Breaking News
Home / اہم ترین / فرقہ پرست طاقتیں ملک کے امن وامان کی دشمن

فرقہ پرست طاقتیں ملک کے امن وامان کی دشمن

جماعت اسلامی ہند کے زیرِ اہتمام’ امن وانسانیت‘مہم پروگرام سے مولاناسید جلال الدین عمری کاخطاب,شرپسندوں کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی ضرورت ہے: انتظار نعیم

نئی دہلی، 21؍اگست(ہرپل آن لائن/آئی این ایس انڈیا)شرپسند اور فرقہ پرست طاقتیں ملک کے امن وامان کو نیست ونابود کرنے پر تلی ہیں، ان کا حوصلہ مسلسل بڑھتاجارہاہے،حیوانیت اور درندگی کا مظاہرہ جگہ جگہ کیاجارہا ہے،اس کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے،کیونکہ امن وامان متاثر ہونے سے ہرشخص پریشان ہوتا ہے اور ملک کی ترقی رک جاتی ہے،ملک میں امن وامان اسی وقت قائم ہوسکتا ہے ،جب سب کے ساتھ انصاف ہو اور ملک کے ہرباشندے کے شہری حقوق محفوظ ہوں،اسی مقصد کے لئے جماعت اسلامی ہند نے ’امن وانسانیت مہم‘ شروع کی ہے۔ ان خیالات کا اظہارجماعت اسلامی ہند کے زیر اہتمام اتوار کوکرشی بھون لکھنؤ میں منعقد سمپوزیم سے مولانا سید جلال الدین عمری ،امیر جماعت اسلامی ہند نے کیا۔مولانا جلال الدین نے کہا کہ مٹھی بھر فرقہ پرستوں کے سامنے اقلیتیں متحد ہوجائیں تو ان کے حوصلے پست ہوسکتے ہیں،کیونکہ ملک کے آئین نے سب کو برابر کے حقوق دیئے ہیں، چاہے دفتر کا چپراسی ہو یا افسر، سب کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔انہوں نے کہاکہ چھوٹے چھوٹے مسائل پیدا کرکے لوگوں کو پریشان کیا جارہا ہے، کوئی بھی مہذب معاشرہ فرقہ پرستوں کی ریشہ دوانیاں برداشت نہیں کرسکتا ہے۔مٹھی بھر لوگوں کی وجہ سے ہندوستان کی سیکولر شبیہ پوری د نیا میں داغدار ہورہی ہے اور ملک کا مذاق اڑایا جارہا ہے کہ وہاں لوگوں کے فریج اور ٹفن میں دیکھاجاتا ہے کہ وہ کیا کھارہے ہیں۔کوئی کیا کھارہاہے یہ تک جھانکاجارہا ہے،ہندوستان کو مسلسل بدنام کرنے کی سازش کی جارہی ہے، اس جانب حکومت کی بھی توجہ مبذول کرائی جارہی ہے، لیکن کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔مولانا نے کہاکہ وزیراعظم ہند نریندرمودی نے خود قبول کیا ہے کہ ۸۵؍فیصد گؤ رکشک اپنے غلط کاموں کو چھپانے کے لئے رکشک بنے ہوئے ہیں اور گائے کے تحفظ کی تحریک چلارہے ہیں،صوبوں کو ایسے لوگوں کو نشانزد کرنے کا حکم دیاگیا ہے، سوال یہ ہے کہ آپ توپورے ملک کے وزیراعظم ہیں، آپ نے ان کی غنڈہ گردی کے خلاف کون سے قدم اٹھائے ؟مولانا نے کہا کہ کوشش یہ کی جارہی ہے کہ جنتی بھی اقلیتیں ہندوستان میں آباد ہیں، ان کو پریشان کردیا جائے اور ان کی وفاداری اکثریت کے سامنے مشکوک کردی جائے،تاکہ وہ دوبارہ ابھر نہ پائیں، لیکن ان کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔سچر کمیٹی نے ۱۰؍ سال پہلے اپنی رپورٹ دی تھی کہ مسلمانوں کی حالت ملک میں دلتوں سے بدتر ہے ،لیکن دس سال گزرنے کے بعد ان کے لئے کچھ نہیں کیاگیا۔کانگریس جس نے یہ کمیٹی بنائی تھی ،اس نے بھی کچھ نہیں کیا ، موجودہ حکومت سے توتوقع کرنا ہی فضول ہے۔ انتظار نعیم معاون سکریٹری جماعت اسلامی ہندنے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے،یہ ایک ایسا ملک ہے ،جہاں پر ہر مذہب کے ماننے والے لوگ آباد ہیں،ملک کی خصوصیت رہی ہے کہ ہر طرح کے لوگ صدیوں سے مل جل کر رہتے رہے ہیں اور یہی ہندوستان گنگا جمنی شناخت رہی ہے، لیکن کچھ سالوں سے ایسی قوتیں سرگرم ہوگئی ہیں،جو لوگوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کررہی ہیں،تاکہ عوام کے درمیان انتشار پیدا ہو اور فائدہ اٹھاسکیں۔لوگوں کی پٹائی اور ننگے کرکے گھمانا اور قتل جیسی گھناؤنی حرکت ان کے منصوبہ کا حصہ ہے، جس کا مقصد لوگوں کو پولرائز کرکے فائدہ حاصل کرنا ہے۔ ان شرپسندوں کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے تحت جماعت اسلامی ہند نے یہ امن وانسانیت مہم شروع کی ہے۔
مولانا کوثر ندوی ناظم جامعہ فاطمہ للبنات نے کہاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنے کی ذمہ داری صرف مسلمانوں کی نہیں ہے، بلکہ دیگر قوموں کی بھی ذمہ داری ہے، کیونکہ اگران کاگھر جلے گا تو دوسرے بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔کانفرنسوں کے ساتھ ساتھ ہمیں دلتوں اور دیگر مظلوم اور محروم طبقات سے ان کے محلوں اور گھروں پر جا کر ہمیں ملاقات کرنی ہوگی اور ان کو اپنا ہمدرد بنانا ہوگا، اس سے سب کا فائدہ ہوگا اور ہوا بھی ہے، اس کی مثال ممبئی اور پنجاب میں ابھی جلد ہی دیکھنے کو ملی ہے،جہاں دلتوں اور سکھوں نے مسلمانوں کا کھل کر ساتھ دیا ہے۔مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، خدا کا شکر ہے کہ ملک کا بڑا طبقہ سیکولر ہے، ہم ان کو اپنے ساتھ جوڑ نہیں پائے یا اس کی مثبت کوشش ہی نہیں کی۔ سب سے پہلے ہمیں خود متحد ہونے کی ضرورت ہے، ہم خود مسلکوں میں تقسیم ہیں، وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں متحد ہونا ہوگا۔ دیگر قوموں میں ہم سے زیادہ اختلافات ہیں، لیکن وہ آپس میں متصادم نہیں ہوتیں،پہلے قوم کو جوڑنے کی کوشش کی جائے دیگر قومیں بھی ہمارا ساتھ دیں گی۔مولانا اقبال احمد قادری نے کہاکہ آج ملک کے یہ حالات ہوگئے ہیں کہ جن گلیوں میں ہمارے بچے بے خوف ہو کر گھومتے تھے، آج وہ جاتے ہوئے خوفزدہ رہتے ہیں،اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں تک کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ ان کو الزام لگا کرکسی معاملہ میں پھنسانہ دیا جائے ۔سارے مسائل کے حل کے لئے مسلمانوں کو سب سے پہلے اسوۂ نبوی پر چلنا ہوگا۔ملک کے آئین نے ہر قوم کو اس کے دھرم پرعمل کرنے کا حق دیا ہے۔اسلام کو کبھی مٹایا نہیں جاسکتا ہے کیونکہ قرآن اور اسلام کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لی ہے، اگر ہم یہ کام نہیں کرسکے تو اللہ کسی دوسری قوم سے یہ کام لے گا۔مولانا نے کہاکہ آج مدارس کو دہشت گردی کا اڈہ بتایا جارہا ہے، جب کہ ملک کو آزاد کرانے میں اپنی جان نچھاور کرنے والے سب سے زیادہ عالم دین تھے۔ہم نے ملک کی حفاظت کیلئے عبدالحمید بن کر قربانی دی ہے،اس کے بعد بھی ہمیں غدار وطن کہاجاتا ہے اورہم سے وفاداری کا سرٹیفکٹ مانگا جارہا ہے۔ مولاناسید حمیدالحسن پرنسپل جامعہ ناظمیہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ امن وامان انسان کیلئے ہمیشہ ضروری رہا ہے۔مذاہب نفرت نہیں سکھاتے ہیں،دنیا کا ہر قانون انسان کے تحفظ کا طریقہ بتاتاہے۔اختلافات ہوتے ہیں مگر اس میں خونریزی نہیں ہوتی ہے۔مدارس دہشت گردی نہیں سکھاتے ہیں ،ٹوئن ٹاورکوگرانے والے کسی مدرسے کے فارغ نہیں تھے ،کیونکہ مدارس میں پائلٹ کی ٹریننگ نہیں دی جاتی ہے ۔مذہب ہمیشہ امن وامان کا درس دیتارہا ہے، ہمیں مذہبی کتاب، رہنما اور ان کی عبادت گاہوں کا تحفظ کرناسکھایاگیا ہے۔پروگرام سے فادرآروی رائے،سماج کلیان سمیتی کے مرتضیٰ علی،بیوپار منڈل کے صدر نتیش کمار گپتا،برجیش مان سنگھ،شری بھکشو رتن جی لکھنؤ،شری گیانی دیوندرسنگھ انتظامیہ کمیٹی ناکہ ہنڈولہ لکھنؤ اور ڈاکٹر بجمین پرساد مسیح نے بھی خطاب کیا۔واحد علی واحدنے امن وامان پر اشعاروانتظار نعیم نے ترانہ پیش کیا۔کرشی بھون کاپوراہال مردوخواتین کی بھیڑ سے بھرا ہوا تھا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/VMb1n

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے