Breaking News
Home / اہم ترین / مختار زیدی۔۔۔۔۔۔ ایسا کہاں سے لائیں تجھ سا کہیں جسے۔ رشحات قلم: اظہر الدین۔صحافی، ای ٹی وی اردو ، اورنگ آباد

مختار زیدی۔۔۔۔۔۔ ایسا کہاں سے لائیں تجھ سا کہیں جسے۔ رشحات قلم: اظہر الدین۔صحافی، ای ٹی وی اردو ، اورنگ آباد

اورنگ آباد شہر کو ادب نوازوں کی سر زمین اور ادب کا گہوارہ جیسے کئی ناموں سے جانا جاتا ہے ، شہر کی ادبی فضا کتنی سازگار رہی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ کہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا تو شہر کے ادبی منظر نامے پر قاضی سلیم ، بشرنواز ، قمر اقبال ،وحید انجم ، جعفر سوز خان شیمیم خان جیسے شاعروں کا کلام اخباروں کی زینت بنتا تھا غزلوں ہزلوں اورنظموں سے ادبی فضا معمور تھی اسی دور میں عارف خورشید،نور الحسنین ،عظیم راہی ،علم جہانگیر اور ہمارے ماموں جان نعیم راہ گیر کے قلم سے افسانے ، افسانچے ،طنزو مزاح کے مضامین اردو اخبارات کے ادبی صفحات کی رونق بڑھا رہے تھے ، وہ ہمارا اسکولی دور تھا اور اپنے بڑوں کے مضامین اور تصویریں دیکھ کر ہمیں بھی کچھ نہ کچھ لکھنے کی تحریک ملتی رہی ٹوٹی پھوٹی اردو میں ناچیز کے مراسلے بھی اردو اخبارات میں جگہ پانے لگے پھر یوں ہوا کہ قلم ہی میدان عمل کا ہتھیار بن گیا روزنامہ رہبر میں ٹرینی صحافی کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا بہت اچھا اور حوصلہ افزا ماحول ملا چند برسوں بعد اورنگ آباد کے موقر روزنامہ اورنگ آباد ٹائمز سے وابستگی کی سعادت نصیب ہوئی اورنگ آباد ٹائمز میں پہلے پہل اجنبیت کا احساس ہوا لیکن وقت کے ساتھ یہ بیگانگی بھی جاتی رہی ، سب سے پہلے جس شخصیت نے اس ادارے میں متاثر کیا وہ تھےمختار زیدی صاحب ،کہنے کوتو وہ نیوز ایڈیٹر تھے لیکن جیسے جیسے شناسائی بڑھی تو میں نے مختار زیدی میں ایک زندہ دل انسان، مخلص دوست اور درد مند دل رکھنے والی شخصیت کو پایا ۔مختار زیدی اپنے آپ میں انجمن تھے وہ چھوٹوں کے ساتھ چھوٹے اور بڑوں کے درمیان بڑے تھے ہر عمر اور ہر مکتب فکر سے ان کا بے تکلف یارانہ رہا، زندہ دلی اور برجستگی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا ترکی بہ ترکی جواب دینا زیدی صاحب کی فطرت میں شامل تھا ۔طنز و مزاح ان کے مزاج کا خاصہ تھا مرحوم باسط محسن جس وقت اورنگ آباد ٹائمز سے وابستہ تھے تو مختار زیدی سے ان کے مراسم بے تکلف تھے باسط محسن کے ملنے والوں کا دفتر میں تانتا بندھا رہتا تھا ایک دن ایسے ہی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری تھا ،باسط صاحب کے احباب رخصت ہوئے تو زیدی صاحب نے برجستہ کہا’’ باسط تمھارا حلقہ وسیع ہورہا ہے ‘‘پھرکیا تھا دفترزعفران زار بن گیا اور باسط بھائی کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا لیکن دوسرے ہی لمحے دونوں ساتھ میں چائے نوش کررہے تھے یہ واقعہ زیدی صاحب نے ہی سنایا تھا ،مختار زیدی صرف انگریزی اور اردو کے ماہر تھے ایسا نہیں تھا انھیں کنڑا اور تیلگو زبانوں پر بھی یکساں عبور حاصل تھا میرا بھانجہ کرناٹک سے آیا تو میں نے زیدی صاحب سے ملاقات کروائی جیسے ہی انھیں پتہ چلاکہ موصوف کرناٹک میں مقیم ہیں تو خود ہی کنڑا زبان میں شروع ہوگئے دونوں کے درمیان کافی دیر تک گفتگو چلتی رہی اور میں دونوں کے چہرے تکتا رہا، اس وقت یہ راز کھلا کہ زیدی صاحب کئی زبانوں کے ماہر ہیں ، زیدی صاحب کاتعلق بنیادی طور پر کرناٹک کے رائچور شہر سے رہا اسی شہر میں ابتدائی اور اعلی تعلیم حاصل کی، کالج کے زمانے میں زیدی صاحب کا شمار کالج کے مقبول اور ذہین طلبا میں ہوتا تھا وہ ہر طرح کے مقابلوں میں پیش پیش رہتے تھے ، باڈی بلڈنگ مقابلوں میں انھیں مسٹر رائچور کا خطاب ملا تھا کچھ عرصہ زیدی صاحب نے گلبرگہ میں بھی گزارا اس شہر میں بھی ان کے چاہنے والوں کی کمی نہیں، زیدی صاحب کا تعلق ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا ان کے والد مصطفی حسن علی زیدی رائچور اور گلبرگہ میں ہیڈ ماسٹر تھے ،مصطفی حسن علی زیدی ایک استاد کے ساتھ شاعر بھی تھے واصف ان کا تخلص تھا، زیدی صاحب کو ایک حقیقی بھائی اور ایک بہن ہیں زیدی صاحب اپنے چھوٹے بھائی ناظم خلیلی کو بہت چاہتے تھے ہمیشہ بھائی کا ذکر بڑی محبت اور شفقت سے کرتے تھے ناظم خلیلی کا شمار ملک کے نامور افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے وہ بیک وقت شاعر، افسانہ نگار اور ادیب تھے زیدی صاحب کو اپنے چھوٹے بھائی کی علمی اور ادبی قابلیت پر بہت فخر تھا ،زیدی صاحب کا بچپن اور لڑکپن رائچور اور گلبرگہ میں گزرا لیکن جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو اورنگ آباد کے ایک ادبی گھرانے میں ان کے سر سہرا بندھا اور ستر کی دہائی میں وہ اورنگ آباد پہنچ گئے ا سی عرصے میں روزنامہ اورنگ آباد ٹائمز سے وابستہ ہوئے حالانکہ اس دور میں زیدی صاحب کی علمی لیاقت کے چلتے انھیں بنک منیجر اور دیگر بڑے بڑے آفر تھے لیکن مختار زیدی نے اسی کو چنا جو‘ ان کے مزاج سےہم آہنگ تھا وہ اکثر کہا کرتے تھے رائٹ مین رائٹ پلیس پر ہونا چاہیئے اورنگ آباد ٹائمز سے وابستگی کچھ ایسی رہی کہ زیدی اور ٹائمز لازم و ملزوم ہوگئے چار دہائیوں کے اس سفر میں مختار زیدی نے روزنامہ اورنگ آباد ٹائمز میں پروف ریڈر سے لیکر سب ایڈیٹر تک کا سفر طئے کیا اخبار کی پچاس سالہ زندگی میں چار دہائیوں تک اس اخبار کو زیدی صاحب جیسا مخلص فرض شناس اور وقت کاپابند ساتھی نصیب ہوا زیدی صاحب نے اس اخبار میں کئی خصوصی شمارے دیئے ان کا فلمستان صفحہ کافی مقبول ہوا۔ فلسمتان کے تحت ہی جب مختار زیدی نے شہنشاہ جذبات دلیپ کمار پر خصوصی ضمیمہ نکالا تو وہ ضمیمہ یادگار بن کر رہ گیا ایک مرتبہ کا واقعہ یاد آتا ہے میں اپنے دوست کے گھر گیا ان کی والدہ کو پتہ چلاکہ میں اورنگ آباد ٹائمز سے وابستہ ہوں تو فوری آکر وہ مجھ سے ملیں کچھ رسمی گفتگو کے بعد اخبار کے تعلق سے گفتگو ہوئی پھر فلمستان کا ذکر چھڑا اور محترمہ فوری اٹھ کر چلی گئیں کچھ دیر بعد جب واپس آئیں تو ان کے ہاتھ میں بیس سال پرانا دلیپ کمار پر نکالا گیا خصوصی ضمیمہ تھا میں یہ اشتیاق دیکھ کر حیران رہ گیا لیکن فوری میری غلط فہمی دور ہوگئی محترمہ کا کہنا تھا کہ دلیپ کمار پر انھوں نے بہت کچھ پڑھا لیکن جوکچھ اس خصوصی ضمیمہ میں ہے وہ بات کہیں نظر نہیں آئی ، مختار زیدی نے جس کالم کو سنبھالا اس کو چار چاند لگادیئے اورنگ آباد ٹائمز میں منتخب اشعار کا’’حسن انتخاب‘‘ کالم کےآغاز کاسہرا مختار زیدی کے سر ہی جاتا ہے یہ سلسلہ اتنا مقبول ہوا کہ حیدرآباد اور کرناٹک کے مداح بھی اس میں حصہ لیتے تھے اس انعامی سلسلے کو مختار زیدی نے پوری دیانتداری اور پابندی سے کم وبیش تین دہائیوں تک چلایا اس کے علاوہ قمر اقبال کے انتقال کے بعد’’ بال کی کھال ‘‘کالم بھی مختار زیدی کے حصے میں آیا یہ سلسلہ بھی کم و بیش بیس سال تک بلا ناغہ جاری رہا بال کی کھال میں طنز و مزاح کی چاشنی ہوتی تھیں، بات سے بات کالم بھی مختار زیدی کا ہی مرہون منت تھا بات س بات میں مختار زیدی کے قلم کے نشتر اتنے تیکھے ار برجستہ ہوتے کہ قاری داد دیئے بغیر نہیں رہتا مختار زیدی نے ایک طرح سے خود کو اورنگ آباد ٹائمز کے لیے وقف کردیا تھا پروف ریڈنگ میں مجال ہے کوئی غلطی ان کی نظر سے چھوٹ جائے ، وقت کی پابندی کے معاملے میں مختار زیدی کا کوئی ثانی نہیں تھا سال بھر پوری پابندی کے ساتھ اپنے وقت پر اپنی سیٹ پر زیدی صاحب براجمان نظر آتے جب بھی کوئی ان سے ان کی دفتر آمد کے تعلق سے پوچھتا تو برجستہ پیچھے کی طرف نظام الاوقات کی طرف اشارہ کرکے کہتے’’ یہ ہے میری اوقات‘‘ سال میں ایک مرتبہ محرم کے دوران لکھنؤ کا دورہ ان کے شیڈول میں شامل تھا ہر سال پندرہ دن کی تعطیل پرلکھنؤ جاتے دوست احباب رشتہ داروں سے ملاقاتیں کرتے اور واپسی پر پوری روداد سناتے ،لیکن سولہویں دن مختار زیدی دفتر میں ہوتے ،عاجزی اور انکساری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ، چائے کے شوقین تھے کبھی کسی کو انکار نہیں کرتے تھے فرمائش کی جائے تو شوق سے نکل پڑتے تھے ، دفتر میں زیادہ لوگ ہوتو اشارۃ چائے کی دعوت دیتے تھے وہ بھی مخصوص انداز میں، زیدی صاحب کے ساتھ کئی یادیں وابستہ ہیں کسی خبر میں اِملے کی غلطی ہوجائے تو اشارے سے بلاکر سمجھاتے تاکہ کسی کو خبر نہ ہو اور اصلاح بھی ہوجائے ، خبر کی سرخیاں ہویا متن کی پُر کاری زیدی صاحب ہر معاملے میں مخلصانہ انداز میں رہنمائی کرتے تھے وہ دفتر میں موجود ہو اور خوشی کی پھلجھڑیاں نہ بکھیرے ایسا کبھی نہیں ہوا،زندگی بسر کرنے کا ان کا اپنا ایک مخصوص انداز تھا ہر چیز اور ہر بات سے بے پرواہ وہ اپنے طریقے سے جینے کا ہنر جانتے تھے وہ شخص لاکھوں میں منفرد شناخت رکھتا تھا ان کا مخصوص لب ولہجہ اور طرز ادا ہمیشہ یاد رہے گی،مختار زیدی کے’’ بال کی کھال ‘‘کالم کو ہی لے لیا جائے تو یہ سلسلہ اتنا دراز ہوا کہ کئی جلدوں میں اس پر کتاب شائع ہوسکتی تھی ، انھوں کئی مضامین بھی تحریر کیے جو اورنگ آباد ٹائمز کی زینت بنے مختار زیدی چاہتے تو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواسکتے تھے لیکن انھیں شہرت مقبولیت اور ریاکاری سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا بقول سعید زیدی وہ صرف اپنے قلب کی تسکین کے لیے لکھتے رہے نام ونمود سے انھیں کوئی واسطہ نہیں رہا ۔ کئی یادیں زیدی صاحب کےساتھ وابستہ ہیں اگر انھیں ضبط تحریر میں لایا جائے تو ایک ضخیم کتاب شائع کی جاسکتی ہے ، الغرض مختار زیدی کو اردو کا ایسا خاموش خادم کہا جاسکتا ہے جس نے اردو کی نوک پلک درست کرنے اور قارئین کے ادبی ذوق کو پروان چڑھانے کے لیے خود کو وقف کردیا تھا جس نے اپنی عرق ریزی سےروز نامہ اورنگ آباد ٹائمزکے صفحات کو نہ صرف معیاری بنایا بلکہ ایک وقار عطا کیا یہ سچ ہیکہ کسی کے چلے جانے سے کسی کا کام نہیں رکتا صحافتی دنیا بھی اس سے اچھوتی نہیں لیکن مختار زیدی نے اورنگ آباد ٹائمز کے حوالے سے اردو والوں کو جو کچھ دیا ہے اس کا نعم البدل نہیں ہوسکتا اب کوئی اور زیدی جیسا نہیں ہوسکتا۔اللہ رب العزت سے دعا ہیکہ وہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور مختار زیدی کے درجات بلند فرمائے۔آمین ثم آمین

The short URL of the present article is: http://harpal.in/l0j0z

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے