Breaking News
Home / اہم ترین / فضل افضل نے مشاہدہ فکر واحساس کو شاعرانہ رنگ وآہنگ سے ہم آ میز کیا ہے.کر نا ٹک اردو اکیڈمی کے پروگرام ’’حاصل مطالعہ ‘‘سے دانشوران کا اظہار خیال

فضل افضل نے مشاہدہ فکر واحساس کو شاعرانہ رنگ وآہنگ سے ہم آ میز کیا ہے.کر نا ٹک اردو اکیڈمی کے پروگرام ’’حاصل مطالعہ ‘‘سے دانشوران کا اظہار خیال

یادگیر( ہرپل آن لائن؍۔سید ساجد حیات )5۔ اکتوبر:۔ممتاز شاعرو ادیب جناب فضل افضل یادگیراپنے مشاہد ے اور تجربہ کی بنیاد پر شعر کہتے ہیں،درد کا رشتہ انکا پہلا مجموعہ کلام ہے، اور فضل افضل کا بنیادی طور شعری مزاج احتجاج اور طنز رہا ہے ، کلام کا مسلسل چھپتے رہنا یہ ایک اچھی بات ہے، کیو نکہ اس سے شہرت حاصل ہو تی ہے، مگر ایک بھی حقیقت ہے کے زیادہ کلام کے نہ چھپنے سے فن کے اعلی معیار کا حاصل بھی نہیں ہے ،ہر ایک کی اپنی اپنی تر جیجات ہو تی ہیں، یہ بات اکرم نقاش گلبرگہ رکن کر نا ٹک اردو اکیڈیمی نے کہی ، وہ کر نا ٹک اردو اکیڈیمی کی جانب سے سوداگر پی یو کا لج ملت نگر یادگیرمیں منعقدہ پروگرا م سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسانی ذہین ارتقاء پذیر ہے ،لکھ کر کچھ وقت کر چھوڑ دینے اور پھر اس پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے جس سے اپنے فن میں مزید نکھار آ تا ہے،ایک فنکار جب لکھتا اور وہ اگر چھپ جا تا ہے تو مزید لکھنے کی طرف مائل ہو تا ہے، اور ایک مہمان امجد جا وید گلبرگہ رکن کر نا ٹک اردو اکیڈیمی نے کہا کے مشکل ترین الفاظ کو آ سان اندازمیں پیش کر نا یہ ایک شاعر انہ فن ہو تا ہے، اور فضل افضل نے اپنے مجموعہ کلام’’ درد کا رشتہ ‘‘میں اسے بخو بی بنھایا ہے ۔اپنی زندگی میں جو چیز واقع ہو تی ہے اسی کو ہی اپنی شاعری کے زریعہ شاعر پیش کر نے کو کوشش کر تا ہے، اور ان سب کی تر جما نی کر تا ہے ،اور انسان کا سب سے بہترین ذوق ادب کا مطالعہ ہونا چاہئے، انہوں نے آ گے کہا کے اکیڈیمی کے پروگرام مستقبل میں بھی یادگیر میں منعقد کئے جا ئیں گے ۔ تبصرہ نگار خادم اظہر یادگیری نے کہا کے فضل افضل کے مجموعہ کلام درد کا رشتہ پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہو تا ہے وہ قاری کو اپنے احساسات اور جذبات سے واقف کروارہے ہیں، اصل مسائل اور انسانی دردمندی انکی شاعری میں ملتی ہے،سادہ اور انتہائی سلیس زبان میں انہوں نے اشعار کہے ہیں، انہوں نے مشاہدہ فکر و احساس کو شاعرانہ رنگ و آہنگ سے ہم آمیز کیا ہے ، گو یہ ان کی شاعری مہذب انسان کا نو حہ ہے ،صدر جلسہ ڈاکٹر رفیق سوداگر نے کہا کے انجمن تر قی اردو ہند ضلع یادگیرنے کرنا ٹک اردو اکیڈیمی کے چیرمین جناب عزیز اللہ بیگ سے نما ئندگی کر کے یہ التماس کیا تھا اردو کی زرخیز زمین یادگیر میں بھی کر نا ٹک اردو اکیڈیمی کے پروگرام منعقد کئے جا ئیں، اور اکیڈیمی اپنے پروگراموں کے کیلنڈر میں یادگیر کو بھی مستقل طور پرشامل کر لے،انہوں نے یہ تیقین دیا تھا، کے بہت جلد یادگیر میں اکیڈیمی کے پروگرام منعقد کئے جا ئیں گے ۔ پروگرام میں دوسرے مقررین نے بھی اظہار خیال کیا ۔ آ خر میں ایک شعری نشست کا اہتمام بھی کیا گیا، جس میں صابر فخر الدین، فضل افضل، آ عظم اثر، اکرم نقاش، ڈاکٹر رفیق سوداگر ،خادم اظہر نے اپنا پنا کلام سنا یا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/M4Ixg

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے