Breaking News
Home / اہم ترین / شمالی کرناٹک میں بند کے دوران پولیس کی بربریت; خواتین اور معمر افراد کو بھی پولیس نے نہیں بخشا

شمالی کرناٹک میں بند کے دوران پولیس کی بربریت; خواتین اور معمر افراد کو بھی پولیس نے نہیں بخشا

بنگلور۔30 جولائی (عبدالحلیم منصور؍ایس او نیوز) مہادائی سے کرناٹک کو پانی کی فراہمی سے ٹریبونل کے انکار پر احتجاج نے آج شمالی کرناٹک میں جہاں پر تشدد شکل اختیار کرلی تھی، وہیں نول گند میں پولیس کی بربریت پر عوام میں شدید غم وغصہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔ جنوبی کرناٹک اور قدیم میسور میں بھی بند کا زبردست ردعمل دیکھا گیا، جبکہ راجدھانی بنگلور میں بند پوری طرح کامیاب رہا۔ 1200 سے زائد تنظیموں کی آواز پر مہادائی مسئلہ پر منایا گیا بند ریاست کے پانی کی حفاظت کے معاملہ میں عوامی اتحاد کا عکاس بن کر سامنے آیا۔ خاص طور پر شمالی کرناٹک کے علاقوں میں پولیس کی طرف سے کی گئی کارروائی پر عوام میں شدید مزاحمت کا اظہار کیا گیا۔

شہر بنگلور اور ریاست بھر میں بند کے دوران جہاں سرکاری ٹرانسپورٹ نظام معطل رہا،وہیں  پرائیویٹ گاڑیاں بھی سڑکوں سے غائب رہیں،جس کی وجہ سے مسافروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم پینے کے پانی کی خاطر ریاستی اور مرکزی حکومت پر زور دینے کیلئے عوام نے جس یگانگت کا اظہار کیا اس کا گہرا اثر آنے والے دنوں میں ضروردیکھنے کو ملے گا۔ مہادائی آبی ٹریبونل کے ذریعہ کرناٹک ممبئی کے علاقے کے پانچ اضلاع میں 7.56 ٹی ایم سی پانی چھوڑنے کے مطالبات کو خارج کئے جانے کے خلاف آج منعقد ہ بند کا ملا جلا اثر نظر آیا اور اس دوران نارگنڈ اور نول گنڈ میں پرتشدد مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جس میں خواتین سمیت کئی افراد زخمی ہو گئے۔

بنگلور اور کرناٹک ممبئی کے علاقے کے پانچ اضلاع میں بند کا وسیع اثر نظر آیا،جبکہ میسور اور منڈیا ضلع میں بند کا کچھ خاص اثر نہیں رہا۔ اس کے علاوہ کلبرگی، رائیچور، بیدر اور دیگر اضلاع میں بند کا زیادہ اثر نہیں رہا۔کنڑ حمایت یافتہ تنظیموں کے بند کے اعلان کے بعد کرناٹک ممبئی علاقے کے دھارواڑ، گدگ اور باگلکوٹ میں بند کا وسیع اثر نظر آیا، جبکہ میسور کے پرانے علاقوں میں بند کا کچھ خاص اثر نہیں دکھا۔ہبلی سے موصولہ رپورٹ کے مطابق مہادائی آبی ٹریبونل کے ذریعہ کرناٹک ممبئی علاقے کے پانچ اضلاع میں 7.56 ٹی ایم سی پانی چھوڑنے کے مطالبات کو مسترد کئے جانے کے خلاف نول گنڈ شہر اور آس پاس کے دیگر گاؤں میں چند واقعات ہونے کی اطلاع ملی ہے۔مہادائی آبی ٹریبونل کے فیصلے کے بعد دو دن پہلے دھارواڑ میں ہوئے تشدد کے بعد ممبئی۔کرناٹک علاقے کے متاثرہ اضلاع میں ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کو تعینات کیا گیا۔بند کے دوران دھارواڑ، گدگ، ہاویری، بباگل کوٹ اور بیلگاوی اضلاع میں اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کو بھی سڑکوں پر نہیں اتارا گیا، جبکہ پرانا میسور میں کے ایس آرٹی سی کی بسیں معمول کے مطابق چلتی رہیں۔بنگلور اور دھارواڑ کو چھوڑ کر دیگر علاقوں میں اسکول اور کالجوں میں معمول کے مطابق کام ہوتا رہا۔ بند کی وجہ سے پوری ریاست میں سرکاری اور نجی بینکوں کے کام کاج میں کسی بھی طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔بند کی حمایت میں ریاست کے کئی اضلاع میں مختلف تنظیموں نے پٹرول پمپ بند رکھے۔دریائے مہادائی سے مالا پربھا طاس کو7.6 ہزار ملین کیوزک فیٹ پانی منتقل کرنے کرناٹک کی عرضی کو مہا دائی واٹر ڈسپیوٹ ٹریبونل کی جانب سے مستردکرنے کے خلاف کرناٹک میں آج یہ بند منایاگیا۔ مرکزی حکومت کے دفاتر کے باہر اضافی سکیوریٹی فراہم کی گئی،کیونکہ کنڑ تنظیموں نے اس بند کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔ بند کے موقع پر تمام تجارتی ادارے ' اسکولس ' کالجس اور سرکاری دفاتر بند رہے۔کرناٹک فلم چیمبر آف کامرس نے سنیما گھرو ں میں فلموں کی نمائش روکنے کا فیصلہ کیا۔ اس ٹریبونل نے دریا سے 7.6 ہزار ملین کیوزک فیٹ پانی فراہم کرنے حکومت کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ اس سے پروجیکٹ کو ماحولیاتی نقصان ہوگا۔ کرناٹک جس کے مہا دائی دریا کے پانی پر پڑوسی ریاست گوا سے شدید اختلافات ہیں،نے ٹریبونل میں عرضی داخل کرتے ہوئے کالا سا۔ بنڈوری نالہ پروجیکٹ سے 7.6 ہزار ملین کیوزک فیٹ پانی جاری کرنے کی ٹریبونل سے خواہش کی تھی

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Ermyp

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے