Breaking News
Home / اہم ترین / مسجد کی تعمیرکو غیرقانونی بتاکر مسجد منہدم کرنے یوگی سرکار کو ہائی کورٹ کا حکم،تین ماہ میں منہدم کرائیں مسجد

مسجد کی تعمیرکو غیرقانونی بتاکر مسجد منہدم کرنے یوگی سرکار کو ہائی کورٹ کا حکم،تین ماہ میں منہدم کرائیں مسجد

عدالت نے یوپی حکومت اور الہ آباد کی انتظامیہ کو حکم دیا ہےاگر مسجد انتظامیہ کمیٹی تین ماہ میں خود ہی نہیں منہدم   کرتی ہے تو اسے پولیس سیکورٹی کے درمیان منہدم   کردیا جائے گا اور قبضہ ہٹاکر زمین ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کے سپرد کر دی جائےگی ۔ کورٹ نے مسجد انتظامیہ کمیٹی کو یہ رعایت دی ہے کہ وہ مسجد کو کسی دوسری جگہ پر منتقل کرنے کے لئے زمین کی مانگ کو لے کر یوپی حکومت اور انتظامیہ کو عرضی دے سکتے ہیں۔عدالت نے حکومت اور انتظامیہ سے کہا ہے کہ عرضی تو وہ مسجد کو منتقل کرنے کے لئے دوسری جگہ زمین دینے کے مطالبے پر ہمدردی   پرغور کرےگا۔ عدالت نے تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں ہائی کورٹ کی کسی زمین پر مستقل طور پر پوجا اور نماز کی اجازت نہ دی جائےدرخواست گزار وکیل ابھیشیک شکلا نے ہائی کورٹ کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی مسجد کو منہدم کرنے کی مفاد عامہ کی عرضی میں مانگ کی تھی۔ جس پر مہینوں چلی لمبی سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے 20 ستمبر کو فیصلہ  سنایا ہے۔
واضح رہے  کہ معاملے کی سماعت کے دوران یہ مسئلہ اٹھا تھا کہ ہائی کورٹ کے گیارہ مجلے دفتر کی عمارت کے چاروں طرف گیارہ میٹر جگہ خالی رکھی جانی ہےتاکہ آگ بجھانے والی  گاڑی  کو کوئی دقت نہ آئے۔ الہ آباد ضلع انتظامیہ اور ہائی کورٹ انتظامیہ نے بھی تجاوز ہٹانے کی اطلاع کورٹ کو دی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ماہر ٹیم نے بھی سروے کر عمارت کے چاروں طرف گیارہ میٹر زمین خالی رکھنے کی اطلاع کورٹ کو سونپی تھی۔ اس رپورٹ میں مسجد ہٹانے کی بھی سفارش کی گئی تھی۔فیصلہ سنائے جانے کے دوران ہائی کورٹ نے تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کے بیٹھنے کی ہائی کورٹ میں جگہ   انتہائی کم ہے۔ ایک چیمبر میں دو جج بیٹھنے پر   مجبور ہیں۔   ہائی کورٹ نے کہا کہ حالیہ کورٹ عمارت بننے میں آٹھ ماہ کا وقت لگے گا اور جگہ کی کمی کی وجہ ججوں کو چیمبر میں کورٹ چلانا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ ریکارڈ رکھنے کے مسئلے سے بھی دوچار ہے۔یہ فیصلہ چیف جسٹس ڈی بی بھوسلے اور جسٹس ایم کے گپتا کی كھڈپيٹھ نے سنایا ہے۔ وہیں مسجد غیر قانونی اعلان کرنے کے فیصلے کے بعد چیف جسٹس سمیت دیگر عدلیہ  کی حفاظت بھی بڑھا دی گئی ہے
The short URL of the present article is: http://harpal.in/9DUXX

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے