ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش اس لئے نہیں منائی جاسکتی ہے کہ وہ ایک حکمراں تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام حکمرانوں کے یوم پیدائش پر بڑی بڑی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔ ہمیں تعلیم کے میدان میں کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کا فائدہ آنے والی نسل کو مل سکے۔مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے وائس چانسلر اخترالواسع نے کہا کہ ہمیں تعلیم کے میدان میں پسماندگی کی وجوہات پر غوروخوض کرنا چاہئے۔ ہمیں تعلیم کو ایسی بنانا چاہئے جس میں سبھی کی شمولیت ہو۔ اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (اگنو) کے وائس چانسلر پروفیسر ایم اسلم نے کہا کہ جب تک ہم اپنے حالات کا تجزیہ نہیں کریں گے تب تک آگے بڑھنامشکل ہے۔ ہمیں سماج کے پسماندہ طبقات پر خصوصی توجہ دینا چاہئے۔ انتظامی ڈھانچہ اتناکمزور ہوچکا ہے کہ ہر فیصلہ کے لئے وہ عدلیہ سے رجوع کرتا ہے سماجی ادارے دم توڑ رہے ہیں اور افسوس کہ ہم ان پر بالکل دھیان نہیں دے رہے ہیں۔قبل ازیں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے ایم احمدی نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ آئین ساز اسمبلی کے ممبران بہت سمجھدار اور روشن خیال تھے جنھوں نے دفعہ 32 کو شامل کرکے ہندوستان کے تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کی گارنٹی کو شامل کیا۔ یہ وہی دفعہ ہے جسے مستقبل کی کوئی بھی سرکار آئین میں ترمیم کرکے بدل نہیں سکتی۔انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کیشوا نند بھارتی بنام اسٹیٹ کے تاریخی فیصلے میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ آئین میں دئے گئے بنیادی حقوق کو آئین میں ترمیم کرکے بدلا نہیں جاسکتا کیونکہ یہ اس کی بنیادی اساس ہے۔ انھوں نے قانون کی تعلیم حاصل کررہے نوجوان طلباء سے کہا کہ وہ ہندوستانی آئین کا گہرا مطالعہ کریں تاکہ دنیا کے مشہور آئین میں سے ایک ہندوستانی آئین کی وسعت کاانھیں اندازہ ہوسکے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہی وہ دفعہ ہے جو بنیادی حقوق کی گارنٹی دیتی ہے۔تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تعلیم سے ذہن کھلتے ہیں اور اس کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ انھوں نے خاص طور سے مسلم دانشوروں اور لیڈروں کو مشورہ دیا کہ وہ قوم کو اس بات کے لئے راضی کریں کہ اپنے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان بہت ذہین ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی ہمت افزائی کی جائے تو اور بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/EARvT

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے