Breaking News
Home / اہم ترین / مسلم ریزرویشن کے معاملہ میں ہم عدالتی احکام کی پاسداری کریں گے،جمعیۃ علما مہاراشٹر کو وزیراعلیٰ فرنویس کی یقین دہانی

مسلم ریزرویشن کے معاملہ میں ہم عدالتی احکام کی پاسداری کریں گے،جمعیۃ علما مہاراشٹر کو وزیراعلیٰ فرنویس کی یقین دہانی

ناگپور: مسلم ریزرویشن کی حصولیابی اور شریعت میں مداخلت کے خلاف جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے زیراہتمام آج یہاں منعقد ہوئے اجلاسِ عام میں جہاں حکومت پر مسلمانوں کے ساتھ دوہرا رویہ اپنانے اور انہیں ان کے جائز حق سے محروم رکھنے کا الزام عائد کیا گیا وہیں مسلمانوں کے رویے پر بھی تنقید کی گئی کہ اگر مسلمان اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہوتے تو آج شریعت کے معاملات میں کسی کو مداخلت کی جرأت نہ ہوتی۔اس اجلاس کے بعد شرکاء نے جلوس کی شکل میں جاکر وزیراعلیٰ سے ملاقات کی، جہاں وزیراعلیٰ نے ریزرویشن کے معاملے میں عدالتی احکام کی پاسداری اور مسلمانوں کے دیگر مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔جری پٹکاروڈ پر واقع اندورہ گراؤنڈ پر منعقدہ اس اجلاسِ عام میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمود مدنی بھی شریک ہوئے، جنہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادی کے 70سال میں ہمارے ساتھ اس قدر ناانصافیاں کی گئیں کہ آج ہم اس مقام پر پہونچ گئے کہ اپنی بقاء اور تحفظ کے لئے ریزرویشن کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہیں، یہ ہمارے لئے نہیں بلکہ ملک کے لئے انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتوں کے بدلنے سے ہمارے حالات نہیں بدلیں گے، جب تک ہم اپنے اندر بدلاؤ نہیں لائیں گے اس وقت سماج نہ ہمارا سماج بدلے گا اور نہ ہمارے حالات بدلیں گے۔ مولانا محمود مدنی نے اس موقع پر مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ہمارے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہم نے سنّی حضرات کے آگے اپنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اگر ہمیں اتحاد کے لئے سوبار بھی گھٹنے ٹیکنے پڑیں تو بھی ہم اس کے لئے تیار ہیں، ہمیں اپنے اس گھٹنے ٹیکنے پر کوئی شرم نہیں بلکہ فخر ہے۔اس اجلاس میں مسلمانوں کے دیگر مکاتبِ فکر کے بھی علماء کرام ودانشوران کی شرکت کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ان لوگوں نے اختلاف کی دیوار گرادی ہے اور انشاء اللہ اب یہ دیوارہمارے اتحاد میں کبھی حائل نہیں ہوگی۔ مولانا مدنی نے شریعت کے مداخلت پر حکومتی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں شریعت پر عمل سے روکنے کا قانون بناتے رہئے اور ہم اسے توڑتے رہیں گے۔انہوں نے مسلمانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ جو رشتہ اللہ نے قائم کردیا ہے اسے توڑنے کی کوشش نہ کریں اور اگر توڑنا ناگزیر ہوجائے تو اس کے لئے بدعت کا راستہ اپنانے کے بجائے شریعت کی ہدایت پرعمل کیجئے۔انہوں نے اس موقع پر دہشت گردی اور فرقہ پرستی کا بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، مسلمان سب کچھ ہوسکتا ہے، مگر ظالم نہیں ہوسکتا۔ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا بدترین ظلم ہے اور ہم اسے کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ جولوگ اقتدار کے لئے فرقہ پرستی کی بنیاد پر ملک کو بانٹنے کی کوشش کررہے ہیں وہ ملک کا بہت بڑا نقصان کررہے ہیں۔انہوں نے وزیراعلیٰ دیوندر فڈنویس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے اوقاف کی جائیدادوں کی بازیابی اور اس کے صحیح استعمال کے لئے تحریک چلائی تھی، اب جبکہ آپ کی حکومت ہے تو پھر آپ مسلم اوقافی جائیدادوں کے صحیح استعمال کے لئے کوئی اقدام کیوں نہیں کررہے ہیں۔ٰاس اجلاس کی صدارت کررہے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ ندیم صدیقی نے کہا کہ ریزرویشن کی حاصل کرنے کی تحریک جمعیۃ علماء ہند کے لئے کوئی نئی تحریک نہیں ہے بلکہ یہ تحریک 1951سے جاری ہے، جس کے لئے 2002 میں واجپئی کے دورِ حکومت میں جیل بھرو تحریک تک چلائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سچر کمیشن کی تشکیل مولانا سید اسعد مدنی کی کوششوں کا نتیجہ تھی جس میں مسلمانوں کو ریزوریشن دینے کی سفارش کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی سابقہ حکومت نے جاتے جاتے مراٹھوں کو16 اور مسلمانوں کو5فیصد ریزرویشن دیا تھا، جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا اورعدالت نے مراٹھوں کے ریزرویشن کو مکمل طور سے خارج کردیا تھا جبکہ مسلمانوں کو تعلیمی زمرے میں پانچ فیصد ریزرویشن کو بحال رکھا تھا۔ اگر یہ ریزرویشن آئین کے خلاف ہوتا تو عدالت کبھی اسے برقرار نہ رکھتی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مراٹھا سماج کو ریزوریشن دینے کی بات کرتے ہیں مگرمسلمانوں کے ریزرویشن دینے کے معاملے میں دھرم کو بنیاد بناتے ہیں جبکہ آئین میں پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کی آزادی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم مراٹھا برادری کے ریزرویشن کے خلاف نہیں بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اگر بڑے جوار آپ کھارہے ہیں تو چھوٹے دانے ہمیں بھی دیجئے۔انہوں نے کہاکہ جمہوریت میں سروں کے ذریعے بھی لڑائی لڑی جاتی ہے ، ریزرویشن کی حصولیابی کے لئے ہم نے پوری ریاست میں تحریک چلائی ہے مگر ابھی یہ صرف ایک انگڑائی ہے ، آگے بہت بڑی لڑائی ہے۔اس موقع پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی جانب سے قومی یکجہتی اور بھائی چارگی کے فروغ، برادرانِِ وطن کے درمیان پیار ومحبت اور امن وامان کی فضاء قائم کرنے، ملک کے سیکولرازم اور سالمیت کو قوت پہونچانے،خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ، دہشت گردی کے الزام میں گرفتار بے قصوروں کی رہائی اور مزید گرفتاریوں پر روک لگانے،مسلم اوقافی جائیدادوں کے تحفظ،مسلمانوں کی تعلیمی، اقتصادی و سماجی پسماندگی کی بنیاد پر5فیصد ریزرویشن کی بحالی اور مسلمانوں کے عائلی قوانین شریعت کے تحفظ کے لئے عدالتی و پارلیمانی جدوجہد اور میڈیا میں اس تعلق سے بہتر نمائندگی سے متعلق تجویزات بھی منظور کی گئیں۔مسلم اوقافی جائیدادوں کے تحفظ سے متعلق پیش کی گئی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت کے جنرل سکریٹری جناب مجتبیٰ فاروق نے کہا کہ انسانی خدمت اسلام کا امتیاز ہے اور اسی امتیاز کے تحت ہمارے آباء واجداد نے قوم وملت کی فلاح وبہبود کے لئے اربوں کی جائیدادواملاک کو وقف کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وقف کی املاک کے بارے میں سروے کیا گیا تو معلوم یہ ہوا کہ ڈیفنس اور ریلوے کے بعد یہ وقف محکمہ کے پاس سب سے زیادہ جائیدادیں ہیں۔ اگر اس سے ہونے والی آمدنی جو سالانہ ایک لاکھ بیس ہزار کروڑ روپئے ہوتی ہے، مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے لئے خرچ کی جائے تو مسلمان اپنی تعلیمی، معاشی اور سماجی ہرطرح کی پسماندگی دور کرسکتے ہیں اور پھر انہیں کسی قسم کے ریزرویشن کی ضروت باقی نہیں رہے گی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/tx1dI

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے