Breaking News
Home / اہم ترین / عدالت عالیہ کایوگاکولازمی کرنے والی درخواست پرسماعت سے انکار۔کہا:ہم کسی پر یوگا زبردستی نہیں تھوپ سکتے

عدالت عالیہ کایوگاکولازمی کرنے والی درخواست پرسماعت سے انکار۔کہا:ہم کسی پر یوگا زبردستی نہیں تھوپ سکتے

نئی دہلی7؍نومبر(ہرپل نیوز/ایجنسی)سپریم کورٹ نے اس عرضی پرسماعت سے انکار کر دیاجس میں یوگاکوملک کے تمام اسکولوں میں پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت تک کے طلبا کو لازمی طورپرکروانے کا حکم دینے کی اپیل کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم کسی پر یوگا زبردستی نہیں تھوپ سکتے۔یہ حکومت اور متعلقہ فریقوں کاکام ہے کہ وہ کورس میں یوگا لاگو کرے یا نہیں۔سی جے آئی ٹی ایس ٹھاکر نے دارالحکومت اورآس پاس سنگین آلودگی پرطنزکستے ہوئے کہاکہ کیاایسی آلودگی میں کوئی یوگاکرسکتاہے؟۔ درخواست گزارلوگوں کویوگا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کریں چاہے توپہلے سے چل رہے ایک معاملے میں مداخلت کر سکتے ہیں۔دراصل سپریم کورٹ میں داخل عرضی میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صحت کے حق کو یوگا اور صحت کی تعلیم کے بغیر یقینی نہیں بنایاجاسکتاہے۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 21(زندگی اور ذاتی آزادی کے حق)کوآرٹیکل 39(ای)(ایف)اور47کے ساتھ پڑھاجاناچاہیے جس میں ریاستوں کا یہ فرض بتایا گیا ہے کہ وہ شہریوں کی صحت کوبہتربنانے کے لیے مناسب قدم اٹھائیں۔ساتھ ہی اس بارے میں ضروری اطلاعات، ہدایات اور تربیت فراہم کروائیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ قومی نصاب فریم ورک 2005کہتا ہے کہ یوگا ابتدائی تعلیم کا ضروری موضوع ہے۔اس کو دیگر موضوعات کے ساتھ برابری کا درجہ دینے کی ضرورت ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ فروغ انسانی وسائل کی وزارت، این سی آرٹی، این سی ٹی ای اور سی بی ایس ای کو ہدایت دی جائے کہ وہ ایک سے لے کر 8ویں جماعت کے طالب علموں کے لیے یوگاکی مشق اور صحت سے متعلق تعلیم کی ایک معیاری کتاب تیار کریں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/1tOdi

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے