Breaking News
Home / اہم ترین / سیاسی جماعتوں کے چندے کی جانچ کرانےکمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ؛ کل جنتر منتر پرہوگی ”ہلہ بول“ریلی

سیاسی جماعتوں کے چندے کی جانچ کرانےکمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ؛ کل جنتر منتر پرہوگی ”ہلہ بول“ریلی

نئی دہلی،(ہرپل نیوز)18 ڈسمبر:سوراج ابھیان کے لیڈر پرشانت بھوشن نے آج دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کی اس مانگ کی حمایت کی کہ سیاسی جماعتوں کے چندے کے ذرائع کی جانچ کرانے کے لئے ایک کمیشن تشکیل دی جائے۔مشہور وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو پرانے نوٹ جمع کرنے میں ٹیکس کی ادائیگی سے دی گئی چھوٹ انہیں کالے دھن کو سفید بنانے کا ذریعہ بنا دے گی۔ پرشانت نے مرکز کی نریندر مودی حکومت پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ نوٹ بندی کے معاملے پر مسلسل جھوٹ بول رہی ہے اور چلن میں رہے 500اور 1000روپے کے پرانے نوٹوں کے اعداد و شمار میں مسلسل تبدیلی کر رہی ہے۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرشانت نے کہا کہ مرکزی حکومت کالے دھن کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے کوئی فیصلہ لینے پر سنجیدہ نہیں ہے۔سیاسی جماعتوں کے چندے میں شفافیت کی کمی پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں 500اور 1000روپے کے پرانے نوٹ جمع کرانے کی اجازت دینے سے سیاسی پارٹیاں کالے دھن کو سفید بنانے کا ذریعہ بن جائے  گی۔کافی طویل وقت تک دوستی کے بعد اب کجریوال کے ناقدبن رہ چکے پرشانت نے کہا کہ کمیشن کی تشکیل کا دہلی کے وزیر اعلی کا مطالبہ انتہائی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ کالے دھن کو 20000روپے تک کے سیاسی چندے میں تبدیل کرنے کے لئے پہلے سے ہی ایک دفعہ موجود ہے جس کا فائدہ اہم سیاسی پارٹیاں اٹھا رہی ہیں۔پرشانت نے کہا کہ اس دفعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ تر پارٹیاں اسی دفعہ کے تحت اپنی آمدنی کا بہت بڑا حصہ نقد چندے کے طور پر اعلان کرتی ہیں اوراپنے چندوں کے ذرائع کی تحقیقات سے بچ نکلتی ہیں۔سوراج ابھیان کی سیاسی شاخ سوراج انڈیا کے صدر یوگیندر یادو نے دعوی کیا کہ حکومت کے پاس ایسے ممالک کی فہرست ہے جس میں بلیک لسٹ میں شامل ٹیکس چوری کرنے والے ممالک کے نام ہیں، لیکن اب انہوں نے 2013کی پچھلی تاریخ سے قبرص کو اس فہرست سے خارج کر دیا ہے۔یوگیندر نے کہا کہ اب ان پیسوں کی کوئی تحقیقات نہیں ہوگی جن کے لین دین اس ملک کے ذریعہ ہوگی۔سوراج ابھیان نے اعلان کیا کہ کالے دھن اور بدعنوانی کے خلاف کل جنتر منتر پر ”ہلہ بول“ریلی ہوگی۔ یوگیندر نے دعوی کیا کہ ریلی میں جسٹس(ریٹائرڈ) سنتوش ہیگڑے سمیت کئی دیگربدعنوانی سے لڑنے والے کارکنان شامل ہوں گے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/hf095

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے