Breaking News
Home / اہم ترین / سہارنپور میں شوبھا ياترا کے دوران پھر تشدد ، فائرنگ میں ایک کی موت، کئی زخمی، سیکورٹی سخت

سہارنپور میں شوبھا ياترا کے دوران پھر تشدد ، فائرنگ میں ایک کی موت، کئی زخمی، سیکورٹی سخت

سہارنپور(ہرپل نیوز،ایجنسی)6 مئی: اترپردیش کے سہارنپور میں آج مہارانا پرتاپ جینتی پر شوبھاياترا میں ڈی جے بجانے کو لے کر ٹھاکر اور دلتوں کے درمیان تنازع ہو گیا۔ اس دوران پتھراؤ، آتش زنی اور فائرنگ کا بھی واقعہ پیش آیا ، جس میں ایک شخص کی موت ہو گئی ہے، جبکہ نصف درجن زخمیوں میں ایک پولیس کا کوتوال بھی شامل ہیں۔ اس واقعہ کے بعد موقع پر ارد گرد کے تھانوں کی پولیس اور پی اے سی طلب کرلی گئی ہے۔

خیال رہے کہ شبيرپر گاؤں میں مہارانا پرتاپ کی جینتی پر شوبھا یاترا نکالی جارہی تھی کہ ٹھاکر اور دلتوں کے درمیان ہنگامہ ہو گیا۔ اس کے بعد آتش زنی کے بعد مندر میں توڑپھوڑ، پتھراؤ اور فائرنگ کے واقعات پیش آئے ۔ تشدد میں ٹھاکر برادری سے ایک نوجوان کی موت ہو گئی جبکہ دیوبند کوتوال چمن سنگھ چاوڑا سمیت کئی زخمی ہو گئے ہے۔

سہارنپور میں شوبھا ياترا کے دوران پھر تشدد ، فائرنگ میں ایک کی موت، کئی زخمی، سیکورٹی سخت

خبروں کے مطابق شوبھا یاترا کے ساتھ ٹھاکر برادری کے لوگ جب بستی سے نکل رہے تھے تو سنت روی داس مندر کے پاس ڈی جے بجانے کی دلتوں نے مخالفت کی، جس بات پر دونوں فریقوں میں تنازع ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پتھراؤ شروع ہو گیا۔ ٹھاکروں کی جانب سے سنت روی داس مندر میں توڑپھوڑ شروع کر دی گئی۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر امبیڈکر کے مجسمہ کو بھی توڑ دیاگیا۔

یوپی کے سہارنپور میں دو فرقوں کے بیچ جھڑپ کے سلسلے میں 17 افراد گرفتار

اترپردیش میں سہارنپور کے بڈگاؤں علاقے میں مہارانا پرتاپ جینتی یاترا کے دوران گزشتہ روز دو فریقوں میں تنازعہ کے بعد پرتشددجھڑپ کے سلسلے میں 17 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دو فریقوں کے پرتشدد جھڑپ میں ایک شخص کی موت ہو گئی تھی اور 20 سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ سینئر پولس سپرنٹنڈنٹ سبھاش چندر دوبے نے بتایا کہ صورتحال اب مکمل طورپر کنٹرول میں ہے۔ موقع پر کافی تعداد میں پولس فورس کی تعیناتی کر دی گئی ہے۔ کل شام سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے۔ دونوں طرف سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کسی کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح ر ہے کہ مہارانا پرتاپ جینتی یاترا کے دوران ڈی جے بجانے کے سلسلے میں دلتوں اور راجپوتوں کے درمیان تنازعہ ہو گیا تھا۔ جس کے بعد دونوں طرف سے جم کر پتھر پھینکے گئے تھے۔ پتھراؤ میں ایک نوجوان کی موت ہو گئی تھی اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ پولس اور انتظامیہ کے سینئر حکام نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں کیا تھا۔ جھڑپ کے دوران متعدد جھونپڑیوں کو آگ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ صورت حال پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے پولیس اور پی اے سی کے جوان موقع پر تعینات ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/mqw1C

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے