Breaking News
Home / اہم ترین / شریعت میں مداخلت سے پہلے مودی حکومت کو ہماری لاشوں پر سے گزرنا ہوگا۔ اورنگ آباد میں احترام شریعت کانفرنس میں مسلم خواتین کی للکار

شریعت میں مداخلت سے پہلے مودی حکومت کو ہماری لاشوں پر سے گزرنا ہوگا۔ اورنگ آباد میں احترام شریعت کانفرنس میں مسلم خواتین کی للکار

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی معزز رکن پروفیسر مونسہ بشری کا ولولہ انگیزخطاب، طلاق ثلاثہ بل کو بتایا یکساں سول کوڈ کی طرف پہلا قدم   

اورنگ آباد(ہرپل نیوز،اظہر الدین)16جنوری۔ طلاق ثلاثہ کی آڑ میں مودی حکومت شریعت اسلامی پر قدغن لگانا چاہتی ہے یہ دراصل یکساں سول کوڈ کی طرف پہلا قدم ہے تاہم مسلمان کسی بھی صورت میں شریعت میں مداخلت کو قطعی برداشت نہیں کرینگے ، مودی حکومت کو یکساں سول کوڈ کے نفاذ اور شریعت میں مداخلت سے پہلے ہماری لاشوں سے گزرنا ہوگا، ان ولولہ انگیز خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی معزز رکن پروفیسر مونسہ بشری نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا محترمہ اورنگ آباد میں ایک روزہ احترام شریعت کانفرنس سے خطاب کررہیں تھیں۔ملّی جاعتوں کی نمائندہ فیڈریشن مسلم نمائندہ کونسل کی رہنمائی میں ایک روزہ احترام شریعت کانفرنس ہوئی اس کانفرنس میں ریاست کے مختلف اضلاع سے خواتین نے شرکت کی ، کانفرنس میں اسلام کا مثالی خاندانی نظام اور دنیا پر اس کے مثبت اثرات، طلاقہ ثلاثہ بل اور اس کے اثرات، اسلامی شریعت میں مداخلت کیوں ناقابل برداشت ہے اس پر خاتون مقررین نے حوالہ جات اور اعداد وشمار کی بنیاد پر مفصل روشنی ڈالی اس کے علاوہ ملک کے موجودہ حالات اور ملت اسلامیہ کو درپیش مسائل وچلینجیز کا بھی جائزہ لیا گیا،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی معزز رکن پروفیسر مونسہ بشری نے اپنے صدارتی خطاب میں مسلم خواتین کو شریعت اسلامی کی مکمل پاسداری کی تلقین کی ، ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ حکومت طلاق ثلاثہ کے معاملے میں اتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کیوں کررہی ہے، پروفیسر مونسہ بشری کے مطابق حکومت کو مسلم خواتین سے کوئی ہمدردی نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو گجرات میں جو کچھ ہوا وہ نہیں ہوتا جس شخص نے اپنی بیوی کا حق ادا نہیں کیا وہ دوسروں کا کیاحق ادا کریگا ، پروفیسر مونسہ بشری کے مطابق مسلم مردوں کو جیلوں میں ٹھونسنے کی مودی حکومت کی یہ سازش ہے دراصل محمد اخلاق، افرازلاسلام اور دیگر مسلم نوجوانوں کا قتل کرنے کے باوجود ان کی نفرت کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی اس لیے اب وہ طلاق کی آڑ میں مسلم مردوں کو جیلوں میں ٹھونسنا چاہتے ہیں پروفیسر مونسہ بشری نے واضح کیا کہ اسلامی نظام حیات سے بڑھ کر کوئی نظام حیات خواتین کے تحفظ کی ضمانت نہیں دیتا لیکن اس کے باوجود تین طلاق کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ، جبکہ حقیقت یہ ہیکہ مسلمانوں میں طلاق کا تناسب دیگر اقوام سے کافی کم ہے سب سے آخر میں مسلمانوں کا نمبر آتا ہے لیکن مودی حکومت ایسے ظاہر کررہی ہے مانو مسلمان مردوں کو طلاق دینے کے سوا کوئی کامنہیں

رہ گیا ہےپروفیسر مونسہ بشری نے اپنے تفصیلی خطاب میں حکومت کی نیت پر کئی سوال اٹھائے اور یہ واضح کردیا کہ طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت اور شریعت میں مداخلت کے خلاف ہم کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیا ر ہیں ضرورت پڑی تو پارلیمنٹ کا بھی گھیراؤ کیا جائیگا اور ہر محاذ پر آواز اٹھائی جائے گی، پروفیسر مونسہ بشری نے طلاق ثلاثہ کے خلاف عدالت کا رخ کرنے والی عشرت جہاں اور سائرہ بانو جیسی خواتین کی حقیقت سے بھی سامعین کو آگاہ کیا ان کا کہنا ہیکہ سائرہ بانو کو ان کے شوہر نے نہیں چھوڑا بلکہ وہ کسی اور کے ساتھ فرار ہوگئی اور اب حکومت کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر مظلومیت کا ڈھونگ رچا رہی ہے، اس موقع پر بیڑ سے پہنچی ایڈوکیٹ عاصمہ پٹیل نے طلاق ثلاثہ بل کی خامیوں کو اجاگر کیا اور یہ سوال اٹھایا کہ جب تین طلاق دینے کے باوجود حکومت کی نظر میں طلاق واقع نہیں ہوتی تو پھرشوہر کو تین سال کی سزا کیوں دی جارہی ہے ، اور شوہر جب جیل میں چلا جائیگا تو پھر مطلقہ کا نان و نفقہ کیا حکومت ادا کریگی ، برادران وطن میں طلاق کا نظا م نہ ہونے کی وجہ سے کیا خرابیاں در آئی ہیں کیسے دیگر اقوام کی بیوہ خواتین کو بنارس کے ورنداون میں بے بسی اور بے کسی کی حالت میں چھوڑدیاجاتا ہے ایسی خواتین کی تعداد لاکھوں میں ہے اتنا ہی نہیں بلکہ وہ خواتین جوبیاہی توگئی لیکن ان کے شوہوں نے طلاق دیئے بنا چھوڑ دیا ایسی خواتین کی تعداد 24لاکھ سے زیادہ ہیں جو برسہا برس سے قانونی جھمیلوں میں الجھی ہوئی ہیں لیکن انھیں انصاف نہیں مل رہا ہے ایسی خواتین کے سامنے اسلام کی حقانیت آجائے اور مسلمان شریعت اسلامی پر کار بند ہوجائے تو یہ مظلوم خواتین دامن اسلام میں پناہ لینے کے لیے بے تاب ہوجائیں گی لیکن ضرورت اس بات کی ہیکہ مسلمان اسلام کی عملی تصویر پورے اخلاص سے پیش کریں ، پروفیسر مونسہ بشری نے یہ بھی کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عائلی مسائل میں اصلاح کی ضرورت ہے لیکن یہ اصلاح اندر سے ہوگی یہ ہمارے داخلی مسائل ہیں اس کا حل ہمارے اکابرین اور مسلم پرسنل لا بورڈ کرے گا لیکن ہم کسی عدالت اور حکومت کی مداخلت کو قطعی برداشت نہیں کرینگے ، کانفرنس میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے شرکت کی اور اپنی ملی بیداری کا عملی ثبوت دیا یہ کانفرنس دوپہر دیڑھ بجے سے سہ پہر ساڑھے چار بجے تک چلی آخر میں پروفیسر مونسہ بشری کی دعا پر احترام شریعت کانفرنس کا اختتام عمل میں آیا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Aimyg

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے