Breaking News
Home / اہم ترین / شیرخوار بچوں اور حاملہ خواتین کے لئے تغذیہ کی اسکیم متعارف

شیرخوار بچوں اور حاملہ خواتین کے لئے تغذیہ کی اسکیم متعارف

بنگلورو  (ہرپل نیوز،ایجنسی)28 ستمبر۔پرائیوٹ ہوٹل میں ہوئے پروگرام میں محکمہ بہبودیٔ خواتین و اطفال کی پرنسپل سکریٹری اوما مہادیون نے اس بارے میں اطلاع دی ہے۔ شیرخوار بچوں کی بہتر نش و نما کیلئے حاملہ خواتین کو حمل کے دنوں میں اور بچہ کی پیدائش کے بعد تغذیہ بخش خوراک دینا اس اسکیم کا اہم مقصد ہے۔ یہ سہولت اہم طور پر غریب اور دیہی علاقوں کی خواتین کیلئے ہے اور آنگن واڑی مراکز کے ذریعہ دوپہر میں گرم اور تغذیہ بخش کھانا دیا جائیگا۔ اس کے سبب حاملہ خواتین اور زچہ خون کی کمی سے بچ سکتی ہیں اور نوزائیدہ بچے بھی اپنا جسمانی وزن مقررہ حد تک رکھ سکتے ہیں۔ اس طرح صحت مند بچوں کی پیدائش سے انہیں کسی عارضہ کے لاحق ہونے کا خطرہ کم رہتا ہے  بچوں کی پیدائش سے پہلے ہی اگر حاملہ خواتین کو ٹھیک طور پر تغذیہ بخش خوراک دی جائے تو بچے صحت مند حالت میں جنم لیتے ہیں اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ حاملہ خواتین کو تغذیہ بخش خوراک فراہم کرنیکی ماتراپورنا اسکیم ابتدائی طور پر ریاست کے 4 پسماندہ ترین علاقے رائچور ضلع کا مانوی، میسور ضلع کا ایچ ڈی کوٹہ، باگل کوٹ ضلع کا جم کھنڈی اور ٹمکور ضلع کا مدھوگری تعلقہ کا انتخاب کیا گیاہے۔ یہاں 36000 حاملہ خواتین اور زچہ خواتین اس اسکیم کا فائدہ حاصل کررہی ہیں۔ اس کی کامیابی کے بعد اب یہ اسکیم ریاست بھر میں نافذ کی جارہی ہے۔ یہ اسکیم ریاست میں شیرخوار بچوں کی ترقی کے 204 اسکیموں میں شامل ہے جس سے 12 لاکھ مستحق خواتین کو 65911 آنگن واڑی مراکز سے خوراک دی جارہی ہے۔ حاملہ خواتین آنگن واڑی مراکز میں اپنا نام درج کروالیں تو اس کے فوری بعد انہیں تغذیہ بخش خوراک کی فراہمی شروع ہوجاتی ہے اور بچہ کی پیدائش کے 6 ماہ بعد تک وہ یہ فائدہ حاصل کرتی رہیں گی۔ ہرخاتون کو 600 کیلوری توانائی کے برابر خوراک،18 تا 20 گرام پروٹین پر مشتمل خوراک ہفتہ میں 6 دن دی جاتی ہے۔ اس کام کیلئے آنگن واڑی خادماؤں کو خصوصی بھتہ بھی دیا جاتا ہے۔حاملہ خواتین کی روزانہ کی خوراک میں 2580 کیلوری، 78 گرام پروٹین اور 1200 ملی گرام کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پروگرام کے ذریعہ مستحقین کو 1342 کیلوری، 41 گرام پروٹین اور 578 ملی گرام کیلشیم دیا جارہاہے۔ زیادہ کیلشیم کیلئے آئرن ٹیبلیٹ تقسیم کئے جاتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی اس خوراک میں دال، چاول، سبزیاں، سامبر اور مونگ پھلی چکی شامل ہیں۔ مہینہ میں کم از کم 25 دن یہ خوارک دی جاتی ہے۔ دودھ کی فراہمی روزانہ کی جاتی ہے۔ حاملہ خواتین اور زچہ کیلئے وقت بوقت آئی ایف اے ٹیبلیٹ دئے جاتے ہیں اور ان کا جسمانی وزن بھی درج کیا جاتاہے۔ اس کیلئے حکومت نے 31.5 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ محکمۂ بہبودیٔ خواتین و اطفال کی ڈائرکٹر دیپا چولن نے یہ اطلاع دی ہے۔ اس اخباری کانفرنس میں یونی سیف حیدرآباد کے ماہر غذائیات ڈاکٹر کیاتی تیواری، محکمۂ صحت و خاندانی بہبود کے ڈپٹی ڈائرکٹر ڈاکٹر این راج کمار موجود تھے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/H7NvT

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے