Breaking News
Home / اہم ترین / لوجہاد کے نام پر مارے گئے افراز کے گھر بڑی تعداد میں سیاست دانوں کی آمد ۔ جگہ جگہ احتجاج، ملی رہنماؤں کا شدید رد عمل

لوجہاد کے نام پر مارے گئے افراز کے گھر بڑی تعداد میں سیاست دانوں کی آمد ۔ جگہ جگہ احتجاج، ملی رہنماؤں کا شدید رد عمل

کلکتہ۔ (ہرپل نیوز،ایجنسی)10ڈسمبر۔مغربی بنگال کی حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران راجستھان کے راجسمند ضلع میں لوجہاد کے نام پر مارے گئے افرازالاسلام خان کے آبائی گاؤں مالدہ ضلع کے سیدپورجا کر افراز کے اہل خانہ سے ملاقات اور ان کی ہر ممکن مدد کرنے کی یقین دہانی کرا رہے ہیں ۔ وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے کل ہی 46سالہ افرازالاسلام خان کے اہل خانہ کو 3لاکھ روپے معاوضہ اور گھر کے ایک فرد کو نوکردی دینے کا اعلان کیا تھا ۔ افرازالاسلام کے پاس تین بیٹیاں ہیں ۔ بیوہ کے علاوہ ماں بھی ہیں ۔ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈران وریاستی وزراء فرہاد حکیم،شوبھندو ادھیکاری، تین ممبران پارلیمنٹ سدیپ بندو پادھیائے، سوگاتارائے اور کاکولی دستیدار نے سیدپور گاؤں کا دورہ کرکے افراز کے گھر جاکر ملاقات کی ۔ پانچ لاکھ روپیہ چیک دیا ۔جس میں دو لاکھ روپے پارٹی کی طرف سے دئے گئے۔ تین لاکھ روپیہ حکومت کی طرف سے دیا گیا ہے۔ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈران وریاستی وزراء فرہاد حکیم،شوبھندو ادھیکاری، تین ممبران پارلیمنٹ سدیپ بندو پادھیائے، سوگاتارائے اور کاکولی دستیدار نے سیدپور گاؤں کا دورہ کرکے افراز کے گھر جاکر ملاقات کی ۔وہیں کانگریس کے راجیہ سبھا کے رکن پردیپ بھٹاچاریہ اور دیگر پارٹی کے لیڈران کے ساتھ سید پور گاؤں جاکر فراز کے اہل خانہ سے ملاقات کی ۔ کانگریس اور بایاں محاذ کی جماعتوں نے کلکتہ میں ریلی نکالی۔

افرازالاسلام کے بے رحمانہ قتل کے خلاف مظاہرے:مغربی بنگال کے افرازالاسلام کے مبینہ بے رحمانہ قتل اور اس کے ویڈیو کووائرل کرنے کے خلاف آج یہاں مختلف طلبہ اور دیگر تنظیموں نے بیکانیر ہاؤس پر مظاہرہ کرکے لوجہاد، گؤ ہتیا اور دیگر ناموں سے قتل روکنے، نفرت کے ماحول کو ختم کرنے اور وسندھرا راجے حکومت کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرہ میں مقررین نے کہا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے راجستھان میں پہلو خاں، جنید اور عمر خاں کا قتل کردیا گیا ہے مگر اس کے خلاف مناسب کارروائی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے قاتلوں کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب سے مرکز میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے بے گناہوں کا قتل آسان ہوگیا ہے اور قاتل بے خوف ہوکر نہ صرف قتل کر رہے ہیں بلکہ قتل کا ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال بھی رہے ہیں۔مقررین نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ اس طرح کا قتل پہلی بار ہورہا ہے بلکہ اس سے پہلے بھی قتل ہوتے رہے ہیں لیکن قاتل اپنی شناخت پوشیدہ رکھتا تھا اور نشان نہیں چھوڑتا تھا لیکن اب کھلم کھلا اپنی شناخت ظاہر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھ لینا کہ یہ قتل مسلمانوں کا ہورہا ہے بے وقوفی ہوگی بلکہ اس کا نشانہ ہر وہ انسان ہے جس کی منہ میں زبان ہے اور جو سنگھ پریوار کی مخالفت کرتا ہے۔مقررین نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ اس طرح کا قتل پہلی بار ہورہا ہے بلکہ اس سے پہلے بھی قتل ہوتے رہے ہیں لیکن قاتل اپنی شناخت پوشیدہ رکھتا تھا اور نشان نہیں چھوڑتا تھا لیکن اب کھلم کھلا اپنی شناخت ظاہر کر رہا ہے۔: فوٹو، ندیم خان کے فیس بک وال سے۔جے این یو طلبہ لیڈر عمر خالد نے کہا کہ سنگھ پریوار کے نظریہ میں مسلمان تو دشمن ہیں ہی بلکہ وہ خواتین کا بھی احترام نہیں کرتے۔ ان کی نظر میں خواتین صرف ایک بچہ پیدا کرنے والی مشین ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو ان کی شاخاؤں میں خواتین کیوں نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ افرازا لاسلام کا قتل صرف ایک قتل نہیں ہے بلکہ سماج کو دہشت زدہ کرنے کی ایک کوشش اور سماج کو قاتل بنانے کی ایک پہل ہے۔ یہ لوگوں کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں نفرت پیدا کرنے سے صرف مسلمان ہی اس کا شکار نہیں ہوں گے بلکہ ایک دن اکثریتی دلت اور کمزور طبقہ بھی اس کا شکارہوگا۔ انہوں نے راجستھان حکومت اور خاص طور پر گلاب سنگھ کٹاریہ سے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ امن و قانون کو نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ان کے دور حکومت میں مجرموں کے دل سے قانون کا خوف ختم ہوگیا ہے۔

اے آئی ایس ایف کی لیڈر راحیلہ سنبل نے کہا کہ جمہوری ملک میں سب کو آزاد ی ہے کہ وہ کیا کھائے کیا پہنے، کس سے شادی کرے لیکن سنگھ پریوار نے ان تمام امور پر پہرہ بٹھا رکھا ہے۔فوٹو، ندیم خان کی فیس بک وال سے۔ اے آئی ایس ایف کی لیڈر راحیلہ سنبل نے کہا کہ جمہوری ملک میں سب کو آزاد ی ہے کہ وہ کیا کھائے کیا پہنے، کس سے شادی کرے لیکن سنگھ پریوار نے ان تمام امور پر پہرہ بٹھا رکھا ہے۔فوٹو، ندیم خان کی فیس بک وال سے۔اے آئی ایس ایف کی لیڈر راحیلہ سنبل نے کہا کہ جمہوری ملک میں سب کو آزاد ی ہے کہ وہ کیا کھائے کیا پہنے، کس سے شادی کرے لیکن سنگھ پریوار نے ان تمام امور پر پہرہ بٹھا رکھا ہے۔ ان کی نظر میں لڑکیاں غلام ہیں جو ان کی مرضی پوچھ کر اپنا کام کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس لئے کامیاب ہے کیوں کہ وہ ہمارے درمیان تفرقہ ڈال کر اپنا کام کررہے ہیں اگر ہم ان کی چال کو سمجھیں اوران کے نظریہ کو جانیں تو سب کو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ وہ ہندوؤں کا بھی بہی خواہ نہیں ہے۔ طلبہ لیڈر شریہ نے کہا کہ ملک میں جس طرح نفرت کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے اور سماج کو بانٹا جارہا ہے یہ ملک کے لئے اچھا نہیں ہے اور اس سے نہ صرف افراتفری پھیلے گی بلکہ سماج مختلف خانوں میں بٹ کر امن و قانون کا مسئلہ پیدا کردے گا۔ مظاہرہ کرنے والی تنظیموں میں نیشنل موومنٹ فرنٹ، اے آئی ایس ایف، ایس ایف آئی، اے آئی سی سی ٹی یو، کے وائی ایس، پچھاس، ڈی ایس یو اور دیگر تنظیمیں شامل تھیں۔

راجستھان کے ضلع راجسمند میں ’’لو جہاد کے نام پر 50سالہ بنگالی مسلم ‘‘ کے قتل کے خلاف جادو پور یونیورسٹی کے طلبا ء کا ایک گروپ نے کلکتہ میں واقع آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر کیشو بھون کے گھیراؤ کیلئے جلوس نکالا تھا مگر جلوس کو راستے میں روک دیے جانے پر پولس اور طلباء کے درمیان جھڑپ ہوگئی جس میں کئی افراد زخمی ہوگئے ۔پولس کے ذریعہ لگائے گئے بریگیڈ کو توڑنے کی کوشش کررہے طلباء کو گرفتار کیے جانے کے بعد ہی طلباء بے قابو ہوگئے اور پولس و طلباء کے درمیان جھڑپ ہونے لگی۔اس میں تین طلباء اور دو پولس اہلکار زخمی ہوگئے ۔پولس نے اس معاملے میں 20 طالب علم کو گرفتار کیا ہے ۔جادو پور یونیورسٹی کے ایک طالب سادانائیک مکھوپادھیائے نے بتایا کہ جلوس پر امن انداز میں آگے بڑھ رہاتھاکہ اسی درمیان پولس نے ہمارے ساتھ سختی شروع کردی اور ہمارے کچھ ساتھیوں کو گرفتار کرکے پولس اسٹیشن لے گئے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ہماری ساتھی طلباء کو بلا شرط رہا کیا جائے ۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہم اس کے خلاف بڑی مہم چلائیں گے۔جادو پور یونیورسٹی کے طلباء نے بتایا کہ راجستھان کے راجسمند ضلع میں پیش آنے والے یہ بہیمانہ واقعہ نے ثابت کردیا ہے کہ آر ایس ایس نے ملک کے نوجوانوں میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جو زہر پھیلایا تھا، وہ بے قابو ہوتا جارہا ہے ۔اب کوئی بھی شخص محفوظ نہیں ۔کسی کا بھی کسی بھی وقت قتل ہوسکتا ہے ۔یہ کوئی ایک فرد کی حرکت نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے اس لیے ہم لوگ آر ایس ایس کے دفتر کا گھیراؤ کرنے کا پروگرام بنایا تھا ۔مگر پولس نے اس پرامن جلوس کو تشدد میں تبدیل کرکے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے ۔دوسری جانب مغربی بنگال کی وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے راجستھان میں لو جہاد کے نام پر مارے گئے بنگالی مسلم افرازالاسلام کے اہل خانہ کو 3لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے ۔افرازالاسلام کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ راجستھان میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے ۔ہماری ریاست کے مالدہ ضلع کے رہنے والے افرازالاسلام خان کو بہیمانہ انداز میں قتل کردیا گیا ہے ۔اس کی وجہ سے اس کے خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ گیا ہے ۔ہم اس خاندان کی چھوٹی سی مدد کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ مقتول کے خاندان کو بنگال حکومت 3لاکھ روپے دے گی۔وزیرا علی ممتا بنرجی نے اس واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد ہی کل ٹوئیٹ کرتے ہوئے اس پورے واقعہ پر غم و غصہ کا اظہار کیا تھا اورٹوئٹ میں کہا تھا کہ کوئی انسان اس قدر حیوانیت پر کیسے اتر سکتا ہے ؟۔

مولانااسرارالحق قاسمی اور احمد بخاری کا شدید ردعمل:اس وقت وطن عزیز کی صورت حال نہایت نازک اور تشویشناک دور سے گزررہی ہے اور اگر ملک کے باشعور ،سنجیدہ شہریوں نے اس پر توجہ نہیں دی تو اندیشہ ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت کی بنیادیں ہلادی جائیں گی۔ ان خیالات کا اظہارممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے کشن گنج کے دورے کے دوران ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہزاروں سال سے مختلف مذاہب اور فرقہ کے لوگ رہتے آئے ہیں مگر آج مٹھی بھر فرقہ پرسر عناصراس ملک کے مشترکہ کلچر کو برباد کردینا چاہتے ہیں۔مولانا نے کہا کہ ابھی محض دوتین دن کے اندر لوجہاد،گؤرکشا وغیرہ کے نام پر کم ازکم تین ایسے واقعات ہوئے ہیں جنہوں نے حساس ہندوستانیوں کو ہلاکر رکھ دیاہے،راجستھان میں ایک شخص جس طرح بنگال کے ایک مسلمان مزدور کو نہایت بے رحمی قتل کرتاہے اور پھر اسے پٹرول چھڑک کرجلادیتا ہے اور باقاعدہ اس کا ویڈیوبناتا ہے اور پورے ملک کے کروڑوں شہریوں کو نفرت و دشمنی کا پیغام دینا چاہتا ہے۔ یہ واقعہ فی نفسہ اتنا دل دوز ہے کہ کوئی شخص اسے دیکھنے اور سننے کی بھی ہمت نہیں کرسکتا۔

اسی طرح راجستھان ہی کے الورمیں پھر ایک مسلمان کو گائے اسمگلنگ کے نام پر ماردیاگیاہے،نفرت کی یہ آگ اب بہ تدریج بہار کی پر امن ریاست تک بھی پہنچ رہی ہے اور دہلی سے بھاگلپور آنے والی ٹرین میں ایک حافظ قرآن کے ساتھ بہار میں دست درازی کی گئی،گالی گلوچ کیاگیا اور اسے مارنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مولانا قاسمی نے ان واقعات کے حوالے سے پورے ملک کے شہریوں سے سوال کیاہے کہ آخر ہندوستان کی اجتماعی ذہنیت کس طرف جارہی ہے اور ہم اس ملک کو کس سمت میں لے جانا چاہ رہے ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ ملک کے یہ حالات ان سیاست دانوں اور میڈیاچینلوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں جو اپنے اپنے مفاد حاصل کرنے کے لئے رات دن مذہبی منافرت پر مبنی بیانات دیتے اور انہیں نشر کرتے رہتے ہیں،انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان کی جمہوری روح کو برقراررکھنا ہے اور ملک کو حقیقی ترقی و خوشحالی کی سمت میں آگے لے جانا ہے تو اس قسم کی نفرت انگیز حرکتوں سے بازآنا ہوگا ورنہ ہمارے ملک کو برباد ہونے سے کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔

شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے کہا کہ مسلمانوں نے بہت صبر سے کام لیا ہے۔ حکومت اب ہمارے صبر کا اور امتحان نہ لے۔ اب تک ہم بہت سے واقعات پر مصلحتاً خاموش رہے۔لیکن اب خاموش رہنے کا وقت نکلتاجارہاہے۔ بار بار ملک میں قومی یکجہتی کی بات کی جاتی ہے اور بھائی چارے کو قائم رکھنے پر زور دیا جاتا ہے لیکن کیا قومی یکجہتی کے قیام کی ذمہ داری صرف مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔ بے قصور مسلمانوں کو چن چن کر ہلاک کیا جائے اور پھر بھی قومی یکجہتی کا نعرہ ہم ہی لگائیں۔انہوں نے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی ٹویٹ کرتے ہیں، لیکن اس درندگی پر خاموش کیوں ہیں؟ وہ اپنی انتخابی ریلیوں میں بہت سے معاملات پر تو بول رہے ہیں ۔لیکن اس بربریت پر انہیں اپنے فرض منصبی کومکمل ذمہ داری کے ساتھ اداکرناچاہئے۔اور ایسے وا قعات کو روکنے کی پوری کوشش کرناچاہئے۔امام بخاری نے یہ بھی کہا کہ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ملک میں نفرت کا ایک ماحول بنا دیا گیا ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ یہ ماحول صرف مسلمانوں کو ہی نقصان نہیں پہنچا رہا ہے بلکہ اس سے ملک کو بھی شدید نقصان ہو رہا ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ملک کے مختلف حصوں میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور حکومت شرپسند عناصر کے سامنے بے بس ہے۔انہوں نے حکومت سے کہاکہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے واقعات کو روکے اور قصورواروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/G0LYx

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے