Breaking News
Home / اہم ترین / سیہادری کالج میں طالبات پر حملہ اور حق تلافی کے خلاف کیمپس فرنٹ کےزبردست احتجاج کے بعدشیموگہ یس پی کارد عمل ۔ کہا برقعہ بھی پہنیں،زعفرانی شال بھی ڈالیں لیکن نظم و نسق بحال رکھیں

سیہادری کالج میں طالبات پر حملہ اور حق تلافی کے خلاف کیمپس فرنٹ کےزبردست احتجاج کے بعدشیموگہ یس پی کارد عمل ۔ کہا برقعہ بھی پہنیں،زعفرانی شال بھی ڈالیں لیکن نظم و نسق بحال رکھیں

شیموگہ(ہرپل نیوز،ایجنسی):5 فروری: سیہادرآرٹس ،کامرس اینڈ سائنس کالج میں برقعہ اور یونیفارم کو لیکر پچھلے دو دنوں سے جو کشمکش جاری تھی اسے آج ضلع انتظامیہ نے حل کرلیا ہے۔جس کے تحت ایس پی ابھیئنو کھرے نے طلباءکے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طلباءیونیفارم کا استعمال کرسکتے ہیں ساتھ ہی ساتھ مسلم لڑکیاں برقعہ پہن کر کالج آسکتی ہیں اور اگر ہندو طلباءچاہیں تو زعفرانی شال پہن کر بھی آسکتے ہیں ۔ اس فیصلے کے بعد طلباءکے درمیان جو وسوسے اور پریشانیاں چل رہی تھیں وہ ختم ہوچکی ہیں۔آج اس سلسلے میں سیہادرآرٹس ، کامرس اینڈ سائنس کالج کے پرنسپال پروفیسر شیونا گوڈا ،پروفیسر شکنتلا ، ایس پی ابھینﺅکھرے اوراڈیشنل ڈی سی چنبسپا ،کوئمپویونیورسٹی کے رجسٹرار بوجا نائک کی موجودگی میں خصوصی نشست کاانعقاد کیا گیاتھا۔اس موقع پر طلباءتنظیموںکی بات سننے کے بعد ایس پی ابھیئنوکھرے نے کہا کہ طلباءپہلے کی طرح یونیفارم کا استعمال کریں اورساتھ ہی ساتھ مسلم لڑکیوں کے برقعہ پہننے پر کوئی اعتراض نہیں کریگا اور اگر کوئی چاہتا ہے کہ وہ کیسری شال پہن کر کالج آئے تو وہ بھی اسے باقاعدہ پہن سکتا ہے ۔ اس فیصلے کو ہندو اور مسلم طلباءنے قبول کرلیا ، جس سے یہ معاملہ حل ہوچکا ہے ۔ دوسری جانب کیمپس فرنٹ آف انڈیا ضلعی شاخ کی جانب سے سیہادرآرٹس ، کامرس اینڈ سائنس کالج میں مسلم طلباءو طالبات کو حراساں کرنے، لڑکیوں کو دھمکی دینے اور لڑکیوں پر حملہ کرتے ہوئے برقعہ نہ پہننے کیلئے جو دباﺅ ڈالا جارہا تھااس پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر احتجاجی دھرنے کا انعقاد کیا گیا تھا۔اس احتجاجی دھرنے میں طلباءوطالبات کے ساتھ ساتھ ان کے سرپرست و شہر کی عوام نے شرکت کی ۔سی ایف آئی کے کارکنوںنے اس موقع پر کہا کہ ماضی میں کوئمپویونیورسٹی اور اس کے ماتحت آنے والے کالجوںمیں یکجہتی کا ماحول تھا،برسوں سے کالج میں لڑکیاں برقعہ پہن کر آتی رہی ہیں،لیکن حالیہ دنوں میں اے بی وی پی کے کارکن اور کالج کے باہر سے شر پسند طاقتیںکالج میں ہنگامہ آرائی کررہے ہیں اور یونیفارم کومدعہ بنا کر برقعہ کے حق کو چھیننے کی کوشش کررہے ہیں۔اس سے پہلے بھی منگلور،مڑکیری اور ہاویری ضلع میں بھی اس طرح کی مذموم کوشش کی تھی،مگر ان کی کوششیں جمہوری نظام کے سامنے ضائع ہوئی ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ یونیفارم اور برقعہ کے تعلق سے ریاستی حکومت کے وزیر بسوراج رایا ریڈی احکامات جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ یونیفارم کے نام پر طلباءیا طالبات کو اگر ذہنی یا جسمانی تشدد کا شکار کیا جاتا ہے تو ایسی طاقتوں پر قانونی کارروائی کی جائیگی ۔ باوجود اس کے اے بی وی پی کے کارکنان اپنی شر انگیز حرکتوں کوا نجام دے رہے ہیں۔سی ایف آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ سیہادری کالج کے کیمپس میں جن طلباءپر جسمانی حملے کئے گئے ہیںان ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ، طالبات کو کالج کے احاطے میں معقول تحفظ فراہم کیا جائے،تعلیمی اداروںمیں شر پھیلا رہی تنظیموں پر پابندی عائد کی جائے اور ایسے شر انگیز و ا قعات کو خاموشی کے ساتھ بڑھاوا دے رہے تعلیمی اداروں اور اس کے ذمہ داروں پر قانو نی کارروائی کی جائے احتجا جی دھرنے میں کیمپس فرنٹ آف انڈیا کے ضلعی صدر محمد عارف،سید رضوان ، سکریٹری فیصل، دستگیر ، شکیب ،عبید اللہ ، شہباز،فاروق وغیرہ موجود تھے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/N85eX

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے