Breaking News
Home / اہم ترین / مجرمانہ سرگرمیاں ناقابل معافی جرم ۔وزیر داخلہ جی پرمیشورنے سماج مخالف عناصر سے سختی سے نمٹنے کا دیا اشارہ

مجرمانہ سرگرمیاں ناقابل معافی جرم ۔وزیر داخلہ جی پرمیشورنے سماج مخالف عناصر سے سختی سے نمٹنے کا دیا اشارہ

بلگاوی(ہرپل نیوز)25 نومبر: وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے بتایاکہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی فرد کو بخشا نہیں جائے گا چاہے وہ کتنا بھی بارسوخ کیوں نہ ہو۔قانون ساز کونسل میں انہوں نے بتایاکہ قتل ، ڈکیتی اور آبروریزی جیسے واقعات سے کسی بھی حکومت کا وقار بلند نہیں ہوگا اور یہ تصور بھی غلط ہے کہ حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ریاستی حکومت سماج دشمن عناصر سے سختی سے نمٹنے کی پابند ہے۔ انہوں نے بتایاکہ قتل ، غارتگری اور دیگر جرائم میں ملوث افراد چاہے آر ایس ایس سے تعلق رکھتے ہوں ،اگر ان کا تعلق کانگریس سے ہو یا کسی اور تنظیم سے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، کیونکہ جرم ، جرم ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں خواتین پر ہورہے مظالم کی روک تھام کیلئے چھ مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ مقامی بلدی اداروں کے تعاون سے مختلف مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا عمل بھی شروع کردیاگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلور اور میسور سمیت دیگر مقامات پر قتل معاملات کو حل کرنے میں پولیس نے کامیابی حاصل کرلی ہے اورےہ تبھی ممکن ہوسکا جب سی سی ٹی وی کیمرے کے فوٹیج سے ثبوت حاصل ہوئے۔ حکومت کے ذریعہ جرائم کی روک تھام کیلئے سخت ترین اقدامات کئے گئے ہیں ۔اعداد وشمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ2014کے دوران 1629 قتل، 1665 آبروریزی اور 6829 فسادات کے معاملات پیش آئے تھے۔ 2015میں قتل کے 1539 ، آبروریزی کے 1495اور فسادات کے 6673 معاملات رونما ہوئے تھے۔ رواں سال کے دوران 1351 قتل ، 1362آبروریزی اور 5417 فسادات کے معاملات منظر عام پر آئے ہیں۔ملزمین کو گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں بھی دے دیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں اپوزیشن لیڈر کے ایس ایشورپا نے بتایاکہ شیموگہ میں 17سالہ طالبہ کا اغوا کرتے ہوئے مسلسل 45دنوں تک اجتماعی آبروریزی کی گئی، جس پر وی ایس اگرپا نے اعتراض کرتے ہوئے بتایاکہ ایوان میں جھوٹا بیان نہ دیا جائے، کیونکہ وہ خود شیموگہ کا دورہ کرکے آئے ہیں اور تمام تفصیلات حاصل کئے ہیں، جس پر ایشورپا نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا آپ وزیر ہیں؟۔ جو مجھے جواب دے رہے ہیں تو وزیر اعلیٰ نے مداخلت کرتے ہوئے بتایاکہ اگرپا خواتین اور بچوں پر ہورہے استحصال کمیٹی کے صدر ہیں۔ جس کے سبب انہوں نے شیموگہ پہنچ کر جائزہ لیا ہے۔ اپوزیشن بی جے پی نے آر ایس ایس اور ہندو نواز کارکنوں کے قتل کا معاملہ اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت جان بوجھ کر ان معاملات کو دبانے کی کوشش کررہی ہے اور حکومت کے جواب سے غیر مطمئن بی جے پی اراکین نے اجلاس سے واک آوٹ کیا۔

 ہیلمٹ کے لزوم کو لیکر شیموگہ میں پولیس سرگرم۔ جابجاجرمانے، اور دھر پکڑ

شیموگہ(ہرپل نیوز)25 نومبر:۔ ریاست میں اسی سال ہیلمٹ کے استعمال کو لازمی قرار دئےے جانے کے بعدضلع بھر میں ہیلمٹ کو لاگو کیا گیا تھا مگر پچھلے دو تین مہینوں سے پولیس نے نرمی اختیار کی تھی،اس کے بعد شہر میں بعض مقامات پر ہونے والے سڑک حادثوںمیں بائک سواروں کی موت کے بعد پولیس نے ہیلمٹ کے استعمال کو سختی سے لاگو کرنے کیلئے آج سے مہم شروع کردی ہے۔ شہر کے دونوںٹرافک پولیس تھانوںکے انسپکٹروںکے علاوہ تقریباً سات اسسٹنٹ سب انسپکٹر شہر کے مختلف مقامات پر موٹر بائک سواروں کامعائنہ کررہے ہیں اور ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنے پر ان پر جرمانہ عائد کررہے ہیں ۔ اندازے کے مطابق آج صبح سے شام نو بجے تک پولیس نے 600موٹر بائک سواروں پر جرمانہ عائد کئے ہیں،ساتھ ہی ساتھ ان کے موٹربائک کے نمبرات کو نوٹ بھی کرلیا گیا ہے ۔اگر یہ موٹر بائک سواردوبارہ کسی غلطی میں پکڑے جاتے ہیں تو ان کے خلاف نوٹس جاری کی جائیگی۔

 

The short URL of the present article is: http://harpal.in/r425c

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے