Breaking News
Home / اہم ترین / مسلم نوجوانوں کو ہراسانی کا معاملہ۔مہاراشٹرا کے مسلم اراکین اسمبلی برہم، بیجا گرفتاریوں پر روک لگانے کی مانگ

مسلم نوجوانوں کو ہراسانی کا معاملہ۔مہاراشٹرا کے مسلم اراکین اسمبلی برہم، بیجا گرفتاریوں پر روک لگانے کی مانگ

(ممبئی۔ہرپل نیوز، ایجنسی،)25جولائی ۔  ریاست مہاراشٹر کے پربھنی شہر میں مسلم نوجوانوں کو انسداد دہشت گردی دستہ کی جانب سے ہراساں کئے جانے والے معاملے میں آج یہاں مسلم اراکین اسمبلی نے برہمی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ بے جا گرفتاریوں پر فوری روک لگائی جائے۔ نیز اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران جب سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے یہ معاملہ اٹھانے کی کوشش کی تو اسپیکر نے اسے مسترد کردیا جبکہ کانگریس اراکین اسمبلی محمد عارف نسیم خان اور امین پٹیل اس کی حمایت میں کھڑے ہوگئے لیکن اسپیکر نے انہیں بھی بولنے کی اجازت نہیں دی۔

ایوان کی کارروائی کے بعد ابو عاصم اعظمی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحقیقات کی آڑ میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں پر سخت لفظوں میں احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ بغیر پختہ ثبوت کے کسی بھی نوجوان کو گرفتار نہ کیا جائے ۔ سابق اقلیتی امور وزیر محمد عارف نسیم خان نے بھی اس سلسلہ میں اخبار نویسوں سے گفتگو کی اور بتایا کہ گذشتہ دنوں شیو سینا رکن اسمبلی راہول پاٹل نے یہ شوشہ چھوڑا تھا کہ مراٹھواڑہ سے سو مسلم نوجوان گمشدہ پائے گئے ہیں اور وہ تما م آئی ایس ائی ایس کی ٹریننگ کے لئے ملک سے باہر گئے ہوئے ہیں ۔ نسیم خان نے کہا کہ سینا رکن اسمبلی کے اس الزام کی جب انہوں نے تحقیقات کی تو کسی بھی نوجوان کے گمشدہ ہونے کی کسی بھی پولس تھانے میں رپورٹ درج کیئے جانے کے ثبوت نہیں ملے۔ اس طرح سے سینا رکن اسمبلی نے ایک شوشہ چھوڑا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے گرفتاریوں کے تعلق سے رہنمایانہ اصول مرتب کیئے ہیں اس کے مطابق کارروائی کی جانی چاہئے اور جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کہ نوجوان غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے تب تک اس کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے اور اگر کارروائی ضروری ہے تو علاقے کے معززین اور متعلقہ نوجوان کے والدین کو ضرور مطلع کیا جائے ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/okGUr

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے