Breaking News
Home / اہم ترین / شموگہ کالج میں برقعہ پر پابندی عائد کرنے کے مطالبہ کے ساتھ سنگھ پریوار متحرک۔واقعہ کے بعد مسلم طالبات میں خوف

شموگہ کالج میں برقعہ پر پابندی عائد کرنے کے مطالبہ کے ساتھ سنگھ پریوار متحرک۔واقعہ کے بعد مسلم طالبات میں خوف

شیموگہ(ہرپل نیوز؍آج کا انقلاب)3فروری: شہر کے سیہادری آرٹس کامرس اور سائنس کالج میں مسلم طالبات کے برقعہ پر پابندی عائد کرنے کے مقصد سے سنگھ پریوار کی تنظیموں نے آج جمعہ کو ہنگامہ برپا کرتے ہوئے کالج میں یونیفارم لاگوکرنے کا مطالبہ کیا اور کالج کیمپس میں لڑکیوں کو دھمکیاں دی گئی، مگر بعد میں پولس فورس نے شرپسند طلبا کو قانونی کاروائی کرنے کی وارننگ دے کر معاملے کو سلجھا دیا۔

شموگہ کی سیہادری کالج جہاں سیکولر نسلوں کو تیار کرنے کا مرکز مانی جاتی ہے، آج اسی سیہادری کالج میں سنگھ پریوار کی تنظیمیں فرقہ وارانہ زہر پھیلانے کی کوشش کررہی ہیں۔جمعرات کو یہاں کی مسلم طالبات کو برقعہ نہ پہننے کیلئے احکامات جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اے بی وی پی کے کارکنوں نے احتجاج کیا تھا۔ان کا الزام تھا کہ مسلم لڑکیاں برقعہ پہن کر آتی ہیں اور وہ یونیفارم نہ بھی پہنیں تو اس کا اندازہ کالج انتظامیہ کو نہیں ہوتا،جبکہ برقعہ نہ پہننے والے طلباء اگر کسی وجہ سے یونیفارم نہیں پہنتے ہیں تو اُن پر کارروائی کی جاتی ہے،اس وجہ سے برقعہ پہننے پر پابندی عائد کی جائے۔ اے بی وی پی کے کارکنوں کی جانب سے جب احتجاج سنگین رُخ اختیار کرگیا  تو شیموگہ شہر کے رکن اسمبلی کے بی پرسننا کمارنے وائس چانسلر اور رجسٹرار کے ساتھ تبادلہ خیا ل کیا اور کوئمپویونیورسٹی کے قانون کے مطابق یہ احکامات جاری کئے کہ ڈگری سطح کیلئے یونیفارم پہن کر کالج آنا لازم نہیں ہے،اس وجہ سے سیہادری کالج میں یونیفارم کو ضروری نہ بنا یا جائے۔جیسے ہی یہ احکامات جاری ہوئے اے بی وی پی کے کارکنوں نے ا س معاملے کو نیا رنگ دینے کیلئے اب یونیفارم کو لازمی قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے آج جمعہ کو کالج کے احاطے میں شرانگیزی شروع کردی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کالج کا ماحول کشیدہ ہوگیااور مسلم طالبات خوف محسوس کرنے لگیں۔

کالج میں پولیس کو راست داخل کرنے سے پہلے تو پرنسپال نے پرہیز کیا، بعد میں جب حالات کشیدہ ہوتے دیکھا تو کالج انتظامیہ نے پولیس کو کالج میں داخل ہونے کی اجازت دی۔ایس پی ابھینؤکھرے،اڈیشنل ایس پی ونیسٹ شانت کمار اور ڈی وائی ایس پی منجوناتھ شیٹی فوری طور پر پولیس فورس کو لیکر کالج کے احاطے میں داخل ہوئے اور اے بی وی پی کے کارکنوں کوسختی سے ہدایت دی کہ اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئینگے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائیگی۔

دوسری جانب مسلم طلباء وطالبات کو نصیحت کی گئی کہ وہ ان شرپسندوں کے جال میں نہ پھنسیں۔کالج انتظامیہ نے حالات قابو میں آنے کے بعد خصوصی نشست کا انعقاد کیا اور یونیورسٹی کی جانب سے جاری شدہ احکامات کو بحال رکھنے کی بات کہی۔احتجاج سے قبل شرپسندوں نے مسلم طالبات کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ برقعہ پہن کر آئینگی تو ان کے برقعوں کو پھاڑ کر پھینک دیاجائے گا۔اس دھمکی کے خلاف طالبات نے پولیس میں معاملہ درج کروایا ہے۔ اور سرپسندوں کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کی مانگ کی ہے۔

مسلم طلباء صبر سے کام لیں:  رکن اسمبلی کے بی پرسننا کمارنے اس سلسلے میں اخبارنویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیہادری کالج میں احتجاج کر رہے اے بی وی پی کے کارکنوں اور کوئمپو یونیورسٹی کے درمیان یہ معاملہ چل رہا ہے۔ کسی نے بھی مسلم طلباء سے برقعہ نکالنے یا برقعہ پہن کر نہ آنے کیلئے نہیں کہا ہے۔ایسے میں اس معاملے کو مسلم طلباء کالج انتظامیہ پر ہی چھوڑ دیں اور کسی بھی احتجاج میں شامل نہ ہوں۔ نظم و نسق کو بحال کرنے کی ذمہ داری کالج انتظامیہ اور پولیس کی ہے اور وہ اپنی ذمہ داریوں کوانجام دینگے، لہٰذا مسلم طلبا کو چاہئے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں۔

ہر دست میں چمکتی وحشت کی لکیریں 
برقعہ پر پابندی عائد کرنے کی سنگھ پریوار کی کوششوں پر مقامی لوگوں میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے، عوام کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور اے بی وی پی جیسی تنظیمیں ہمیشہ سے ہی پُر امن ماحول کو مکدرکرنے کی کوششیں کرتی رہی ہیں،ہمیشہ مسلمانوں کو نشانہ بنا کر سیاست کرنے کی کوشش کی گئی ہے،اس صورت میں مسلمانوں کو محتاط رہتے ہوئے ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ مقامی ذمہ داروں ک مطابق سیہادری کالج میں پردہ کے معاملے کو لیکر جو انتشار پھیلایا جارہا ہے،اُس انتشار کو حکمت کے ذریعے کم کیا جاسکتا ہے،البتہ مسلم طالبات کی ذمہ داری ہے کہ جس برقعہ کی خاطر اتنابڑا ہنگامہ ہورہا ہے،اُس پردے کے وقار کو بحال رکھا جائے اور ہر حال  میں شریعت کے تحت پردے کا استعمال کیا جائے۔اگر ایسا کیا جاتا ہے توپردے کی بحالی کیلئے جو لوگ، جو تنظیمیں اور افراد جدوجہد کررہے ہیں انہیں طاقت ملے گی اور ا س سے شر پسندوں کی کوششیں بھی ناکام ہونگی۔جو پردہ شریعت میں کہا گیا ہے اس کا بھی لحاظ رکھا جائے،کیونکہ کہا جاتا ہے کہ آج کل پردے کو بے حیائی کی سرگرمیاں انجام دینے کیلئے بھی کچھ لڑکیاں استعمال کررہی ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/LWO8e

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے