Breaking News
Home / اہم ترین / شام و عراق آگ اور خون کی بستی

شام و عراق آگ اور خون کی بستی

نہال صغیر
بہار عرب جس نے عرب کے لوگوں کو برسوں سے مسلط آمریت سے چھٹکا را پانے کی قوت بخشی ۔آج وہی بہار عرب ان کے لئے آگ و خون کا دریا بن چکا ہے ۔چار سال قبل جب شام کے عوام نے تین دہائیوں سے مسلط اسدخاندان کی آمریت اور اس کے ظلم و ستم سے آزاد ہونے کا فیصلہ کیا تو بشار الاسد ایک ماہ میں ہی شام چھوڑ کر بھاگنے کا پورا منصوبہ بنا چکا تھا ۔سونے سے لدے ٹرک اس نے روس بھجوادیا تھا ۔ لیکن ایران نے یہ دیکھا کہ اگر شام سے بشار الاسد کے قدم اکھڑ گئے تو پھر ایران علاقے میں اپنے ناپاک عزائم کو پورا نہیں کرپائے گا ۔پھر اس نے اپنی ساری قوت شام میں بشار الاسد کی حکومت کو بچانے میں جھونک دی ۔لیکن شام میں آزادی کی جنگ لڑ رہے مجاہدین نے بھی اپنی جان کی بازی لگا کر ایران کو بھی ناکام بنا دیا ۔قریب تھا کہ ایران کا غرور بھی شام میں دفن ہو جاتا کہ اس نے اپنے آقا روس کو دعوت دی شام میں ایران کو بڑی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے اس نے دسیوں اہم فوجی سربراہ اس جنگ کی بھٹی میں جھونکے ہیں ۔ایسے ہی پاسداران انقلاب اور متعدد ملیشیا کی سربراہی انجام دینے والے ایک جنرل حسین ہمدانی کی ایک راکٹ حملے میں ہلاکت کے بعد جواد غفاری کو وہاں کی کمانڈ سونپی گئی تھی۔بشار الاسد نے جو سونے سے بھرے ٹرک روس بھیجے تھے اس کی قیمت ادا کرنے روس بھی آگیا اور پھر شروع ہو گیا تاریخ کا المناک ترین خونریزی کا دور جس میں شام کے عوام ڈوب کر تقریبا فنا کے قریب پہنچ چکے ہیں۔حلب کے فنا کے گھاٹ پہنچنے اور چار لاکھ سے زیادہ عوام کے قتل عام کے بعد ایران اور ایران نوازوں کے حوصلے کافی بلند ہیں جب ہی وہ انسانیت سے گرے ہوئے بیانات دے رہے ہیں ۔العربیہ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے سینئر جنرل جواد غفاری حلب میں محصور تمام لوگوں کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتاردینے کے لئے کہہ رہے ہیں ۔یہ بات محض افواہ یا العربیہ کا تعصب نہیں ہے ۔ایسے دسیوں وڈیو ہیں جس میں ایران اور ان کے ہمنوا ؤں کو سنی مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کرتے دکھایا گیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل جواد غفاری ایران نواز سولہ ملیشیا کے سربراہ ہیں ۔جواد غفاری کا کہنا ہے کہ اگر عام لوگوں کو جانے کی اجازت دی گئی تو ان کے ساتھ حکومت مخالف افراد بھی نکل جائیں گے ۔پاکستان کے معروف کالم نگار اوریا مقبول جان نے ٹھیک ہی لکھا ہے کہ لبیک یا حسین کی صدا بلند کرنے والوں نے جو گھناؤنے کارنامے انجام دیئے ہیں اس کے بعد انہیں انسان تو نہیں کہا جانا چاہئے ۔
شام و عراق میں باطل سے برسر پیکار افراد نے تو اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہادیا لیکن پیچھے نہیں ہٹے ۔وہ جبتک ڈٹے رہے آسمان سے سفید ریچھ اور ایران کے اسلامی انقلاب کے نام نہاد ٹھیکیدار ان پر آگ برساتے رہے لیکن وہ اس کی پرواہ کئے بغیر ظالم اسدی حکومت کے سپاہ سے لڑتے رہے ۔لیکن ان کے آس پاس کے امراء و روساء خاموش تماشائی بنے رہے ۔مجھے تاریخ میں کہے گئے وہ زرین الفاظ آج سب سے زیادہ یاد آرہے ہیں جب شام و ایران کی فتح کے وقت مسلمانوں کی طرف سے کوئی سفیر ان کے پاس جاتا تو وہ ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ تم ہم سے کچھ دولت لے لو اور چلے جاؤ ۔قیصر و کسریٰ انہیں دور جہالت میں ان کی حالت کا طعنہ دیتے ۔مسلمان سفیر بڑے تحمل سے جواب دیتے کہ وہ دور بیت گیا اب ہم تم کو اسلام کی دعوت دیتے ہیں اسے قبول کرلو یا جزیہ دو یا پھر ہماری تلوار فیصلہ کرے گی ۔انہیں وہ اپنی طاقت سے ڈراتے تو وہ کہتے کہ ہم موت سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی تم زندگی سے کرتے ہو ۔شام کے مجاہدین نے تو ثابت کردیاکہ وہ موت سے محبت کرتے ہیں ۔ لیکن دنیا کے مسلمانوں کو زندگی ہی عزیز ہے جس کا وقت متعین ہے اس سے ایک ساعت بھی کوئی زیادہ نہیں جی سکتا ۔لیکن اس زندگی کی محبت نے انہیں اتنا نکما اور بزدل بنادیا ہے کہ وہ اپنے بھائی کی مدد کو نہیں پہنچ سکتے ۔ساری دنیا میں بس دین پر والہانہ طور پر فدا نوجوان ہی ہیں جو کہیں بھی آتے جاتے مشکلوں سے گزرتے ہیں ۔دہشت گرد کا تمغہ اپنے ناموں کے ساتھ سجائے گھومتے ہیں لیکن وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال نہیں کرتے وہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں ان کا درد ان کے لئے مشترک ہے خواہ وہ مسلمان مغرب کا ہو کہ مشرق یا شمال کا ہو کہ جنوب کا ۔ دیکھئے ایران اپنے ملیشیا پال بھی رہا ہے ۔اس کی ہر طرح سے مدد بھی کر رہا ہے اور شام و عراق میں خون کی ندیاں اور آگ کی بارش کرنے میں ان کا استعمال بھی کررہا ہے ۔لیکن یہ عرب دنیا کسی بھی ملیشیا کی شروع میں تو مدد کرتے ہیں لیکن جیسے ہی انہیں خطرہ ہو تا ہے کہ ان کی خاندانی تانا شاہی اور آمریت والی بادشاہت بھی خطرے میں ہے تو فوراً وہ دنیا کی آواز میں آواز ملانے لگتے ہیں ۔ان کے سامنے وہی نوجوان جو کل تک ان کے لئے مزاحمت پسند ہو ا کرتے تھے اچانک دہشت گرد ہو جاتے ہیں ۔ان کے اس سوچ کا فائدہ آج ایران اٹھا کر پورے علاقے کو اپنے زیر اثر کر چکا ہے ۔اب ان کی ملیشیا کے لوگ کھلے عام کہتے ہیں کہ وہ بحرین اور یمن میں بھی مداخلت کریں گے ۔حالانکہ یہ ابھی اتنا آسان نہیں کیوں کہ وہ تنظیمیں جنہیں دنیا دہشت گرد کہہ کر بد نام کرتی ہے اتنے کمزور یا ختم نہیں ہوئے ہیں۔صرف ایک شہر پر قبضہ کرلینے سے وہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا ہے انہوں نے تحریک کو ختم کردیاہے ۔لیکن ایرانی جنرلوں اور ان کی ملیشیا کے بڑ بولے پن سے عربوں کو تو ضرور سبق لینے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی خاندانی حکومت کی زیادہ فکر کریں یا پھر عرب کی شناخت اس کے وجود و بقا اور سلامتی کے لئے ایسی پالیسی بنائیں کہ خواہ ان کی خاندانی بادشاہت رہے یا جائے لیکن عرب پر کوئی بد عقیدہ حکومت نہ حاوی ہونے پائے ۔اسی سوچ کے تحت انہیں ہر حال میں ملیشیا کو فروغ دینا ہو گا ۔ورنہ ایران وہ جو اسلام کی آمد کو ہضم نہیں کرپایا ہے وہ پورے خطہ کو ہڑپ کرجائے گا۔اس نے یہیں نہیں اب سے قبل بھی ایسی ہی گھناؤنی حرکت کی ہے ۔اس نے امل ملیشیا کے ذریعہ لبنان میں فلسطینیوں اورفلسطینی تنظیموں کو ختم کرنے میں اہم رول نبھایا پھر ایران نے امل ملیشیا کو ختم کرکے حزب اللہ کو جنم دیا ۔تاکہ دنیا امل ملیشیا کے ذریعہ ڈھائے گئے ظلم کو بھلادے ۔ ایران نے اپنی منافقت کو چھپانے کے لئے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کا ناٹک کرکے انہیں زبانی ہمدردی سے اپنا ہمنوا بنایا ۔لیکن اب تو عالم اسلام کو عموماًاور تحریکی احباب کو خصوصاً ایران کی منافقت اور مسلمانوں کے پیٹھ میں اس کا خنجر پیوست کرتا نظر آ رہا ہوگا ۔اگر اب بھی انہیں سمجھ نہ آپائے تو فرشتہ اجل انہیں سمجھا دے گا ۔
ایک جانب اس حلب کی بربادی کی داستان ہے جس نے کئی انقلاب دیکھے ہیں ۔اس نے تباہی مچادینے والا زلزلہ دیکھا ہے اس نے منگولوں کا حملہ بھی دیکھا ہے ۔دوسری جانب عالم اسلام میں سوائے چند رسمی مذمتی بیان اور کچھ میٹنگیں اور سمینار کے کچھ نظر نہیں آتا ۔حلب کی بربادی پر ایک پاکستانی کالم نگار نے کچھ یوں بیان کیا ہے ’’لیکن واللہ یہ وقتی تباہی ہے ،شہر دوبارہ بس جاتے ہیں ،نسلیں دوبارہ آباد ہو جاتی ہیں ، راہیں روشن ہو جاتی ہیں ،شہر زندہ ہو جاتا ہے ۔تو تباہی کیا ہے ؟ تباہی امید کھودینا ہے ،جستجو چھوڑ دینا ہے ،منزل پر سے یقین اٹھ جانا ہے ،یقین گر زندہ ہو ،تو امید جستجو کو زندہ رکھتی ہے ۔ہر تاریک شب کے بعد اجالا ہے ۔ ہر تباہی کے بعد تعمیر ہے ۔ہر نئی تعمیر پچھلی سے زیادہ مضبوط ہو تی ہے ‘‘۔ ہم بھی مایوس نہیں ۔عرب کی زمین قیامت کی صبح تک بانجھ نہیں ہو گی ۔وہ ایسے لعل و گوہر پیدا کرتی رہے گی جو تاریخ عالم میں حریت کی داستان رقم کرواتے رہیں گے ۔بشار الاسد کے باپ نے بھی حماۃ شہر کو تباہ کیا تھا اسی ہزار سے زائد افراد کا خون بہایا تھا ۔عالم عرب میں پچھلی ایک صدی سے اخوان المسلمین کے جیالے اسلام کی شادابی اور امت کی سربراہی کے لئے اپنی قربانیاں پیش کرتے رہے ہیں ۔حافظ الاسد مرگیا لیکن اسلام پسند اپنی پوری قوت کے ساتھ رہے اور انشاء اللہ ایک بار پھر وہ آئیں گے ۔لیکن بشا رالاسد نہیں ہو گا وہ بھی زمین کی خوراک بن چکا ہوگا ۔لیکن ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں تبدیل ہو تی صورت حال کیا کہانی بیان کررہی ہے ۔ہم آج بھی برسوں پرانے قائم کئے گئے کسی ایک نکتہ کے گرد گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اس سے الگ ہٹ کر کچھ سوچنے کے قابل شاید ہم رہے ہی نہیں۔انشاء اگلے مضمون میں اس کے تعلق سے لکھوں گا ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/gC6eU

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے