Breaking News
Home / اہم ترین / غیر قانونی مذبح خانوں کے خلاف کارروائی کامعاملہ۔لکھنئو میں میٹ کاروباریوں کی غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال 5000 دکانیں بند۔ مشہور ٹنڈے کباب پر بھی لگا تالا

غیر قانونی مذبح خانوں کے خلاف کارروائی کامعاملہ۔لکھنئو میں میٹ کاروباریوں کی غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال 5000 دکانیں بند۔ مشہور ٹنڈے کباب پر بھی لگا تالا

نئی دہلی لکھنو(ہرپل نیوز،ایجنسی)27مارچ:غیر قانونی مذبح کے خلاف یوگی حکومت کی کارروائی سے دارالحکومت لکھنؤ میں کافی ہلچل ہے۔  نان ویج کاروبار سے منسلک تمام کاروباریوں میں اس کو لے کر غصہ ہے۔ اسی وجہ سے کئی ٹریڈرس ایسوسی ایشن  غیر معینہ ہڑتال پر ہیں۔ یعنی پیر سے دارالحکومت کی 5000 نان ویج کی دکانیں بند رہیں گی۔ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضوان سدی نے بتایا کہ جہاں ایک طرف حکومت کی جانب سے کارروائی کی جا رہی ہے تو وہیں دوسری طرف ان کا لائسنس بھی رنيول نہیں کیا جا رہا۔ 31 کی تاریخ حکومت نے طے کر دی ہے لیکن لائسنس تو بنائے جانے چاہئیں جو بن ہی نہیں رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم بہت پریشان ہیں اور ہم نے غیر معینہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔اگر ایسا ہی چلتا رہا تو مرغوں کے ساتھ ساتھ کسان بھی مر جائے گا۔ ہوٹل، ریستوران کے مالکان کا کہنا ہے کہ ہمیں جب مٹن اور چکن کی سپلائی ہی نہیں مل رہی ہے تو پھر دھندہ کس طرح چلے گا۔ ہمیں اپنے گاہکوں کو واپس کرنا پڑ رہا ہے۔ اس ہڑتال کا براہ راست اثر ہوٹل اور ریستوران پر پڑنے والا ہے کیونکہ گوشت کی سپلائی مکمل طور پرمتاثر رہے گی۔

مشہور ٹنڈے کبابی گزشتہ چار دن سے بند، یوگی سے فریاد، 'بادشاہ' رکھیں ہمارا بھی خیال

 غیر قانونی مذبح کے خلاف یوگی حکومت کی کارروائی سے دارالحکومت لکھنؤ میں کافی ہلچل ہے۔ امین آباد کی ٹنڈے کبابی کی دکان کافی مشہور ہے۔ جس ٹنڈے کبابی کی دکان پر صبح سے شام تک سینکڑوں کی تعداد میں نان ویج کھانے والوں کا تانتا لگا رہتا تھا، وہاں آج کاروباریوں کی ہڑتال کی وجہ سے تالا لٹک گیا ہے۔ہڑتال کے اثر کو دیکھتے ہوئے نیوز 18 ہندی نے ٹنڈے کبابی کے مالک محمد عثمان سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل میں کباب بنانے میں بھینس کے گوشت کا استعمال کیا جاتا ہے، لیکن یوپی میں بند ہوئے غیر قانونی سلاٹرہاوس کی وجہ سے پوری ریاست میں گوشت کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے مکمل دھندہ ٹھپ پڑ گیا ہے۔

مشہور ٹنڈے کبابی گزشتہ چار دن سے بند، یوگی سے فریاد، 'بادشاہ' رکھیں ہمارا بھی خیال

عثمان کی مانیں تو جو ملک کا 'بادشاہ' ہوتا ہے اسے سوچ سمجھ کر فیصلہ لینا چاہئے۔ ایسے میں یوگی حکومت جو بھی فیصلہ لے گی اس سے سب کا ساتھ، سب کا وکاس ہو گا۔ وہیں حکومت کو صاف ستھرے سلاٹر ہاوس کی تعمیر کروانی چاہئے۔ اچانک کسی بھی مذبح پر کارروائی نہیں کرنی چاہئے۔ حکومت نیا قانون لائے۔ٹنڈے کبابی کے مالک محمد عثمان نے بتایا کہ ان کے دادا نے یہ خاص کباب بنانا شروع کیا تھا اور تب سے لے کر آج تک یہ کباب نظيرآباد واقع آبائی دکان سے ہی فروخت ہو رہے ہیں۔ تاہم بھینس کے گوشت کی کمی کی وجہ سے انہیں اپنی دکان 4 دنوں سے بند کرنی پڑی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ 60-70 ہزار روپے کا کاروبار کر لیتے تھے۔ لیکن ہڑتال کی وجہ سے پورا دھندہ ٹھپ پڑ گیا ہے۔ عثمان بتاتے ہیں کہ ان کی دکان میں روزانہ 40 کوئنٹل بھینس کے گوشت کا كباب بنایا جاتا ہے لیکن آج حالات ایسے ہیں کہ 2 کوئنٹل گوشت ملنا مشکل ہو گیا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/aHDNZ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے