Breaking News
Home / اہم ترین / ضلع انتظامیہ کے فرمان کے بعد مرڈیشور ساحل پر واقع 130 چھوٹی دکانیں ہٹالی گئیں۔ کارروائی روک دینے کی دکانداروں کی آواز صدا بصحرا

ضلع انتظامیہ کے فرمان کے بعد مرڈیشور ساحل پر واقع 130 چھوٹی دکانیں ہٹالی گئیں۔ کارروائی روک دینے کی دکانداروں کی آواز صدا بصحرا

مرڈیشور ( ہرپل نیوز )8  نومبر :مرڈیشورساحل ایک طرف جہاں  سیاحوں کا مرکز بنا ہوا ہے وہیں دوسری جانب آج کل یہاں صفائی نہ ہونے کی شکایت سے عوام پریشان ہیں ۔ عوام کا ماننا ہے کہ ساحل پر موجود چھوٹی دکانیں یہاں گندگی پھیلانےب کا سبب بن رہی ہیں ۔ اسی لئے شاید گزشتہ دنوں مرڈیشور ساحل پر مختلف قسم کی چھوٹی بڑی ایک سو تیس  دکانوں  کو ڈی سی کے حکم پر بلڈوزر کے ذریعہ ضلع انتظامیہ نے منہدم کردیا۔بتایا جارہاہے کہ وہاں صفائی ستھرائی نہ ہونے کی شکایت موصول ہونے کے بعد یہ انہدامی کار روائی انجام دی  گئی تھی ۔اس تعلق سے متاثرہ لوگوں کو  اس کے متبا دل دئے جا نے کے سوال پر   تحصیلدار نے کہا کہ اگر ضلع انتظامیہ اس کا کوئی بدل دینے کا فیصلہ کرتی  ہے تو ہم  اس کے لئے آگے بڑھ اس فیصلہ کو عملی شکل دینے کے لئے تیار ہیں۔دوسری جانب  مرڈیشور ساحل پر متاثرہ افراد کا کہنا ہے کدکاندار لوگ اپنی رقم سے پورے احاطہ کی باقاعدہ  صفائی کرتے ہیں اس کے باوجود  سرکار نے یہ کاروروائی ناجم دی ہے ۔ ان نکاے مطابق سرکاران  کو روزی روٹی سے محروم کر رہی ہے ۔میڈیا کے ساتھ بات چیت میں لوگوں نے اپنا دکھ درد رو رو کر بیان کیا ۔ ان کا کہان تھا کہ اگر مزید انہدامی کارروائی نہیں روکی گئی  تو وہ  اس کے خلاف سخت اقدامات کریں گے ۔ دکاندوروں کے گروپ نے  بھٹکل تحصیلدار کو میمورنڈم سوپتے ہوئےانصاف کئے جانے کی مانگ کی ہے ۔متاثرین کا الزام ہے کہ سرکار نے   صرف غریبوں کو اپنی دکانیں ہٹانے کا حکم نامہ جاری کیا تھا جبکہ  اسی ساحل پر امیروں نے بڑی بڑی  زمینات پر قبضہ جمانے کے باوجود ضلعی انتضامیہ خاموش ہیں ۔ فی الحال کئی دکانیں ہٹا لی گئی ہیں ۔ اورتعلقہ انتظامیہ  اسے ڈی سی کا حکم بتا کر پلہ جھاڑ رہی ہے ۔ تحصٰلدار نے ان دکانداروں کو متبادل فراہم کرنے کی بات پر کہا کہ ضلع انتظامیہ اس کا متبادل فراہم کرے گی تو وہ ان کی باز آباد کاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں سرکار کیا فیصلہ کرے گی ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/7TQUQ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے