Breaking News
Home / اہم ترین / طلاق ثلاثہ کے مسائل اٹھا کر حکومت حقیقی مسائل کررہی ہے نظر انداز ۔بھٹکل میں جماعت اسلامی ہند کے اجلاس میں مقررین کا اظہار خیال

طلاق ثلاثہ کے مسائل اٹھا کر حکومت حقیقی مسائل کررہی ہے نظر انداز ۔بھٹکل میں جماعت اسلامی ہند کے اجلاس میں مقررین کا اظہار خیال

بھٹکل (ہرپل نیوز)22 مئی َ۔ملت اسلامیہ  اس وقت جن حالات سے گزر رہی ہے  ایسے حالات اس سے پہلے بھی کئی بار پیدا کئے گئے ہیں  لیکن ہر بار  مخالفین کو شکست ہوئی ہے ۔  مخالفین نے پوری کوشش کر کے ہماری تہذیب پر منصوبہ بندی کے ساتھ وار کیا ہے  جس سے  آگاہ رہنا  اور  اسکے سدباب کی کوشش کرنا مسلمانوں کی  ذمہ داری ہے ۔ بھٹکل میں جماعت اسلامی  ہند کی جانب سے  ’’مسلم پرسنل لاء اور درپیش چیلینجز اور  ہماری ذمہ داریاں ‘‘ کے عنوان سے  منعقد ایک عظیم الشان  اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  جماعت اسلامی ہند کے ریاستی  سکریٹری  ڈاکٹر طۃ متین نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے ملک میں مسلمانوں کے تشخص کو مٹانے کی سازشوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ۔اپنے خطاب میں انہوں نے ملک میں ہورہے تہذیبی حملوں  پر بھی تشویش جتائی ۔اجلاس میں بنگلورو کے معروف صحافی نے خطاب کرتے ہوئے   کہا کہ آزادی کے بعد سے ہی اس ملک میں مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی سازش جاری ہے اور ان حالات کو پیدا کرنے میں  غیروں کے ساتھ مسلمانوں  کی بھی بد اعمالیوں کو دخل ہے ۔ انہوں  نے فرقہ پرستوں کی جانب سے اس ملک کو ہندو راشٹر بنانے  کی  کوشش پر تاریخ  کے زاویے سے نظر ڈالی ۔ اجلاس میں معروف عالم دین اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اساسی رکن مولانا الیاس ندوی نے کہا کہ  مسلمان  اپنے مسائل حل کرنے اگر شرعی عدالتوں کا رخ کریں گے تو حکومت کوئی بھی قانون بنا کرہمیں  اپنی شریعت سے  دور نہیں کر سکتی ۔مولانا الیاس ندوی نے  پرسنل لاء بیداری  مہم کو لیکر جماعت اسلامی ہند کے اقدامات کی سراہنا کی ۔ صدارتی خطاب  کرتے ہوئے امیر حلقہ   جماعت اسلامی ہند  کرناٹک نے   طلاق کے مسائل اٹھا کر ملک کے بنیادی مسائل کو  نظر  انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے  مرکزی حکومت کی سخت تنقید کی ۔ اجلاس میں ملک میں طلاق  ثلاثہ    پر جاری بحث ، اور مسلم پرسنل لاء کے تحفظ پر گفتگو  کی گئی ۔ اجلاس میں شہر کے ممتاز  علماء اور دانشوران سمیت عوام بڑی تعداد میں موجود تھی ۔

ذیل میں اس سلسلے میں ای ٹی وی اردو پر نشر خبر کو بھی دیکھا جا سکتا ہے

The short URL of the present article is: http://harpal.in/sbvb4

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے