Breaking News
Home / اہم ترین / مرکز ثقافیہ کے ماتحت ملک بھر میں بامعنی تعلیم کو عام کیا جائیگا۔مرکز سعادۃ مسجد کی افتتاحی تقریب میں اے پی استاد کا خطاب

مرکز ثقافیہ کے ماتحت ملک بھر میں بامعنی تعلیم کو عام کیا جائیگا۔مرکز سعادۃ مسجد کی افتتاحی تقریب میں اے پی استاد کا خطاب

شیموگہ:۔ (ہرپل نیوز )14نومبر۔جس طرح سے کیرل میں مرکز ثقافیہ سُنیہ کے ماتحت تعلیمی اداروں کو قائم کیا گیا ہے،اسی طرز پر مرکز ثقافیہ سُنیہ کے زیر نگرانی تعلیمی اداروں کاقیام کیا جائیگا،اس سے اُمت مسلمہ کو با معنی و اخلاقیات سے لیز عصری و دینی تعلیم دی جائیگی۔اس بات کااظہار مرکز ثقافیہ سُنیہ کے سرپرست و معروف اسلامک اسکالر شیخ ابوبکر مصلیار عرف اے پی استاد نے کیا ہے۔آج شہر کے وادی ہدیٰ میں مرکز سعادۃ مسجد اور مدرسہ کا افتتاح کرنے کے بعد نماز مغرب منعقدہ جلسہ میں مہمان مقرر کے طور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سُنی اور شافعی ایک ہی اُمت کے دو حصے ہیں،لیکن ہم تمام آپس میں بھائی بھائی ہیں۔مرکز ثقافیہ کا بنیادی مقصد اُمت مسلمہ کو تعلیم سے آراستہ کرنا ہے،اس کیلئے یہ ادارہ ملک بھر میں ادارے قائم کررہاہے۔شیموگہ میں قائم شدہ مرکز سعادۃ آنے والے دنوں میں ایک بہترین تعلیمی ادارہ بن کر ابھریگا،کیونکہ اس کی سرپرستی ایک ایماندار و محنتی عالمِ دین شیخ شہید الدین البخاری تنگل کی ہے۔ریاستی وزیر یوٹی قادرنے بات کرتے ہوئے کہا کہ مرکز سعادۃ ایک عظیم کام انجام دینے جارہا ہے،آج اس قوم کو تعلیم کی ضرورت ہے اور با مقصد تعلیم دینا ہی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔جس کام کو حکومت کی جانب سے انجام دیاجانا چاہیے وہ کام اے پی ابوبکر مصلیار اور ان کے ماتحت کام کررہے سینکڑوں علماء کررہے ہیں۔آج ہم سب کو بھائی چارگی کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام اُسی وقت ممکن ہے،جب اُمت مسلمہ میں تعلیم عام ہو۔ریاستی حکومت ریاست میں امن وامان کی خواہ ہے،سدرامیا حکومت آنے کے بعد ہر طبقے کو یکساں مساوات کا حق ملا ہے۔اس موقع پر مرکز سعادۃ کے شیخ شہید الدین تنگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیموگہ شہر میں قائم شدہ یہ ادارہ نہ صرف شافعی طبقے کیلئے ہے بلکہ حنفی ملک کے طلباء بھی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔طلباء کو دنیا وآخرت کی کامیابی کیلئے جس تعلیم کی ضرورت ہے،اُس تعلیم کو فراہم کرنا مرکز سعادۃ کا مقصد ہے۔مزید انہوں نے کہا کہ جلد ہی اقبال حبیب سیٹھ کی جانب سے وقف شدہ زمین پر عائشہ بائی میموریل ویمنس شرعیہ کالج تعمیر کی جائیگی،جس میں مسلم لڑکیاں بھی اسلامی تعلیمات سے آراستہ ہونگی۔سُنی جامع مسجد کے خطیب وامام عاقل رضا مصباحی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اللہ کے گھروں کو آباد کرتے ہیں وہ جنت میں اپنے لئے گھر بناتے ہیں۔مسجدوں کو بنانا اور اسے آباد کرنا سب سے نیکی ہے اور اس نیکی میں ہر ایک کو بڑھ چڑھ کرحصہ لینا چاہیے۔اہل شیموگہ کیلئے یہ مسرت کی بات ہے کہ مرکز سعادۃ نے کم عرصے میں نہ صرف مسجدتعمیرکی بلکہ دینی علوم کوعام کرنے کیلئے مدرسہ کا بھی قیام کیا ۔جلسہ میں شہر کے عمائدین کی کثیر تعداد تھی،جن میں قائد قوم اقبال حبیب سیٹھ،انڈین اسپتال کے ایم ڈی ڈاکٹر یوسف کمبلے،نیشنل گروپ کے ایم ڈی ابراہیم شریف،سونا ہونڈا کے ڈائریکٹر قادر باشاہ ، سماجی کارکن ہیون حبیب،سید غفور چھوٹو،حارث اللہ خان،کلیم پاشاہ کلیمہ،چنگیری حبیب ،عبدالعزیز بھیا،ظفر اللہ خان قادری ، اڈوکیٹ نیازاحمد خان،ایم سمیع اللہ،جمعیۃ العلماء کے سکریٹری نثاراحمد ،آشریہ کمیٹی کے رکن عارف خان عارو وغیرہ موجود تھے۔جلسہ عام سے قبل عمائدین کی مخصوص نشست کا انعقادکیا گیا تھا،جس میں مرکز ثقافیہ سُنیہ اور مرکزسعادۃ کے اغراض و مقاصد کو پیش کیا گیا۔اس دوران ایس کے پی اسوسیشن کے سرپرست انورقادری نے بات کرتے ہوئے کہا کہ مرکزثقافیہ اب تک شافعی مسلک کیلئے تعلیم دے رہا ہے،اگر وہ اس حلقے کو مزید وسیع کرتے ہوئے دیگر ریاستوں میں بھی حنفی مسلک کے طلباء کیلئے تعلیمی ادارے قائم کرتا ہے تو یہ خوش آئند بات ہوگی۔اس دوران انہوں نے اس بات کااعلان کیا کہ قلندریہ اسوسیشن کی جانب سے اس ادارے کی ترقی کیلئے11 لاکھ روپئے کی مالی امداد دی جائیگی ، اس کے علاوہ ہر مہینہ مدرسہ میں زیر تعلیم طلباء کیلئے اناج جاری کیا جائیگا ۔ اس خصوصی نشست میں مرکز ثقافیہ سُنیہ کے ڈائریکٹر عبدالحکیم اظہری نے اقبال حبیب سیٹھ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کئی لوگوں کو مال دے کر دیکھتا ہے کہ وہ کس طرح سے اپنے مال کو خرچ کرتا ہے،اقبال حبیب سیٹھ نے شہر شیموگہ میں تمام ملّی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے اپنا تعاون پیش کیا ہے اور وہ اہلِ شیموگہ کیلئے اللہ کی جانب سے ایک تحفہ ہیں۔

عائشہ بائی سعادۃ ویمنس شرعیہ کالج کا سنگِ بنیاد: شہر کے بائی پاس روڈ پر واقع صفامروہ کالونی میں آج معروف اسلامک اسکالر شیخ ابوبکر مصلیار(اے پی استاد) اورہمدردِ ملت اقبال حبیب سیٹھ نے عائشہ بائی سعادۃ اویمنس شرعیہ کالج کا سنگِ بنیاد رکھا۔یہ شرعیہ کالج لڑکیوں کودینی علوم کے سا تھ ساتھ عصری علوم کی تربیت دینے کیلئے عمل میں لایاجارہا ہے۔اقبال حبیب سیٹھ کی جانب سے وقف کردہ زمین پر تعمیر کی جانی والی کالج انہیں کی دادی مرحومہ عائشہ بائی کے نام سے منسوب کیا جارہا ہے ۔ عائشہ بائی سعادۃ اویمنس شرعیہ کالج مرکز سعادۃ کی نگرانی میں خدمات انجام دیگا ، اس ادارے کی سرپرستی مرکز سعادۃ چیرمین شہید الدین البخاری تنگل کرینگے ۔ جلدہی اس مدرسہ کا تعمیر ی کام بھی شروع ہو جا ئیگا ۔ اس سنگِ بنیاد کی تقریب کے دوران قلندریہ اسوسیشن کے صدرو اراکین نے اے پی استاد کی گل پوشی کی ۔ اس موقع پر سونا گروپ کے ڈائریکٹر قادرباشاہ ، حاجی سیٹھ،انجینئر ذکریا، امپیریل فاؤنڈ یشن کے عبدالغفور (چھوٹو )، عبدالعزیز (بھیا ) ، کلیم پاشاہ، مرکز سعادۃ کے چیرمین شہید الدین تنگل، عبدالطیف سعادی کے علاوہ متعدد عمائدین موجود تھے ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/3A0et

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے