Breaking News
Home / اہم ترین / عورتوں اور بوڑھوں پر پولیس کی زور آزمائی افسوسناک؛ وزیر داخلہ کی معذرت خواہی

عورتوں اور بوڑھوں پر پولیس کی زور آزمائی افسوسناک؛ وزیر داخلہ کی معذرت خواہی

بنگلورو۔31/جولائی(ہرپل نیوز/ایجسنی) دھارواڑ کے یبلور میں مہادائی مسئلے پر بند کے دوران پولیس کی خواتین اور معمر افراد بالخصوص حاملہ خواتین پر مبینہ زیادتی پر وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے معذرت خواہی کی ہے، اورپولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرنا سیکھیں۔ ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ خواتین اور معمر اور بے قصور افراد پر پولیس کے حملوں کے مناظر انہوں نے دیکھے ہیں۔اعلیٰ پولیس حکام کو انہوں نے ہدایت دی ہے کہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ پہلے ہی شمالی کرناٹک کے پولیس افسران کو یہ سخت ہدایت دی گئی تھی کہ مہادائی مسئلے پر احتجاج کے دوران کسی طرح کا ناخوشگوار واقعہ پیش آنے نہ دیا جائے، اس کے باوجود بھی پولیس افسران کی طرف سے خواتین اور معمر افراد پر بے رحمانہ لاٹھی چارج کے واقعات پیش آئے ہیں، اس کیلئے ذمہ دار پولیس افسران اور جوانوں کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا۔ ریاست میں کہیں بھی بند کے دوران امن میں خلل پڑنے کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس کے باوجود بھی بے قصور افراد پر پولیس والوں کی طرف سے حملہ کی وہ خود مذمت کرتے ہیں۔ مہادائی مسئلے پر ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ ٹریبونل کے غلط فیصلے کی وجہ سے ریاستی عوام سے ناانصافی ہوئی ہے، اس پر عوام کا احتجاج ہر حال میں جائز ہے۔ ایسی صورت میں پولیس کو صرف امن وامان برقرار رکھنے کی ذمہ داری نبھانے کی ضرورت تھی۔ان کو طاقت کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کسی نے نہیں دی تھی۔ جس طرح عورتوں اور بوڑھوں پر زور آزمائی کی گئی ہے، اس کیلئے افسران اور ماتحتوں کی سخت باز پرس کی جائے گی۔

یمنور میں پولیس کا غیر انسانی سلوک قابل مذمت: کمار سوامی
بنگلورو۔(ہرپل  نیوز)31/جولائی: دھارواڑ ضلع کے نولگند تعلقہ کے یمنور میں پولیس کی طرف سے عورتوں اور بوڑھوں پر حملوں اور مظالم کی سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی جنتادل (ایس) صدر ایچ ڈی کمار سوامی نے سخت مذمت کی ہے، اور اس کیلئے ریاستی حکومت سے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔میسور میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یمنور میں پولیس والوں نے بوڑھوں اور عورتوں پر اپنی مردانگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ٹی وی میں ان مناظر کو دیکھ کر انہیں کافی دکھ ہوا۔ پولیس والوں نے گھروں سے خواتین کو باہر نکال کر انہیں زدوکوب کیاہے یہ دیکھ کر انہیں یہ احساس ہوا کہ شاید جہد آزادی میں انگریزی نے مجاہدین آزادی کے ساتھ ایسا ہی کیا ہوگا۔ اس سے یہ بھی احساس ہورہا ہے کہ ریاست میں حکومت زندہ ہے بھی یا نہیں۔ ضلع انچارج وزیر ونئے کلکرنی اور وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کمار سوامی نے کہاکہ ونئے کلکرنی میں ذراسی انسانیت بھی نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کو مارنے کیلئے ہی وہ ضلع انچارج بنے ہیں۔ وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شاید انہوں نے ٹی وی دیکھی ہی نہیں یا پھر کرناٹک میں موجود نہیں ہیں۔ ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اوم پرکاش پر نکتہ چینی کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہاکہ وہ اس عہدہ کیلئے اہل ہی نہیں ہیں۔ کمار سوامی نے کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں یمنور دیہات میں ایک ہفتہ قیام کریں گے اور وہاں کے لوگوں کا حوصلہ بڑھائیں گے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/zdxpn

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے