Breaking News
Home / اہم ترین / محمد علی پرواز نہیں رہے۔ مشاعروں میں گونجنے والی سحر آفریں آوازخاموش۔ اردو داں حلقہ میں غم کی لہر

محمد علی پرواز نہیں رہے۔ مشاعروں میں گونجنے والی سحر آفریں آوازخاموش۔ اردو داں حلقہ میں غم کی لہر

 بھٹکل( ہرپل نیوز )12مارچ:بھٹکل کے  معرو ف نوائطی شاعر  جناب محمد علی پرواز کا آج شام 87سال کی عمر میں بھٹکل میں انتقال  ہوگیا ۔  محمدعلی  پرواز کے انتقال  سے اردو اور نوائطی شاعری کی ایک مستحکم آواز خاموش ہو گئی ہے ۔ ان کے انتقال کی وجہ سے بھٹکل کے نوائطی  اور اردو ادب کے  قارئین میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ پرواز صاحب ادھر کئی عرصہ سے اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے  صاحب فراش تھے اور کسی بھی ادبی پروگرام میں  شرکت نہیں کرتےتھے ۔  پرواز صاحب نے اپنی جوانی کے ایام دبئی  میں گزارے اس دوران آپ نے وہاں کی جماعتی سر گرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔آپ وہاں کی مشہور بن دلموک مسجد میں دو وقت  آذان دینے پر مامورتھے۔ آپ خوش گلو آواز کے مالک تھے ، نوائطی اور اردو مشاعروں میں اپنی آواز کا جادو  جگاتے تھے ۔ موجودہ سماج کی کمیوں اور خامیوں کو انہوں نے اپنی شاعری کا موضوع بنایا ۔ان کی بعض نظمیں انتہائی شاہکار ہیں جن میں بھٹکل کے بعض علاقوں میں  غربت کی وجہ سے تنگ زندگی  گزار رہے  خاندانوں کی صورتحال کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے ۔  آپ ایک اچھے خوش نویس بھی تھے۔بعض ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق آپ نے اپنے شروع دور میں  ممبئی کے روزنامہ انقلاب کے لئے اخبار نویسی کا بھی  کام کیا ۔ بھٹکل میں آپ نے نوائطی ادب و شاعری اور تہذیب  کی ترویج کے لئے قائم  نوائط محفل کے ساتھ بھی تعاون کیا۔ کچھ ہی مہینوں قبل ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں نوائط محفل کی جانب سے   ایک سپاس نامہ پیش کر کے  ان کی شال پوشی کی گئی تھی۔ اپنی بہت ساری صلاحیتوں کی وجہ پرواز صاحب دیر تک یاد رکھے جائیں گے ۔  ان کے انتقال پر بھٹکل کے اہل ذوق میں  سوگ کا ماحول ہے ۔ ہرپل آن لائن ان کے تمام لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے بلندی درجات کے لئے دعا گو ہے ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/vU1YA

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے