Breaking News
Home / اہم ترین / مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی بھیانک نتائج کا پیش خیمہ ہوگی. مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے دیا انتباہ

مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی بھیانک نتائج کا پیش خیمہ ہوگی. مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے دیا انتباہ

جال ( ہرپل نیوز، ایجنسی)26 نومبر: اسلام ایک ایسا جامع نظام حیات ہے جو انسانی زندگی کے تمام گوشوں کیلئے راہنمائی کرتاہے۔اس نے جس طرح ہمیں عبادات کا طریقہ بتا یا اسی طرح معاشرت اور خاندانی زندگی کے بارے میں ہماری مکمل راہنمائی کی۔اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ نظام زندگی کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بناکر خدا کی بندگی کا عملی اظہار کریں۔اورآپ کو یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ انسان قرآن وحدیث کے بنائے ہوئے اصولوں میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کا حق نہیں رکھتا۔آج میں سیدھے سیدھے لفظوں میں آپ سے کہنا چاہونگا کہ مسلم پرسنل لاء خاندانی زندگی سے متعلق ان اسلامی قوانین کانام ہے جن میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کو جگہ نہیں دی جا سکتی تبدیلی نا قابل قبول ہے اور حکومت کی طرف سےاگر اس سمت میں کوئی کوشش ہوئی تو ملکی سطح پر اس کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔اس وقت معاملہ صرف نکاح وطلاق کے نظام میں تبدیلی کا ہی نہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کے وجود کو مٹانے کی منظم سازش رچی جا رہی ہے۔یہ باتیں جا لے جامع مسجد میں دارالعلوم سبیل الفلاح کے ناظم، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری،رابطہ عالم عرب اسلامی مکہ مکرمہ کے رکن،معہد ولی الاسلامی ہر سنگھ پور کے سرپرست اور عالمی شہرت یافتہ عالم دین فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے جمعہ کی نماز سے قبل اپنے خطاب میں کہیں۔ مولانا رحمانی نے کہا کہ حکومت اس وقت ملک پر جو مذہبی نظریہ تھوپنے کی کوشس کر رہی ہے اگر اس کو روکا نہیں گیااور اس کے خلاف ہماری مذہبی بیداری سامنے نہیں آئی تو ہماری آئندہ کی نسلیں دین سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔اوران کا مذہبی تشخص پامال ہو کر رہ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ خدائی قانون پر یقین نہیں رکھتے ان کے یہاں رسم ورواج کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اس لئے ہمیں عملی طور پر خدائی قانون کی عظمت کو تسلیم کرنا ہوگا کیونکہ ہم کسی بھی ایسے نظام کو قبول نہیں کر سکتے جس کا اللہ کے قانون کے ساتھ ٹکڑاو ہو۔انہوں نے کہا کہ شریعت ایلیکیشن ایکٹ 1937 ہمارے آئین کا حصہ ہے اور دستور کے دفعہ 25 میں جس وضاحت کے ساتھ مذہبی آزادی کا ذکر ہے اس کے خلاف کسی عملی اقدام کو قبول کر لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مولانا نے کہا کہ آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کو چھین کر حکومت کا چور دروازے سے کومن سول کوڈ لانے کی کوشش کرنا خود ملک کے دستور کے ساتھ بے وفائی اور کھلا ہوا مذاق ہے۔ مولانا رحمانی نے کہا کہ طلاق بیشک ایک ناپسندیدہ عمل ہے لیکن بعض حالات میں ہماری ضرورت بن جاتا ہے جیسے آپریشن ایک ناگوار عمل ہے لیکن جب علاج کے لئے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہے تو ہر عقلمند آدمی اس کو قبول کر نے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔اسی طرح جب زوجین کے درمیان نا اتفاقی بڑھ جائے اور شادی کا بنیادی مقصد مفقود ہونے لگے تو طلاق ایک ضرورت بن جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ سچائی ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن مذاہب میں طلاق کا تصور نہیں تھا انہیں بھی اس عمل کی اہمیت کو  قبول کرنا پڑا۔مولانا رحمانی نے آگے کہا کہ ہندوستان جیسے وسیع وعریض کثیر مذہب والے ملک میں کومن سول کوڈ کی نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہی ضرورت اور نہ ہی اس سے قومی یکجہتی پیدا  ہوگی۔بلکہ اس کے بر خلاف لوگوں میں احساس محرومی پیدا ہوگا اور حب الوطنی کے جذبات کو ٹھیس پہونچا گا اسلئے حکومت کو اس معاملے میں ایماندارانہ سوچ کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسلامی اصولوں کو اپنا کر ہی معاشرہ کو امن و عافیت کی راہ پر لایا جا سکتا ہے کیوں کہ ایسا کر نے سے سماج میں برائی کی جڑیں کمزور ہوں گی۔ وہیں آج مولانا نے امل ہیلتھ سینٹر کے شعبہ دعوت کے تحت منعقدہ پروگرام سے کہا کہ آج اس دعوت سینٹر کو دیکھ کر میرا خواب شرمندہ تعبیر ہوا کہ یہ ہاسپٹل بھی ہے اور دعوت سینٹر بھی ہے، اس کی نظیر سیرت النبی میں بھی ملتی ہے کہ جب آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی اس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی جسمانی اور روحانی تسلی دی، بیماری میں انسان حق بات کو قبول کرنے کے لیے زیادہ تیار ہوتا ہے، اس لیے اس میں دعوت سینٹر کا قیام قابل مبارک باد ہے،، ان باتوں کا اظہار خیال فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے امل ہیلتھ سینٹر کے شعبہ دعوت کے تحت ہندوستان میں دعوت دین، اور اس کا طریقہ کار کے عنوان سے منعقد ایک پروگرام میں علماء و طلباء سے کیا انہوں نے مزید کہا کہ آج پوری دنیا میں نظریاتی وتہذیبی کشمکش بہت گرم ہوگئی ہے اور ہر نظریے کے علمبردار اپنے نظریے کی تبلیغ کررہے ہیں اور اس کے لیے بڑی بھاری رقم خرچ کرتے ہیں۔ جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ دین اسلام ایک عالم گیر دین ہے جو تمام انسانوں کو اپنا پیغام دینا چاہتاہے۔یہ اللہ عزوجل کا پسندیدہ دین ہے۔ یہی وہ کامل دین ہے جو تمام سفینہء زندگی کو اپنے رنگ میں رنگنا چاہتاہے، یہ ایک عالمی پیغام ہے جس سے کوئی بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ یہی انسانیت کی تمام مشکلات کا واحد حل ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ دعوت دین کا کام امت مسلمہ کے لیے شرف وفضیلت کی بات ہے کیونکہ انسانیت کو صحیح عقیدے کی دعوت دے کر آدمی اپنا شمار اس عظیم مقصد رسالت میں کراتا ہے جس کے لیے انبیاء ورسل کی بعثت عمل میں آئی۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی سے مسلمان ایک بڑے مقصد کی تکمیل کرتا ہے جس سے خیر امت کے مقام کو وابستہ کیاگیا ہے لہٰذا امت مسلمہ کا ہر فرد خواہ مردہو یا عورت انفرادی طور پر اس کی ذمہ داری ہے کہ دین اسلام کی دعوت کا فریضہ انجام دے۔ دعوت الی اللہ کی یہ ذمہ داری جو امت مسلمہ پر ڈالی گئی ہے اس کی حیثیت اختیاری نہیں کہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ یہ ذمہ داری ایسی ہے کہ ہر حال میں بقدر استطاعت اس کو پورا کرنا ضروری ہے، اس معاملے میں کوئی بھی عذر قابل قبول نہیں، عبدالتواب متعلم مدرسہ طیبہ مادھو پور کی تلاوت قرآن پاک سے مجلس کا آغاز ہوا، جب کہ نظامت کے فرائض ام قراء مکہ مکرمہ کے محقق مولانا نعمت اللہ مکی نے انجام دیا،الحاج حافظ ناظم رحمانی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا، اخیر میں مولانا  قاسم مظفر پوری قاضی شریعت امارت شرعیہ پٹنہ کی رقت آمیز دعا پہ مجلس کا اختتام عمل میں آیا اس موقع سے مولانا تقی قاسمی، مفتی مجاہد الاسلام قاسمی، مولانا عبد الخالق قاسمی،مولانامحمد نافع عارفی قاسمی، مولانا غفران ساجد قاسمی، مولانا مظفر احسن رحمانی، قاری ریحان، مولانا منت اللہ قاسمی،مولانا دبیر قاسمی، ماسٹر جاوید انور وغیرہ شریک تھے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/AhKz7

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے