Breaking News
Home / اہم ترین / شمس اسکول میں طلبہ و طالبات کوانجکشن لگوانے کے سلسلے میں عوامی اعتراض کے بعد اسکول انتظامیہ کی وضاحتی پریس ریلیز

شمس اسکول میں طلبہ و طالبات کوانجکشن لگوانے کے سلسلے میں عوامی اعتراض کے بعد اسکول انتظامیہ کی وضاحتی پریس ریلیز

بھٹکل(ہرپل نیوز؍ پریس ریلیز):20/فروری ۔ شمس انگلش میڈیم اسکول میں دڑھار اور روبیلا انجکشن کو لےکر والدین و سرپرستوں کی انتظامیہ اور اساتذہ کے ساتھ ہوئی  ہنگامہ خیزی کے بعد اسکول کی انتظامیہ کے چیرمن و سکریٹری  کی طرف سے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے وضاحت کی گئی ہےکہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایم آر ویکشن مہم کے متعلق شمس اسکول انتظامیہ نے طئے کیا تھا کہ جو والدین اور سرپرست بچوں کو انجکشن دینے کےلئے تیار ہیں ان بچوں کو ہی انجکشن دیا جائے ۔ مسلم تعلیمی اداروں میں مہم حتی الامکان کامیاب نہ ہونے اور والدین میں غلط فہمیوں کے ازالے کو لے کر تحصیلدار دفتر میں بھٹکل تحصیلدار کی صدارت میں مسلم اسکولس کے نمائندوں سمیت تعلقہ میڈیکل آفیسر، تنظیم ، رابطہ کے نمائندے اور بھٹکل کے معتبر سماجی کارکنان کے ساتھ میٹنگ منعقد کی گئی جس میں تحصیلدار نے بھٹکل میں جاری مہم کی پوری تفصیلات پیش کرنے کے بعد کہاکہ متعلقہ خبر اترکنڑا ضلع کے ڈی سی کو پہنچی تو وہاں سے آر ڈر دیا گیا ہے کہ بھٹکل میں جتنے بھی اسکولوں میں مہم سوفی صد نہیں چلائی گئی ہے  وہاں صدفی صد ٹیکے لگائے جائیں۔ اور جن اسکولوں کے بچوں نے ابھی تک ٹیکے نہیں لگائے ہیں ان کو بھی ٹیکے لگائے جائیں۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ تحصیلدار کی اس وضاحت پر میٹنگ میں موجود تمام قومی ذمہ داروں نے اتفاق کیا اوریہی وجہ ہے کہ شمس اسکول میں طلبا کو انجکشن دیاجانے لگا البتہ ان بچوں کو بھی ٹیکے لگائے گئے جن کے والدین نے منع کیا تھا۔ اس سلسلے میں انتظامیہ  نے والدین اور سرپرستوں   کو موبائیل کے ذریعے مسیج بھیج کر بچوں کو ٹیکہ لگانے کی اطلاع دی ۔ میسج ملتے ہی والدین اور سرپرست اسکولآئے والدین و سرپرستوں کے شکو ک ، شبہات اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے  سرکاری طبی عملے میں شامل ڈاکٹر عالیہ نے بھی انجکشن کو لے کر غلط خیالات کو دو رکرنے کی بات کہی۔ ڈاکٹر صاحبہ کی وضاحت سے مطمئن ہوکر کچھ والدین نے اپنے بچوں کو ٹیکے بھی لگوائے۔ اسی دوران چند سرپرست اور ان کے رشتہ دار نوجوانوں نے اسکول میں ہنگامہ آرائی شروع کی تو اسکول انتظامیہ نے ٹیکے لگوانا بند کردیا۔حالات کو بگڑتے دیکھ کر تحصیلدار وی این باڈکراور میڈیکل آفیسر نے اسکول پہنچ کر تمام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی لیکن حالات قابو سے باہر ہونے لگے تو تحصیلدار نے پولس کو اسکول پہنچنے کا حکم دیا ، ان سب کے باوجود نوجوانوں کا ایک گروپ اسکول میں کافی دیر تک ہنگامہ کرتارہا، جس سے ماحول کشیدہ ہوگیا۔ انتظامیہ کی طرف سے باربار سمجھانے کے باوجود کچھ افراد تقریباً دوپہر 3بجے تک ذمہ داروں سے الجھتے رہے ۔ اسی بات کو لے کر کچھ لوگ مختلف افواہوں کو پھیلا نے میں مصروف ہیں، جب کہ اسکول میں جن طلبا کو ٹیکہ لگایا گیا ہے اب تک کی اطلاع کے مطابق کہیں سے کوئی بھی ری ایکشن کی خبر نہیں آئی ہے اور سب بچے الحمدللہ ! بخیر وعافیت ہیں۔ انتظامیہ عوام اور بالخصوص والدین و سرپرستوں سے گزارش کرتی ہے کہ افواہوں پر دھیان نہ دیں، خوامخواہ پریشان نہ ہوں۔ اللہ سے دعاہے کہ خیر و عافیت کا معاملہ کرے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/U6DOi

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے