Breaking News
Home / اداریہ / لال بتی کی گاڑی سعودی کی جہاز سے بہتر ہے:روزنامہ آج کا انقلاب کا اداریہ

لال بتی کی گاڑی سعودی کی جہاز سے بہتر ہے:روزنامہ آج کا انقلاب کا اداریہ

ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی 20؍ کروڑ سے زیادہ ہے ، پہلے کے مقابلے میں آج مسلمانوں میں تعلیم حاصل کرنے کا رحجان بھی بڑھ رہاہے لیکن تعلیم کو بامقصد بنانے والوں کی تعداد کم ہے ، جہاں ایک طرف نوجوان لڑکوں کو تعلیم صرف بڑی تنخواہوں کے لئے دلائی جارہی ہے وہیں لڑکیوں کو اچھے رشتوں کی خاطر تعلیم سے آراستہ کیا جارہاہے اسکے سواء مسلمانوں کے پاس اور کوئی مدعہ نہیں ہے ۔ مسلم نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو زیادہ سے زیادہ ڈاکٹرس ، انجنیئر س یا ٹیچر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور جو لڑکے ڈاکٹر یا انجنیئیر س بن رہے ہیں انہیں ہندوستان میں خدمت کرنے کے لئے ابھارنے کے بجائے بیرونی ممالک میں اچھی تنخواہوں کے لئے بھیجا جارہاہے جہاں پر یہ نوجوان اچھی تنخواہ تو حاصل کرتے ہیں لیکن اپنے ملک ، اپنی قوم اور اپنی ملت کے لئے کچھ خدمت کرنے سے رہ جاتے ہیں ، سب سے بڑی بات یہ بھی ہے کہ ان نوجوانوں کو اپنی شناخت بنانے کا بھی موقع نہیں ملتا اور وہ تاعمر کسی عرب یا یوروپی ملک میں گمنامی کی زندگی گزار کر واپس آجاتے ہیں ۔ آج جس ملک سے تعلیم حاصل کررہے ہیں ، جس قوم کے ہونے کی وجہ سے انہیں انجنیئر نگ یا میڈیکل سیٹ مل رہی ہے اس قوم کے لئے انکا تعاون نہ کہ برابر ہے ۔ عام طورپر میڈیکل یا انجنیئر نگ کی سیٹ حاصل کرنے والے مسلم نوجوانوں کو کیٹیگیری 2Bیا مائناریٹی ہونے کی وجہ سے ملتی ہے لیکن یہی2B کیٹیگیری کے نوجوان 2Bکے لئے کچھ کرنہیں پارہے ہیں اور نہ میں یہ جذبہ ہے ۔ آج مسلمانوں کو یقیناًڈاکٹرس و انجنیرنگ کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے لیکن جب روزگار کی بات آتی ہے تو وہ منہ پھیر کر اس ملک سے دورجانے لگے ہیں ۔ ہندوستان میں پبلک سرویس کمیشن کی بات کی جائے تو مسلمانوں کی نمائند گی اس میں روزبروز کم ہورہی ہے اور ہر ایک نوجوان ملٹی نیشنل کمپنی یا ابراڈ میں نوکری حاصل کرنے کی کوشش میں ہے جبکہ یو پی یس سی جیسے قدآور اور باوقار عہدوں پر وہی قومیں حاوی ہوئی ہیں جنکی اپنی کوئی پہچان نہیں ہے ۔ دلت اور برہمنوں نے ہندوستان کے اڈمنسٹریٹیو سسٹم میں اپنی پکڑ مضبوط کرلی ہے اور ان سے مسلمانوں کو کوئی خاص نمائندگی نہیں مل رہی ہے ۔ جہاں دلت اپنے ان عہدوں کے ذریعے سے اپنی ہی قوموں کو آبادکرنے اور آگے لانے کی کوشش کررہے ہیں وہیں برہمن مسلمانوں کے خاتمے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں ، یقیناًہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے ، اسکا دستور و آئین یہاں کے ہر شہر ی کو مساوات اور آزادی کا موقع دیتاہے لیکن اس دستور کو نافذ کرنے والے اگر ایک مخصوص طبقے سے تعلق رکھتے ہوں تو کیسے ممکن ہے کہ مسلمانوں کو برابری مل پائیگی ۔ گجرات کے فسادات کی ہی بات کریں ، اس وقت پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر مسلمانوں کا ایک بھی افسر تعینات نہیں تھا جس کی وجہ سے کھلے عام خون کی ہولی کھیلی گئی ، مسلمان مرتے رہے ، خواتین لوٹتی رہیں ، جائیدادیں جلتی رہیں لیکن مسلمانوں کی حفاظت کے لئے وہاں کوئی نہیں تھا کیونکہ ایک بھی مسلم اعلیٰ افسر اس موقع پر وہاں نہیں تھا ۔ مظفر نگر کی بات کریں وہاں بھی ایسا ہی ہوا ، حالانکہ یو پی میں مسلم سیاستدانوں کا کوئی فقدان نہیں تھا مگر ان سیاستدانوں کے احکامات کو ماننے والا کون ہے ، وہی برہمن و دلت افسران جب ٹھان لیں تو کیسے کوئی سیاستدان کی بات مان لے ۔ سب کو معلوم ہے کہ ہر فساد کے بعد ایک جانچ کمیٹی بیٹھے گی جس میں آئی اے یس اور آئی پی یس افسران شامل ہونگے اور ان میں بھی ایک بھی مسلمان نہ تو کیسے انصاف ملے گا۔ ان باتوں کو مسلم نوجوانوں کو سوچنا چاہئے۔ جو والدین اپنوں بچوں کو چند روپیوں اورعارضی خوشی کی خاطر اپنے اور اپنوں سے جداکررہے ہیں اگر و ہ ایک لمحے کے لئے سوچیں کہ انکا بیٹا آئی پی ایس افسر بن جائے ، یس پی ، آئی جی یا ڈی آئی جی کے عہدے پر فائز ہوجائے ، انکی بیٹی آئی اے یس افسر بن جائے ، اسکا اٹھنا بیٹھنا بڑے بڑے منسٹروں کے درمیان ہو، ضلع کے انتظامات اسکے ماتحت ہوں ، پولیس اہلکار سلامی دیں تو کتنے فخرکی بات ہوگی ؟۔ ہم ایسا بہت کم سوچتے ہیں اگر ہمیں ان عہدوں کی اہمیت معلوم ہوجائے تو سعودی ، دبئی کے خواب پھیکے پڑجائینگے اور ہر گلی سے ایک اعلیٰ افسر سامنے آئیگا۔ اس کے لئے زیادہ کچھ نہیں کرنا پڑیگا ۔ کسی بھی گریجویشن کے بعد محض دو سال کی مسلسل محنت ولگن سے پڑھائی کرے تو یقیناًوہ آئی اے یس یا آئی پی یس افسر بن سکتے ہیں اسکے بعد انہیں عزت ، دولت اور شہر ت انکے قدم چومے گی اور انہیں قوم و ملت کی خدمت کرنے کا جو موقع ملے گا اس کا کوئی متبادل طریقہ نہیں ۔ ہمیں دبئی و سعودی کے خوابوں کو چھوڑ کر لال بتی کی گاڑی میں گھومنے والے بنیں۔لال بتی کی گاڑی سعودی کے جہاز سے بہتر ہے۔ (مضمون نگار مدثر احمد روزنامہ آج کا انقلاب کے ایڈیٹر  ہیں)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/KFbj0

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے