Breaking News
Home / اہم ترین / شیوسینا میں بغاوت کے آثار، 25 ارکان اسمبلی فڑنویس سرکار کے حامی

شیوسینا میں بغاوت کے آثار، 25 ارکان اسمبلی فڑنویس سرکار کے حامی

ممبئی(ہرپل نیوز،ایجنسی)19 ستمبر۔ مہاراشٹر میں شیو سینا اور بی جے پی کے درمیان سیاسی تنازعہ نے دلچسپ رُخ اختیا رکرلیا ہے۔ ایک طرف، شیوسینا نے مودی حکومت اور مہاراشٹر کی دیویندر فڑنویس حکومت کو حمایت واپس لینے کی دھمکی دی ہے ،لیکن شیوسینا کے تقریباً 25 ایم ایل ایز نے پارٹی کے اعلیٰ کمان کے فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکارکردیا ہے۔ شیو سینا کے 63 ایم ایل ایز ہیں اور ان میں سے 25 ایم ایل ایز نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ فڑنویس حکومت کی حمایت نہ کرنے کے ممکنہ فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔ پیر کے روز شیو سینا  چیف ادھو ٹھاکرے کی ملاقات میں ان ارکان نے پارٹی کے کسی ایسے اقدام کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ اس میٹنگ میں، پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمت، موجودہ سیاسی حالات اور دیگر اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ، مذکورہ اجلاس میں شیوسینا کے ممبران پارلیمنٹ، ایم ایل اے اور وزراء نے شرکت کی اور بتایا جاتا ہے کہ کئی لیڈران اور وزیروں کے درمیان تکرار بھی ہوئی ۔ اس دوران تمام ایم ایل اے اور ارکان پارلیمنٹ کو میٹنگ ہال میں داخل کرنے سے قبل اپنے موبائل فون کو جمع کرنے کے لئے کہا گیا تھا، اگرچہ بعض ایم ایل اے موبائیل فون ہال میں لے جانے میں کامیاب رہے اور ذرائع ابلاغ کو پتہ چل گیا کہ میٹنگ کے دوران کیا ہوا ۔ کئی معاملات میں شیوسینا میں آپسی تنازعات کا بھی پتہ چل گیا ہے۔ ادھوٹھاکرے نے واضح کردیا تھا کہ اگر فڑنویس حکومت ریاست میں مناسب طریقے سے ترقی نہیں کرتی تو ان کی پارٹی حکومت سے حمایت واپس لینے پر غورکرسکتی ہے۔ اس طرح مغربی مہاراشٹر کے بہت سے ایم ایل ایز نے اس فیصلے کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا۔ ان ایم ایل ایز نے کہا کہ ان کے پاس دوبارہ انتخابات میں مقابلہ کرنے کے لئے فنڈ نہیں ہے اور’منی پاور ‘کے ذریعہ بی جے پی سے مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ اجلاس میں شیو سینا کے وزراء اور ایم ایل ایز کے درمیان زبانی جنگ بھی چھڑگئی اورایم ایل ایز نے سرکار میں شامل پارٹی کے وزیروں کو نشانہ بنایا جو ان ایم ایلز کی مدد اور تعاون سے قاصر ہیں۔ مرکز اور مہاراشٹر میں حکومت کا ایک حصہ ہونے کے باوجود، شیوسنیا اور بی جے پی کے درمیان تعلقات ناخوشگوار رہے ہیں اور حال ہی میں، مودی کابینہ کی توسیع میں شیوسینا کے کسی رکن کو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/eygkP

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے