Breaking News
Home / اہم ترین / كلبھوشن جادھوکی سزائے موت پر ہندوستان کا شدید ردعمل،جادھو کو بچانےکی ہر ممکن کوشش کرنے کاحکومت کا وعدہ، کئی مقامات پر پاکستان کے خلاف مطاہرے

كلبھوشن جادھوکی سزائے موت پر ہندوستان کا شدید ردعمل،جادھو کو بچانےکی ہر ممکن کوشش کرنے کاحکومت کا وعدہ، کئی مقامات پر پاکستان کے خلاف مطاہرے

نئی دہلی(ہرپل نیوز ،ایجنسی) ۔ كلبھوشن جادھو کو پاکستان میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ كلبھوشن کو پاکستان نے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ پاکستانی ویب سائٹ کے مطابق، كلبھوشن کو ہندوستانی را ایجنٹ کا سابق بحریہ کا افسر بتایا گیا ہے۔ كلبھوشن یادو کو گزشتہ سال 3 مارچ، 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ آج پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا نے كلبھوشن کو موت کی سزا سنائے جانے کی تصدیق کی۔ پاک میں پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت كلبھوشن کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کی گئی تھی۔جادھو کو 2016 میں جاسوسی کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔ كلبھوشن ممبئی کے رہنے والے ہیں۔ ہندوستان کے مطابق جادھو تاجر ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس معاملے میں جادھو کو اپنا موقف تک رکھنے کا موقع نہیں ملا اور پاکستان کے کورٹ نے ان کے خلاف سزا سنا دی۔ پاکستان نے جادھو کو ہندوستانی جاسوس بتا کر گرفتار کیا تھا جبکہ ہندوستان کا کہنا ہے کہ جادھو ایک تاجر ہیں۔ پاکستان کے مطابق ان کی گرفتاری بلوچستان سے ہوئی تھی۔ جبکہ ہندوستان اس بات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ڈان نیوز کے مطابق جادھو کو پاکستان کے آرمی ایکٹ (پی اے اے) کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے پیش کیا گیا اور انہیں موت کی سزا سنائی گئی۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا نے پیر کو جادھو کو دی گئی موت کی سزا کی تصدیق کی۔

ہندوستان کا شدید ردعمل : دوسری جانب پاکستان میں جادھو کو سزائے موت پر ہندوستان کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے ، ہندوستان نے پاک قیدیوں کی رہائی پر روک لگاتے ہوئے پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کر کے اپنا احتجاج درج کرایا ہے ۔ پاکستانی فوج کی طرف سے مبینہ 'جاسوسی اور ملک مخالف سرگرمیوں کے لئے ہندوستانی شہری كلبھوشن جادھو کی موت کی سزا کو منظوری دینے کے کچھ گھنٹے بعد ہندوستان نے فیصلہ کیا کہ وہ ان ایک درجن پاکستانی قیدیوں کو رہا نہیں کرے گا، جنہیں بدھ کو ان کے وطن بھیجا جانا تھا۔سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت کا خیال ہے کہ پاکستانی قیدیوں کو رہا کرنے کا یہ صحیح وقت نہیں ہے۔خیال رہے کہ ان قیدیوں کو ہندوسان اور پاکستان کی طرف سے جیلوں میں بند ایک دوسرے کے شہریوں کو سزا پوری ہونے کے بعد ان کے ممالک میں واپس بھیجنے کی روایت کے تحت رہا کیا جانا تھا۔ادھر كلبھوشن جادھو کو سزائے موت پر ہندوستان نے آج پاکستان کے سامنے سخت احتجاج درج کراتے ہوئے کہا کہ اگر انصاف کے بنیادی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کو درکنار کر کے جادھو کو موت کی سزا دی گئی تو اسے ان منصوبہ بند قتل سمجھا جائے گا۔ خارجہ سکریٹری ایس جے شنكر نے یہاں پاکستانی ہائی کمشنر کو آج طلب کیا اور انہیں جادھو کی سزائے موت پر ہندوستان کے احتجاج کا خط سونپا ،جس میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ مسٹر جادھو کو گزشتہ سال ایران سے اغوا کیا گیا تھا اور پاکستان میں ان کی موجودگی کے بارے میں کبھی بھی قابل اعتماد معلومات نہیں دی گئیں۔ حکومت ہند نے اپنے ہائی کمیشن کے ذریعے بار بار ان سے بین الاقوامی قوانین کے مطابق سفارتی رابطہ قائم کرنے کی اجازت طلب کی۔ 25 مارچ 2016 سے 31 مارچ 2017 کے درمیان ایسی 13 درخواستیں دی گئیں، لیکن پاکستان حکومت نے انہیں قبول نہیں کیا۔احتجاجی خط میں کہا گیا ہے کہ مسٹر جادھو کے خلاف قابل اعتماد ثبوت نہیں ہونے کے باوجود ایسي کارروائی انتہائی بدقسمتی کی بات ہے۔ یہ بھی بہت اہم بات ہے کہ اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمشنر كو مسٹر جادھو کے خلاف قانونی کارروائی کی کبھی کوئی معلومات نہیں دی گئی۔ ان حالات میں پاکستانی فوج کی پریس ریلیز میں مسٹر جادھو کو بچانے کے لیے وکیل فراہم کیےجانے کی بات مکمل طور پر بے معنی ہے۔ ہندوستان نے خط میں کہا کہ اگر ہندوستانی شہری کے خلاف اس سزا پر قانون کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کرکے تعمیل کی جاتی ہے تو حکومت ہند اور عوام اسے منصوبہ بند قتل کا معاملہ سمجھیں گے۔

حکومت ہند کا موقف: وزیر خارجہ سشما سوراج اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے یقین دلایا ہے کہ ہندوستان جادھو کو بچانے ممکنہ تمام اقدامات کر ے گا ۔ حکومت نے ہندوستانی شہری كلبھوشن جادھو کو موت کی سزا دینے پر پاکستان کو سختی سے خبر دار کرتے ہوئے آج کہا کہ اس عمل کا دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر منفی اثر پڑے گا اور مسٹر جادھو کو بچانے کے لئے جو کچھ بھی کرنا پڑے، وہ کیا جائے گا۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایوان میں اپنے طور پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر مسٹر جادھو کو پھانسی ہوتی ہے تو یہ منصوبہ بند قتل ہوگا۔ ہندوستانی شہری کو اغوا کر کے پھنسایا گیا ہے اور اس سے رابطہ بھی نہیں کرنے دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر جادھو کو موت کی سزا سنانے کے تین گھنٹے کے اندر اندر حکومت ہند متحرک ہو گئی اور یہ معاملہ پاکستان سے اعلی سطح پر اٹھایا گیا۔ اس کے لئے سیکرٹری خارجہ ایس. جے شنکر نے پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کیا اور سخت ردعمل ظاہر کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ اگر مسٹر جادھو کو پھانسی ہوتی ہے تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے اور دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات پر منفی اثر پڑے گا۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلاتےہوئے کہا کہ مسٹر جادھو کو بچانے کے لئے جو کچھ بھی کرنا پڑے گا، وہ کیا جائے گا۔ وہ نہ صرف اپنے والدین کا بیٹا ہے بلکہ ملک کا بھی بیٹا ہے اور حکومت ان کی رہائی کی تمام کوشش کرے گی۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں آج کہا کہ ہندوستانی شہری كلبھوشن جادھو بے قصور ہیں اور پاکستان کی فوجی عدالت کا انہیں جاسوس بتا کر پھانسی دینے کا فیصلہ غلط ہے اس لئے اپنے شہریوں کو انصاف دلانے کے لئے حکومت ضروری قدم اٹھائے گی۔ لوک سبھا میں وقفہ سوالات شروع ہونے سے پہلے پورے ایوان کی طرف سے مسٹر جادھو کو پھانسی دینے کے پاکستانی فوجی عدالت کے فیصلے کی ایک سر میں سخت مذمت کئے جانے کے بعد مسٹر سنگھ نے کہا وہ اراکین کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے اراکین کو یقین دلایا کہ اس معاملے میں جو بھی ضروری ہو گا، حکومت ہر قدم اٹھائے گی اور یقینی بنائے گی کہ مسٹر جادھو کے ساتھ انصاف ہو۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ پاکستان کی یہ کارروائی انتہائی قابل مذمت ہے اور اس سے اس کا اصلی چہرہ سامنے آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر جادھو بے قصور ہیں۔ پاکستانی فوج نے گزشتہ سال مارچ میں ایران سے ان کا اغوا کیا تھا اور الزام لگایا کہ وہ جاسوسی کر رہے تھے۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ وہ ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر ہیں اور اپنے کام سے ایران گئے تھے۔وزیر داخلہ نے سوال کیا کہ مسٹر جادھو کے پاس ہندوستانی پاسپورٹ ہے تو ایسی صورت میں وہ جاسوس کیسے ہو سکتے ہیں۔ ان کے ایران کے چارواه میں وہاں کے ایک مقامی شخص کے ساتھ کاروباری تعلقات تھے اور اس سلسلے میں وہ مسلسل ایران جایا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پاکستان میں واقع اپنے ہائی کمیشن کے ذریعے ان کو وکیل فراہم کرنے کی 13 بار کوشش کی لیکن پاکستان نے اس کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے اسے نا انصافی بتایا اور کہا کہ حکومت اپنے شہری کو انصاف دلانے کی ہرحال میں کوشش کرے گی۔ اس سے پہلے کانگریس کے ملک ارجن کھڑگے نے كلبھوشن جادھو کو پھانسی کی سزا کا مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھایا۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما ملک ارجن کھڑگے نے پوچھا کہ حکومت اس مسئلے پر خاموش کیوں ہے؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر جادھو کو پھانسی ہوتی ہے تو اسے سوچا سمجھا قتل سمجھا جائے گا۔ کھڑگے نے کہا وزیر اعظم اگر پاکستانی وزیر اعظم کی بیٹی کی شادی میں بغیر بلائے جا سکتے ہیں تو یہ مسئلہ کیوں نہیں اٹھا سکتے؟ وہیں، وہیں، ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے لوک سبھا میں كلبھوشن جادھو کے معاملے پر پاکستان کو کھری کھوٹی سنائی۔

ملک میں پاکستان کے خلاف مظاہرے : كلبھوشن جادھو کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے خلاف لکھنؤ میں مسلمانوں کا زبردست مظاہرہ :ہندوستانی شہری كلبھوشن جادھو کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے خلاف آج یہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے پاکستان کے خلاف مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی۔ اسلامک سینٹر آف انڈ یا کے باہر ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ مدرسے کے ہزاروں طلبا نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سابق فوجی کی سزا معاف کرنے اور ان کی رہائی کو لے کر زبردست طریقے سے احتجاج درج کرایا۔مظاہرہ کرنے والے لوگ ’پاکستان، كلبھوشن کو رہا کرو' جیسے نعرے لکھے تختیاں پکڑے تھے اور پاکستان کی وحشیانہ کارروائی کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پڑوسی ملک کی فوجی عدالت نے بے قصور ہندوستانی کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی اور انہیں اپنی دلیل دینے کے لیے وکیل کا بھی انتظام نہیں کیا گیا۔ پاکستان کی یہ بزدلانہ حرکت ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/QYY6v

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے