Breaking News
Home / اہم ترین / صحافی چاپلوسی نہ کرے بلکہ اپنی بات ڈنکے کی چوٹ پہ کہے۔بنگلورو میں کرناٹک اردو اکیڈمی اورروزنامہ سالار کے اشتراک سےاردو رپورٹرس کے ورکشاپ میں مقررین کا اظہار خیال

صحافی چاپلوسی نہ کرے بلکہ اپنی بات ڈنکے کی چوٹ پہ کہے۔بنگلورو میں کرناٹک اردو اکیڈمی اورروزنامہ سالار کے اشتراک سےاردو رپورٹرس کے ورکشاپ میں مقررین کا اظہار خیال

بنگلورو(ہرپل نیوز) 25مارچ: اردوصحافت صرف خبروں اور تجزیوں تک محدود نہ رہےبلکہ تحقیقی رپورٹنگ اورشہریوں کے بنیادی مسائل کی جانب اردو میڈیا خاص توجہ دے۔ بنگلورو میں اردو رپورٹرس کے لیےمنعقدہ ورک شاپ میں ان خیالات کا اظہار کیا گیا ۔مقررین نے کہا کہ صحافی کو حق بات ڈنکے کی چوٹ پہ کہنےکی ضرورت ہے۔ رتپورٹر اخبار کے مالک کی چاپلوسی نہ کرے بلکہ حق اور انصاف  دلانے کے لئے آواز اٹھائے۔ کرناٹک اردو اکیڈمی اورروزنامہ سالار کے اشتراک سے بنگلورو میں اردو رپورٹروں کیلئے منعقدہ ورک شاپ کا افتتاح کرنے کےبعد اپنے خطاب میں سابق مرکزی وزیر کےرحمن خان نے ان خیالات کا اظہار کیا۔کے رحمن خان نے مزید  کہا کہ کرناٹک میں اردو صحافت کےفروغ میں روزنامہ سالار اور اُس کے بانی محمود ایاز نے اہم رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو صحافت اقلیتوں کی اسکیموں کا تحقیقی اورتنقیدی جائزہ پیش کرے ۔ ملی مسائل کو موثرطریقے سےعوام اورحکومت کے سامنے پیش کرے۔

اردو اکیڈمی کے صدر عزیزاللہ بیگ نے کہا کہ کرناٹک میں اردو صحافت کا آغاز مجاہد آزادی حضرت ٹیپوسلطان کے دورسے ہوا ۔ بتایا گیا کہ کیسے ٹیپوسلطان نے اپنے فوجیوں کوجانکاری دینے کے لیےفوجی اخبار نکالا تھا ۔ ورک شاپ میں کہا گیا ہے کہ اردومیڈیا شہریوں کے مسائل کو اجاگر کرے۔ عزیزاللہ بیگ نے کہا کہ پانی، بجلی، سڑک، پاکی صفائی اورسرکاری اسکیموں سے وابستہ مسائل کو بھی اہمیت دی جائے۔سینئر صحافی مقبول سراج نے کہا کہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان صحافت رابطہ کا ذریعہ بنے۔ ورک شاپ میں سیاسی رپورٹنگ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، شہری مسائل، جرائم، ثقافتی اور فیچر رائٹنگ پر بھی ماہرین نے گفتگو کی ساتھ ہی رپورٹنگ کی طرزتحریر، نئی تبدیلیوں اورنئے رجحانات سے رپورٹروں کو واقف کرایا گیا ۔ روزنامہ سالار کے ایڈیٹرافتخاراحمد شریف نے کہا کہ اردو رپورٹرس زبان پرعبورحاصل کریں۔ دو روزہ اس کانفرنس میں ریاست بھر سے منتخب اخباری نمائندگان یا ٹی وی رپورٹر  شریک ہیں

The short URL of the present article is: http://harpal.in/tz13f

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے