Breaking News
Home / اہم ترین / لباس اوراسلامی تعلیمات ۔از: مفتی محمدعبداللہ قاسمی

لباس اوراسلامی تعلیمات ۔از: مفتی محمدعبداللہ قاسمی

اسلام ایک جامع اورمکمل دین ہے،اعتدال اورتوازن مذہب اسلام کاخصوصی وصف ہے،اس کی تعلیمات انسانی زندگی کے ہرشعبہ کومحیط ہیں،زندگی کاکوئی زاویہ ایسانہیں ہے جس میں اسلام نے اپنے پیروکاروں کی ٹھوس اورمضبوط رہنمائی نہ کی ہو،عبادات ہویامعاملات،اخلاقیات ہویااقتصادیات،مناکحت ہویامعاشرت غرض ہرشعبہ میں اسلام کی ہدایات موجودہیں،اوران تعلیمات میں ایک طرف انسان کی فطرت اوراس کے مزاج ومذاق کوپوری طرح ملحوظ رکھاگیاہے تودوسری طرف یہ عدل ومساوات کاخاص مظہرہیں۔

لباس کے متعلق اسلامی ہدایات:اسلامی ہدایات کاایک حصہ انسان کے لباس اوراس کے پوشاک سے متعلق ہے،لباس اللہ کی عظیم نعمت ہے،سترپوشی اورانسانی جسم کی زینت کاسامان ہے،سردی اورگرمی سے حفاظت کابہترین ذریعہ ہے،اسلام نے اس پہلوسے بھی مسلمانوں کوبڑی واضح ہدایت دی ہیں،اگرمسلمان ان ہدایات پرعمل کرتاہے،اورشرعی تعلیمات کی روشنی میں جسم کوچھپانے کے لئے لباس کاانتخاب کرتاہے تونہ صرف یہ کہ ظاہری طورپراس کاجسم جمال وزینت کامظہرہوگا؛بلکہ وہ دونوں جہاں کی ابدی سعادتوں سے مالامال ہوگا،ذیل میں لباس کے متعلق اسلام نے جوہدایات دی ہیں ان کااختصارکے ساتھ تذکرہ کیاجاتاہے:

سترعورت کااہتمام:لباس کے حوالہ سے بنیادی طورپراسلام یہ ہدایت دیتاہے کہ اس سے قابل شرم اعضاء چھپ جائیں،اورلوگوں کی نگاہوں سے مستورہوجائیں،مردکاقابل سترحصہ ناف سے لے کرگھٹنے تک ہے،اورعورت کے لیے دونوں ہاتھ اوردونوں قدم چھوڑکرپورابدن قابل سترحصہ ہے،کسی مردکے سامنے ناف سے گھٹنے تک کے کسی حصہ کوکھولنامردکے لئے شرعاناجائزہے،اسی طرح کسی اجنبی کے سامنے دونوں ہاتھ اوردونوں قدم کے علاوہ بدن کے کسی حصہ کوکھولناشرعاعورت کے لئے ناجائزاورحرام ہے،ہاں اگر سخت مجبوری ہوتواوربات ہے،لہذا مرداورعورت کوایسے پوشاک کاانتخاب کرناازحدضروری ہے جس سے ان کے قابل سترحصے چھپ جائیں،اورلوگوں کی نگاہ اس پرنہ پڑسکے،آج جدیدتہذیب کے نام پربازاراورمارکیٹوں میں دیدہ ودانستہ ایسے لباس کوفروغ دیاجارہاہے جس میں لباس کے اس بنیادی مقصدکودیدہ ودانستہ نظراندازکیاجارہاہے،اورجدیدفیشن کاسہارالے کربے حیائی اورعریانیت کومنظم اورہمہ گیراندازمیں پھیلایاجارہاہے،چنانچہ آج آپ کسی بھی کپڑے کی دکان پرچلے جائیے وہاں یاتوایسے باریک اورپتلے لباس ملیں گے جن کوزیب تن کرنے کے باوجودجسم صاف جھلکتاہے،یاایسے تنگ اورچست لباس ملیں گے جن سے اعضاء کے نشیب وفرازنظرآتے ہیں،اوردیکھنے والے کودعوت نظارہ دیتے ہیں،لہذاایک مسلمان کولباس کاانتخاب کرتے وقت جدیدفیشن کی پیروی نہ کریں،جووقت بدلنے کے ساتھ بدلتارہتاہے،بلکہ وہ اس بات کاخاص خیال رکھیں کہ وہ نہ اتناباریک ہوکہ جسم کے خدوخال نظرآئیں اورنہ اتناتنگ اورچست ہوکہ جسم کے ابھاردکھائی دیں،بلکہ لباس ڈھیلاڈھالاہو،اوراس کی لمبائی اتنی ہوکہ قابل ستراعضاء چھپ جائیں۔

زینت وآرائش کاسامان :لباس کاایک مقصدیہ بھی ہے کہ وہ انسان کے لئے زیب وجمال کاذریعہ ہو،اورسلیقہ وتہذیب کی علامت ہو،لہذاایک مسلمان کوچاہیے کہ وہ لباس کے انتخاب میں اس مقصدکوبھی ا پنے پیش نظررکھے،ایسالباس نہ پہنے کہ وہ کوئی عجوبہ یاکھلونانظرآئے،جس سے وہ لوگوں کی تفریح اوردل لگی کاذریعہ بن جائے،قرآن کریم میں اللہ جل شانہ نے لباس کے مقاصدکوبیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا:اے بنی آدم!ہم نے تم پرلباس نازل کیاجوتمہارے قابل ستراعضاء کوچھپائے اورتمہارے لئے زینت کاذریعہ ہو۔(الاعراف:۲۶)لباس کاانتخاب ہمیشہ اپنے وسعت وحیثیت کے لحاظ سے کرناچاہیے،نہ اتناقیمتی اوربیش بہالباس ہوکہ دل میں فخروتکبرکااحساس ابھرنے لگے،اوردوسروں کوتحقیرآمیزنظروں سے دیکھنے لگے،اورنہ اتناشکستہ اوربوسیدہ پیراہن ہوکہ شکل وصورت سے انسان مجسم سوال نظرآئے،اوردوسرے اس کومحروم ومہجورسمجھنے لگیں،بلکہ اعتدال اورتوازن کوملحوظ رکھتے ہوئے انسان اپنے لئے صاف ستھرے پوشاک کاانتخاب کرے،لباس کی وجہ سے وہ سلیقہ منداورمہذب نظرآئے،اورلباس سے متانت وسنجیدگی اوروقاروشائستگی جھلکے۔حدیث شریف میں ہے:اللہ تعالی اس بات کوپسندکرتے ہیں کہ اس کی نعمتوں کے اثرات بندے پرنظرآئیں۔(ترمذی،حدیث نمبر:۲۸۱۹)

مشابہت سے پرہیز:شریعت کے عمومی مزاج اوراس کے احکام وعلل کابغورجائزہ لینے سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام نے قدم قدم پر اس بات کاخیال رکھاہے کہ اس میں اجنبی اثرات درنہ آئیں،اورغیراسلامی رسوم ورواج سے شریعت اسلامیہ کا صاف وشفا ف سر چشمہ گدلانہ ہو،بلکہ نصوص شریعت کاگہرائی وگیرائی سے مطالعہ کیا جائے تومعلوم ہوگاکہ غیرقوموں کی تہذیب وثقافت اوران کے رسوم ورواج کی مخالفت اسلام کا مقصود اورمطمح نظرہے،عبادت ہویامعاشرت ،اخلاقیات ہویاسماجیات ہرایک کی بابت اسلام نے رہنمایانہ خطوط وضع کیے ہیں،اورپنے پیروکاروں کے لئے دین کاایساروح پرورمرقع پیش کیاہے جس کے نقش ونگار اوربیل بوٹوں میں غیرقوموں کی تہذیب وثقافت سے مددنہیں لی گئی ہے؛بلکہ اسلام نے امت مسلمہ کو ایک جامع ہدایت دی کہ غیرمنصوص مسائل میں جب اجتہاد اوراستنباط کی ضرورت پیش آئے تواس میں اصولی طورپریہ خیال رکھاجائے کہ غیرقوموں کی تہذیب وثقافت کا رنگ اسلا م پر نہ چڑھنے پائے،اوران کے عادات واطوارکی چھاپ مذہب اسلام پرنہ پڑے،چنانچہ آپ ﷺکاارشادہے :من تشبہ بقوم فہو منہم (مشکاۃ المصابیح ،حدیث نمبر:۴۳۴۷)جوشخص کسی قوم کی مشابہت اختیارکرے تووہ انہی میں سے ہوگا۔اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے شارح مشکاۃ علامہ طیبی ؒ فرماتے ہیں:ہذاعام فی الخلق والخلق والشعار(مرقاۃ المفاتیح:۷/۲۷۸۲)اس وعید کے تحت تہذیبی واخلاقی دونوں قسم کی مشابہت داخل ہے۔لباس اورپوشاک کا استعمال کرتے وقت غیرقوموں کی مشابہت سے پرہیزکرنابے حدضروری ہے،ایسالباس انتخاب کرناچاہیے کہ جوعام مسلمانوں کاہواورغیرقوموں کی نقالی نہ برتی گئی ہو،کیوں کہ لباس کاانسان کی زندگی پربڑاگہرااثرپڑتاہے،انسانی اخلاقیات کی تعمیروتشکیل میں لباس بہت ہی اہم کرداراداکرتاہے،اگرفاسق وفاجرکالباس زیب تن کیاجائے تواس سے انسان کے اخلاق ورجحانات پرمنفی اثرات پڑتے ہیں،اورفاسق وفاجرکی صفات انسان کے اندرپیداہوتی ہیں،اوراس بات کوآج کی جدیدسائنس اورماہرین نفسیات بھی تسلیم کرتے ہیں کہ لباس اورپوشاک انسان کے اخلاق ورجحانات پرغیرمعمولی اثرڈالتے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمروؓکی روایت ہے کہ حضورﷺ نے مجھے زردلباس پہنے دیکھاتوآپ ﷺ نے فرمایا:ان ہذہ من ثیاب الکفارفلاتلبسہا(مسلم ،حدیث نمبر:۲۰۷۷)یہ کفارکالباس ہے ؛اسے مت پہنو۔

عجب وکبرسے پرہیز:لباس اورپوشاک کے استعمال کے وقت اس بات کابھی خیال رکھناضروری ہے کہ اس لباس کوزیب تن کرنے کی وجہ سے دل میں عجب وکبرپیدانہ ہو،اوراس لباس کی وجہ سے غریب اورتہی دست لوگوں کے حوالہ سے تحقیروتنقیص کاخیال دل میں نہ ابھرنے پائے،اگرکسی لباس کوزیب تن کرنے کی وجہ سے اس طرح کامنفی خیال دل میں آتاہے توپھراس قسم کالباس استعمال کرنادرست نہیں ہے،حضرت عمرابن خطابؓ کے بارے میں آتاہے کہ انہوں نے ایک جبہ پہن کرخطبہ دیا،خطبہ کے بعدگھرتشریف لے گئے،اورجبہ اتارکرگھرکے ایک کنارہ میں ڈال دیا،اورفرمایاکہ اس جبہ کی وجہ سے میرے دل میں کبراورنخوت پیداہوئی؛لہذامیں اب یہ جبہ کبھی استعمال نہیں کروں گا۔لیکن کسی کپڑے کوپہننے کے بعدآیادل میں شکرکاجذبہ پیداہوایاکبروغرورکاخیال تواس میں امتیازکرنے کے لئے بزرگان دین کی صحبتوں میں بیٹھنااوران کی ہدایات کے مطابق زندگی گزارنابے حدضروری ہے،اس کے بغیرزندگی کے صحیح رخ اورغلط رخ میں امتیازکرناکافی مشکل کام ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/gfDM7

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے