Breaking News
Home / اہم ترین / مسلم خاتون ٹیچر نےحجاب پہننے پرپابندی کی وجہ سے ممبئی کے اسکول سے دیا استعفی

مسلم خاتون ٹیچر نےحجاب پہننے پرپابندی کی وجہ سے ممبئی کے اسکول سے دیا استعفی

ممبئی(ہرپل نیوز، ایجنسی) 10 ڈسمبر: ممبئی میں ایک اسکول کے ذریعہ ایک ٹیچر کو اسکول کے احاطے میں برقع پہن کر آنے سے منع کئے جانے کا واقعہ سامنے آیا ۔ اس واقعہ سے جہاں علاقائی لوگوں میں شدید ناراضگی ہے ، وہیں اسکول کی ٹیچر نے استعفی دیدیا۔ 25 سالہ خان شبينہ نازنین کرلا میں واقع وویک انگلش اسکول میں پڑھاتی تھیں۔نازنین کے مطابق ان کے لئے اسکول میں کام کرنا مشکل ہو رہا تھا، یہ سب کچھ اسکول کے غلط تصورات کے سبب ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ دو سال سے ایک آئی سی ٹی ٹیچر کے طور پر اس میں اسکول پڑھا رہی تھیں، لیکن جب جون میں نئی اسکول ہیڈ ماسٹر نے عہدہ سنبھالا ہے ، تب سے ان کو حجاب پہننے کو لے کر پریشان کیا جا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نئی ہیڈ ماسٹرکے آنے کے بعد مجھ سے مسلسل حجاب اور برقعہ اتارنے کیلئے کہا گیا۔سیاست ہند ڈاٹ کام کی خبر کے مطابق نازنین کا کہنا ہے کہ جب میں نے کہا کہ یہ میرا روایتی لباس ہے اور اسے پہننے کا میرا آئینی حق ہے۔ نازنین نے بتایا کہ انہوں نے 5 دسمبر کو استعفی دے دیا، جب قومی ترانہ سے پہلے انہیں اپنا برقعہ اتارنے کیلئے کہا گیا۔ اس دن مارننگ اسمبلی میں باری ان کی تھی۔نازنین نے کہا کہ مجھے میرا برقعہ ہٹانے کے لئے مجبور کیا گیا۔ جب میں نے ایسا کرنے سے انکار کیا ، تو ہیڈ ماسٹر نے کہا کہ میں برقع پہن کر قومی ترانہ نہیں گا سکتی۔ وہیں اسکول کے پرنسپل وکرم پلئی نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے یہاں اس طرح کا کوئی امتیاز ی سکول اختیار نہیں کیا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نئی ہیڈ ماسٹر کے آنے کے بعد کچھ نئے قوانین کو نافذ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال نازنین کا استعفی انتظامیہ کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول میں متعدد مسلم طلبہ پڑھتے ہیں ، مگر آج تک کسی کو بھی حجاب پہننے سے نہیں روکا گیا۔

ادھر نازنین نے ایک غیر سرکاری تنظیم 'جے ہو فاؤنڈیشن کے ذریعہ وزیر تعلیم ونود تاوڑے کو خط لكھاكر رابطہ کیا ہے۔ جے ہو فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی عادل کھتری کے مطابق یہ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت ایک شخص کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاشرہ کے لئے اچھا نہیں ہے، ہم وزیر سے اس شكايت کریں گے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/E1idK

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے