Breaking News
Home / تازہ ترین / شرم تم کو مگر نہیں آتی!                   از: ایس اے ساگر

شرم تم کو مگر نہیں آتی!                   از: ایس اے ساگر


baba

کتنی عجیب بات ہے کہ یکے بعد دیگرے عیاش باباوں کے چہرے بے نقاب ہورہے ہیں لیکن عقل کی دشمن خواتین سنبھلنے کو تیار نہیں ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات شاہد ہیں کہ خواتین کا جنسی استحصال کرنے والا ایک اور آسا رام گرفتار ہوگیا ہے جو اولاد کے نام بھولی بھالی خواتین سے منہ کالا کرتا تھا، ویڈیووائرل ہونے کے بعد عوام کے سامنے آیا بابا با کا اصلی چہرہ تو بے نقاب ہوگیا لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اندھی عقیدت کو بصیرت نصیب ہوگئی ہے۔

زعفرانی چولہ کی کھلی پول :

بھگوا چولے کی آڑ میں پوجا پاٹ اور اولاد کے حصول کی پوجا کے نام پر خواتین کا جنسی استحصال کرنے والا اب ایک اور پاکھنڈی بابا سلاخوں کے پیچھے پہنچ چکا ہے۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ منٹوں میں 'دہشتگردوں' کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانے والی پولیس 12 دن سے تگ و دو میں تھی جبکہ اس آنکھ مچولی کو کھیلنے والا پاکھنڈی بابا آخر کار شکنجہ میں آ ہی گیا۔

دو ریاستوں کی پولیس کا کارنامہ :

اترپردیش کی پولیس کی پیٹھ تھپتھپائیے کہ اس نے پاکھنڈی بابا پرمانند عرف رام شنکر تیواری کو تلاش کر ہی لیا۔ یہ الگ بات ہے کہ جیسے ہی اس کے کالے کرتوتوں کا بھانڈا پھوٹا تو وہ اپنا چیلوں سمیت آشرم چھوڑ کر 'فرار' ہو گیا۔ اپنی 'فراری' کے دوران بھی یہ زناکار بابا پولیس کے ساتھ آنکھ مچولی اور قانونی داو پیچ کا کھیل کھلنے سے باز نہیں آیا۔ لیکن پولیس نے آخر کار اس عیاش بابا کو مدھیہ پردیش کے ستنا سے گرفتار کر ہی لیا۔

واہ رے بابا تیواری :

بابا تیواری کیخلاف الزامات انتہائی سنگین ہیں۔ اس پاکھنڈی پر الزام ہے بھگوا چولے اور آستھا کے نام پر بھولی بھالی عورتوں کا جنسی استحصال کرکے ان کو بلیک میل کیا کرتا تھا۔ اس ڈھونگی بابا نے اپنا عیاش لوک عرف 'آشرم' یوپی کے دارالحکومت لکھنو? کے بالکل قریب بارہ بنکی میں ہی بنا رکھا تھا جہاں لوگ اسے ’شکتی بابا‘کے نام سے پوجتے تھے۔ گزشتہ 25 سال سے بارہ بنکی کے دیوا میں یہ ڈھونگی خواتین کا جنسی استحصال کر رہا تھا۔ جب اس کے ڈھونگ کا بھانڈہ پھوٹا ہوا تو اس کا اصلی چہرہ عوام الناس کے سامنے آیا۔ 11 مئی کو اس کے ڈھونگ کا پردہ فاش ہوا اور 12 مئی کو پولیس نے اس ڈھونگی بابا کیخلاف مقدمہ درج کیا۔ اس کے بعد پولیس نے اس ڈھونگی کے آشرم کو بھی مہر بند کر دیا۔

کہاں سوتی رہی انتظامیہ؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر 25 سال سے مرکزی دارالحکومت دلی سے متصل یوپی میں بیٹھ کر یہ بابا اپنی عیاشی کی دکان کیسے چلا رہا؟ لیکن اس کا کیا کیجئے کہ اس کے گناہوں کاپیالہ لبریزہو چکا تھا۔ بابا کی ڈھٹائی کا اندازہ کیجئے کہ وہ خواتین کا نہ صرف جنسی استحصال کرتا بلکہ ان کا ایم ایم ایس بھی تیار کرکے اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کر لیتا تھا۔ ایک دن اس کا کمپیوٹر خراب ہو گیا۔ تو اسے آشرم سے باہر ایک دوکان میں ٹھیک کروانے بھیجا گیا۔ کمپیوٹر ٹھیک کرنے والے انجینئر نے جب کمپیوٹر میں پڑے بابا کے فحش ویڈیوز دیکھے تو وہ حیران رہ گیا۔ لیکن بابا کے خلاف براہ راست منہ کھولنے کا انجام بھی وہ جانتا تھا۔ اس لئے اس نے بابا کے فحش ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیاجس سے عوام الناس کے سامنے بابا کا اصلی چہرہ سامنے آگیا۔ 

خواتین کو آیا ہوش:

سوشیل میڈیا پر بابا کی عیاشی کے ویڈیو سامنے آنے پر اب تک خاموش بیٹھی ہوئی بابا کی شکار خواتین نے بھی زبان کھولی جس سے اس ڈھونگی بابا کا کا پورا کچا چٹھا مزید نکھر کر سامنے آیا۔ یہ ڈھونگی بابا ان شادی شدہ خواتین کو اپنا شکار بناتا تھا جو بیٹا پیدا کرنے کی متمنی ہوتی تھیں۔ بابا کے چیلے ایسی خواتین کو اپنے دام فریب میں پھنساتے تھے اور دعوی کرتے تھے کہ شکتی عرف خصوصی پوجا سے انہیں ہر حال میں بیٹا عطا کرے گا۔ اس کے بعد جب ایسی خواتین بابا کے پاس جاتیں تو یہ ڈھونگی ان سے پوجا پاٹھ کے نام پرنہ صرف موٹی رقم بھی اینٹھتا تھابلکہ رات میں انہیں اکیلے آشرم میں بلاتا تھا۔ 

مزید تفتیش جاری:

جب عورت رات میں آشرم پہنچتی تھی تو اس کی پوجا کے عنوان پر ایک کمرے میں تن تنہا لے جاکر اس کے ساتھ منہ کالاکرتا تھا۔ الزام ہے کہ منافق بابا ایک بار نہیں دو مرتبہ خاتون کا جنسی استحصال کرتا تھا اور اس کا ویڈیو بھی بنالیتا تھا۔ فحش ویڈیو کے ذریعہ وہ خواتین کو بلیک میل کرتا تھا کہ اگر وہ زبان کھولی تو وہ انہیں بدنام کر دے گا۔ بہتان اور عوام میں بے عزتی کے خوف سے خواتین اپنی زبان بند رکھتی تھیں لیکن کمپیوٹر بگڑنے سے بابا کا یہ عیاش چہرہ دنیا کے سامنے آیا۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد بعد متعدد خواتین نے بھی بابا کے خلاف رپورٹ درج کروائی ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ گرفتاری سے عین قبل بھی 2 خواتین نے اس بابا کے خلاف کیس درج کروایا ہے جسے بیٹا ہونے کے لئے خصوصی پوجا کے نام پر روپے اینٹھے گئے تھے۔ پولس بابا کیخلاف مزید تفتیش میں مصروف ہے

( مضمون نگارکی رائے  سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/3vGiE

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے