Breaking News
Home / اہم ترین / مرکزی حکومت مدد کرے توریاستی حکومت زرعی قرضہ جات معاف کرنے تیار وزیر اعلی سدرامیا کی یقین دہانی

مرکزی حکومت مدد کرے توریاستی حکومت زرعی قرضہ جات معاف کرنے تیار وزیر اعلی سدرامیا کی یقین دہانی

بلگاوی۔(ہرپل نیوز)27؍نومبر وزیر اعلیٰ سدرامیا نے آج اس بات کو دہرایا کہ اگر کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کیلئے مرکزی حکومت کے ذریعہ 50 فیصد رقم ادا کی گئی تو ریاستی حکومت بقیہ رقم ادا کرتے ہوئے زرعی قرضہ جات معاف کرنے کی پہل کرے گی۔ اسمبلی میں خشک سالی سے متعلق بحث پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ قومیائے گئے بینکوں سے کسانوں کے ذریعہ حاصل کردہ قرضہ جات کو اگر مرکزی حکومت کے ذریعہ 50فیصد رقم منظور کی گئی تو بقیہ 50فیصد ریاستی حکومت کے ذریعہ ادا کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایاکہ انہوں نے گزشتہ سال بھی یہی موقف ظاہر کیا تھا، مگر کسان مخالف مرکزی حکومت کے ذریعہ کوئی پہل نہیں کی گئی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت کو غریبوں کی کوئی فکر نہیں ہے، جبکہ سابقہ یوپی اے حکومت کے دور میں کسانوں کے 72ہزار کروڑ روپیوں کا قرضہ معاف کیاگیا تھا، مگر موجودہ حکومت کے ذریعہ اب تک ایک پیسہ بھی جاری نہیں کیاگیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے سبب مرکز کو تقریباً دو لاکھ کروڑ روپیوں کی بچت ہوئی ہے، اس کے باوجود کسانوں کو مدد فراہم کرنے میں وہ ناکام ہے۔ سدرامیا نے بتایاکہ ان کی حکومت کسان پرور ہے۔ چاہے جتنی بھی دشواری کیوں نہ ہو ریاستی حکومت کسانوں کا ساتھ نہیں چھوڑے گی اور جنگی پیمانے پر خشک سالی راحت کاری اقدامات کئے جارہے ہیں۔ہر تعلقہ کیلئے پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے 60لاکھ روپے جاری کئے گئے ہیں۔ خشک سالی راحت کاری کیلئے مرکزی حکومت سے افزود امداد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس موقع پر وزیر مالگذاری کاگوڈ تمپا نے بتایاکہ ریاست کے 26 اضلاع کے 139 تعلقہ جات خشک سالی سے متاثر قرار دئے گئے ہیں۔ خشک سالی کے سبب تقریباً17193 کروڑ روپیوں کے نقصانات ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ خشک سالی راحت کاری کیلئے ریاستی حکومت کے ذریعہ جنگی پیمانے پر اقدامات کرتے ہوئے 264 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔ جن میں سے 214 کروڑ روپے پینے کے پانی کی فراہمی اور گؤ شالہ کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ 282 دیہاتوں میں 526ٹینکروں کے ذریعہ پینے کا پانی فراہم کیا جارہا ہے اور دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے بورویلوں کی کھدائی، مرمت اور پائپ لائنوں میں توسیع کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ph4Id

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے