Breaking News
Home / اہم ترین / مخالفین کی لاکھ کوششوں کےباوجود ٹیپو جینتی منائی جائے گی۔منگلورمیں سدارامیا کااظہار عزم ۔سنگھ پریوارپردیش کی تقسیم کالگایاالزام۔فرقہ پرستوں کو اقتدارسے دوررکھنےعوام سے اپیل

مخالفین کی لاکھ کوششوں کےباوجود ٹیپو جینتی منائی جائے گی۔منگلورمیں سدارامیا کااظہار عزم ۔سنگھ پریوارپردیش کی تقسیم کالگایاالزام۔فرقہ پرستوں کو اقتدارسے دوررکھنےعوام سے اپیل

منگلورو ،( ہرپل نیوز)23؍اکتوبر ۔ بھگوا پارٹیوں کی جانب سے ٹیپو جینتی کی مخالفت میں آ رہی شدت کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے بھی اسے منانے کا پور ا تہیہ کر لیا ہے ۔ منگلورو کے بی سی روڈ میں کے ایس آر ٹی سی بس اسٹانڈ کے احاطے میں کم و بیش ڈھائی سوکروڑ روپے کے تعمیری منصوبے کی بنیاد ر رکھنےکے لئے آئے وزیر اعلی سد رامیا نے ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے فرقہ پرستوں کو آئینہ دکھایا۔ انہوں نے پورے عزم کے ساتھ کہا کہ سابقہ برسوں کی طرح فرقہ پرستوں کی ہزار مخالفت کے باوجود ٹیپو جینتی سرکاری طور پر منائی جائے گی ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ حکومت کی طرف سے والمیکی، نارائن گرو،سری کرشنا، ابّاکّا،کیمپے گوڈا وغیرہ کی جینتی کی طرح ٹیپو جینتی بھی منائی جانی چاہیے۔ سد رامیا نے ٹیپو کو ایک محب وطن اور تاریخی شخصیت قرار دے کر مخالفین پرطنز کیا کہ جن لوگو ں کو تاریخ معلوم نہیں وہ اس دیش کا مستقبل کیا خاک بنائیں گے ۔

واضح رہےکہ ریاست کرناٹک میں پچھلے دو تین سال سے نو مبر 10 کو سرکاری طور پر ٹیپو جینتی منائی جاتی ہے مگر بی جے اور اس کی ہم خیال تنظیمیں اس کی مخالفت کر تی آ رہی ہیں ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے سنگھ پریوار پر بڑا حملہ بولتے ہوئے سنگھ پریوار پر الزام لگایا کہ وہ مرکزی حکومت کی پشت پناہی میں دیش کو تقسیم کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اور خاص کر ساحلی کرناٹکا کو ہندوتووا لیباریٹری میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ سی ایم نے عوام سے اپیل کی کہ فرقہ پرستوں کو اقتدار سے دور ر کھیں۔ اپنے خطاب میں وزیر اعلی نے ریاستی حکومت کی کئی اسکیموں کا تعارف کراتے ہوئے اسے کانگریس کی حصولیابیاں قرار دیا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ فاقہ کشی اور بھوک مری سے پاک ریاست کا قیام ان کی اولین ترجیحات میں داخل ہے ۔ اس موقع پر منگلورو کے ہر دلعزیر وزیر یوٹی قادر ، راماناتھ رائے ،اور ایم ایل اے محی الدین باوا سمیت ، منگلورومیئر کویتا سانل و دیگر اہم سیاسی و سماجی شخصیات موجود تھیں ۔ 

The short URL of the present article is: http://harpal.in/OIcPj

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے