Breaking News
Home / اہم ترین / فضائیہ سربراہ بی ایس دھنوا نے کہا، ایک ساتھ دو محاذوں پر لڑنے کے لئے تیار ہیں

فضائیہ سربراہ بی ایس دھنوا نے کہا، ایک ساتھ دو محاذوں پر لڑنے کے لئے تیار ہیں

نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی) 5 اکتوبر۔ فضائیہ کے سربراہ بی ایس دھنوا نے آج کہا کہ ڈوکلام سے ملحقہ چمبی گھاٹی میں ابھی بھی چینی فوجی موجودہیں حالانکہ دونوں فوجیں آمنے سامنے نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی تعطل ہے ۔ ایئرچیف مارشل نے فضائیہ کے دن 8اکتوبر کے موقع سے پہلے یہاں سالانہ پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ چاہے ہندستانی فضائیہ کے پاس جنگی طیاروں کے 42اسکواڈرن کی مقررہ تعداد نہ ہو لیکن اس کے پاس دو محاذوں پر ایک ساتھ جنگ سے نمٹنے کے لئے ’بی پلان ‘ ہے ۔ ڈوکلام تعطل کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’’دونوں فوجیں آمنے سامنے نہیں ہیں لیکن چمبی گھاٹی میں انکے (چین )فوجی اب بھی موجود ہیں ۔امید ہے کہ مستقبل میں فوجی مشق ختم ہونے کے بعد یہ فوجی واپس چلے جائیں گے ۔‘‘ مسٹر دھنوا نے کہا کہ ڈوکلام علاقہ میں تقریبا ڈھائی ماہ تک جاری رہنے والے تعطل کے دوران کبھی بھی دونو ں فضائیہ کے درمیان تعطل پیدا نہیں ہوا اوردونوں ہی طرف سے فضائی حدود اور دیگر مقررہ سرحدوں کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ۔چمبی گھاٹی ڈوکلام کے نزدیک ہے ۔ واضح رہے کہ دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان ڈوکلام میں گزشتہ 16جون کو پیدا ہوا تعطل دونوں حکومتوں کے درمیان اعلی سطح کی بات چیت کے بعد 28اگست کودور ہوگیا تھا اوردونوں فوجیں پیچھے ہٹ گئی تھیں ۔ فضائیہ کے پاس جنگی طیاروں کی کمی کے مدنظر ہندستان کے دونوں محاذ پر ایک ساتھ نمٹنے کی صلاحیت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ موجودہ جغرافیائی اور سیاسی حالات میں دومورچوں پر جنگ کا امکان کافی کم ہے ۔لیکن اگر ایسی نوبت آتی ہے تو چاہے فضائیہ کے پاس جنگی طیاروں کے مقررہ اسکواڈرن نہ ہوں لیکن اس کے پاس بری فوج اور بحریہ کے ساتھ  ملکر اس طرح کی یا کسی بھی دوسری ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے متبادل ’پلان بی ‘موجود ہے ۔ائیرچیف مارشل دھنوا نے دو مورچوں پر ایک ساتھ جنگ کی صورتحال کے بارے میں آگے کہا کہ بھلےہی ابھی ایسے حالات نہ ہوں لیکن ہماری جوابی کارروائی دشمن کی صلاحیت پر مبنی ہونی چاہئے ائیرچیف مارشل دھنوا نے دو مورچوں پر ایک ساتھ جنگ کی صورتحال کے بارے میں آگے کہا کہ بھلےہی ابھی ایسے حالات نہ ہوں لیکن ہماری جوابی کارروائی دشمن کی صلاحیت پر مبنی ہونی چاہئے کیونکہ دشمن کی نیت تو کبھی بھی بدل سکتی ہے ۔انھوں نے کہاکہ پاکستان ہندستانی فضائیہ کے سامنے کہیں نہیں ٹکتا جبکہ چین کے تعلق سے ہمارے پاس مناسب صلاحیت ہے ۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’بات یہ نہیں ہے کہ چین کے پاس کیا ہے ۔ بات یہ ہے کہ وہ ہمارے سامنے کیا پیش کرتے ہیں اور تبت میں کیا لا سکتے ہیں اور وہاں سے کل پلیٹ فارم کا ہمارے خلاف استعمال کرسکتے ہیں ۔ہمارے پا س بھی کافی صلاحیت ہے ۔‘‘ ڈوکلام میں ہندستان اور چینی فوجیوں کے درمیان تقریبا ڈھائی ماہ تک تعطل کی گواہ بنی چمبی گھاٹی میں چینی فوجیوں کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چینی فوجی گرمیوں میں ہرسال یہاں مشق کرتے ہیں اور تعطل کے وقت بھی وہیں تھے اور اب بھی ہیں لیکن انھیں امید ہے کہ وہ مشق ختم ہونے کے بعد چلے جائیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ جنگی طیاروں کی کمی دور کرنے کے لئے حکومت نے وسیع منصوبہ بنایا ہے اور سال 2032 تک فضائیہ میں جنگی طیاروں کے مقررہ 42اسکواڈرن ہوجائیں گے ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Xpw5j

Check Also

جے این یو کے گمشدہ طالب علم نجیب کی والدہ فاطمہ نفس سمیت 35 افراد حراست میں،تاہم بعد میں رہا

Share this on WhatsApp نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)17۔اکتوبر۔ گزشتہ ایک سال سے لاپتہ جواہر لال نہرو …

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے