Breaking News
Home / تازہ ترین / مسلمانوں کو گھر واپسی کی نہیں وقف واپسی کی ضرورت ہے،از:۔مدثر احمد۔چیف ایڈیٹر روزنامہ ’’آج کا انقلاب‘‘

مسلمانوں کو گھر واپسی کی نہیں وقف واپسی کی ضرورت ہے،از:۔مدثر احمد۔چیف ایڈیٹر روزنامہ ’’آج کا انقلاب‘‘

 

ہندوستان میں سب سے زیادہ جائیداداور اراضیاں ریلوے کے پاس ہیں،دوسرے نمبر پر مالدار شعبہ اگر کوئی ہے تو وہ ہے وقف بورڈیا پھر وقف کاؤنسل۔سال2015 میں پارلیمنٹ میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے مختلف صوبوں و ریاستوں میں4.9لاکھ اوقافی ادارے ہیں،ان سے سالانہ آمدنی1.2 لاکھ کروڑ روپئے ہورہی ہے،اگر ان اوقافی اداروں کو صحیح ڈھنگ سے چلایا جائے تو کم ازکم دس فیصد آمدنی زیادہ ہوسکتی ہے جس کے مطابق12 ہزار کروڑروپئے کی افزود آمدنی وقف بورڈ کو ہوگی۔خیر12 ہزار کروڑ روپیوں کی افزود آمدنی نہ صحیح لیکن موجودہ1.2 لاکھ کروڑ روپئے کی آمدنی کا فائدہ اگر ہندوستانی مسلمانوں کو پہنچایا جائے تو ہندوستان کا ایک بھی مسلمان غریب نہیں ہوگا ،تو ہر ہندوستانی مسلمان کے حصہ میں 7.5 لاکھ روپئے آئینگے۔خیر یہ رقم تمام مسلمانوں میں تقسیم نہ کئے جائیں تب بھی ہمیں قبول ہے،مگرضرورت مند مسلمانوں کو اوقافی اداروں سے صحیح موقع پہنچے تو کوئی مسلمان کسی کے در پر بھیک مانگتا دکھائی نہیں دیگا۔لیکن ایسا نہیں ہوگا کیونکہ یہ ہندوستان ہے یہاں مسلمانوں کی نہیں چلتی بلکہ شاطر دماغ غیروں کی بات چلتی ہے اور جو مسلم رہنماء ایوان اقتدارمیں بیٹھیں ہیں انہیں عام مسلمانوں کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں،کیونکہ وہ پہلے ہی ان کے کاندھوں پر پیر رکھ کر ایوان تک پہنچ گئے ہیں۔ہندوستان میں فی الوقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،جامعہ ملیہ اسلامیہ،عالیہ یونیورسٹی کلکتہ،الفلاح یونیورسٹی فرید آباد،ہمدرد یونیورسٹی دہلی،محمد علی جوہریونیورسٹی رامپور اور حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی کے علاوہ اور کوئی قابل رشک تعلیمی ادارہ ہمارے پا س نہیں ہے۔اگر حکومتیں چاہتی تو اوقافی اداروں سے ملنے والی آمدنی کو مسلمانوں کے تعلیمی معیار کو فروغ دینے کیلئے آمدنی کو تعلیمی اداروں کو قائم کرنے کیلئے خرچ کرتی،لیکن یہاں دریا دلی کی ضرورت ہے جو دہلی میں بیٹھے ہوئے سیاستدانوں کے پاس نہیں ہے۔اس کے علاوہ ریاستی سطح پر جو وقف بورڈ قائم ہیں ان میں عہدوں واقتدار کی مارپیٹھ کے علاوہ اور کسی طرح کا فلاحی کام انجام نہیں دیا جاتا ہے۔ہمارے اوقافی اداروں کے معاملات فلاحی منصوبوں میں کم عدالتوں کے الماریوں میں زیادہ بند ہیں۔دراصل جن مسلمانوں نے اپنی جائیداد ،اداروں اور املاک کو مسلمانوں کی فلاح وبہبودی کیلئے وقف کی تھیں لیکن آج وہ ادارے حکومتوں کیلئے ریزور بینک سے بڑھ کر ہوگئے ہیں اور جو عہدوں کے خواہشمند ہیں وہ محض ان اداروں کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کررہے ہیں،کیا یہ اچھا ہوتا کہ اوقافی اداروں پر مسلمانوں کے اسکول ہوتے،کالجس کا قیام ہوتا اور ان تمام کالجوں کو ملا کر ایک یونیورسٹی قائم ہوتی۔ایک اندازے کے مطابق کرناٹک میں ہی دو ہزار سے زائد اوقافی ادارے ہیں او راگر ہر ضلع کے اوقافی املاک کااندازہ لگایا جائے تو آسانی کے ساتھ کم ازکم ایک انجینئرنگ کالج یا میڈیکل کالج کا قیام ہوسکتا تھا،لیکن ان سب کاموں کیلئے اخلاص کی ضرورت ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے،ہر کوئی قائد آتا ہے اور بڑی بڑی باتیں کرکے چلا جاتا ہے،جس کا خمیازہ پوری قوم کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔کبھی مسلم عورتیں مائکرو فائنانس کیلئے چوراہوں پر بیٹھی دکھائی دیتی ہیں تو کبھی علاج کی خاطر ایک بیوی مسجدوں کے دروازے پر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائی کھڑی ہوتی ہیں،کبھی مسلم نوجوان دس فیصد کے حساب سے سود پر رقم لیتے دکھائی دیتے ہیں تو کبھی ایک باپ اپنی بیٹی کی شادی کیلئے در در بھٹکتا دکھائی دیتا ہے،یہ حالات ہیں قوم کے ۔لیکن ایوانوں میں وقف املاک کے تعلق سے بات کرنے والوں کو اس کا شاید ہی علم ہو۔اگر علم ہوبھی تووہ ان حالات سے نپٹنے کیلئے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھا سکتے۔دراصل آج مسلم قوم کو تعلیمی و سماجی پسماند گی سے باہر نکالنا ہوتو اوقافی املاک بیحد کارگر ثابت ہوسکتے ہیں۔ہمارے اوقافی اداروں پر ایک طرف حکومتیں قابض ہیں تو دوسری طرف سیاستدان ومتولیان اژدہوں کی طرح بیٹھے ہوئے ہیں۔ان اژدہوں کو جب تک ہٹایا نہیں جائیگا اُس وقت تک اوقافی اداروں کو چھٹکارا نہیں مل سکتا۔آج ہمارے اوقافی اداروں پر جو قبضے ہوئے ہیں اُن قبضوں کو بھی ہٹانا ہے۔مسلمانوں کو آج گھر واپسی کی ضرورت نہیں بلکہ زمین واپسی کی ضرورت ہے۔جب زمین واپسی کا کام آسانی کے ساتھ ہوگا تو با آسانی مسلمانوں کے مسائل حل ہوسکتے ہیں

The short URL of the present article is: http://harpal.in/stlb9

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے