Breaking News
Home / اداریہ / مظلوم طبقات کے مسائل اور سیرتِ نبوی ﷺ : ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

مظلوم طبقات کے مسائل اور سیرتِ نبوی ﷺ : ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

موجودہ دور میں آزادی، مساوات اور عدل کے خوب چرچے ہیں۔ انھیں حیاتِ انسانی کے زرّیں اصولوں کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صدیوں کی طویل جد و جہد اور کافی قربانیوں کے بعد ان کا حصول ممکن ہوسکا ہے۔ پہلے بہت سے انسان غلامی کی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ جو آزاد تھے وہ بھی اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم اور اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی چیرہ دستیوں کا شکار تھے۔ وہ ارادہ و اختیار کی آزادی سے بے بہرہ تھے۔ طاقت و اقتدار کا مالک طبقہ ان پر اپنی مرضی تھوپتا اور اپنا حکم چلاتا تھا۔ رفتہ رفتہ ان میں بیداری آئی، اپنی محرومی اور مظلومیت کا احساس پیدا ہوا، اپنے حقوق کے حصول کے لیے انھوں نے منصوبہ بند کوششیں کیں، بالآخر انھیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ مختلف ممالک میں انسانی حقوق، بنیادی حقوق اور مساوی حقوق کے اعلامیے تیار کیے گئے۔ ان کوششوں کا نقطۂ عروج ’حقوق انسانی کا بین الاقوامی منشور‘ ہے، جسے 10؍ دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا تھا۔ اس منشور کے اجراء پر چھ دہائیاں گزر چکی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس کا زبردست استقبال کیا گیا، تمام ممالک نے اس کی دفعات اپنے دستوروں میں شامل کیں اور ان کے نفاذ کا وعدہ کیا، بہت سے کمیشن قائم کیے گئے کہ وہ اس میدان میں پیش رفت کا جائزہ لیتے رہیں اور ان کے نفاذ کو یقینی بنائیں، لیکن عملی صورت حال کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی قابل ذکر اور امید افزا تبدیلی نظر نہیں آتی۔ ہمارے ملک میں اب بھی سماج کے متعدد طبقات پست اور حقیر سمجھے جاتے ہیں۔ انھیں مساویانہ حقوق حاصل نہیں ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ وہ ہر طرح کے ظلم و تعدّی کا شکار ہیں اور ان کی داد رسی اور ان کے ساتھ عدل و انصاف کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ عالمی منظرنامہ بھی مایوسی اور تاریکی کی تصویر پیش کرتا ہے۔ طاقت ور ممالک نے کم زور ممالک کو اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ سیاسی، معاشی اور دیگر میدانوں میں انہی کا حکم چلتا ہے اور جو ممالک ذرا بھی اس سے انحراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ان پر بدترین مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور کوئی ان کی دادرسی کی ہمت نہیں کرپاتا۔
عصر حاضر میں سماج کے کم زور اور محروم و مظلوم طبقات کے گوناگوں مسائل ہیں، جن میں سے بنیادی اور اہم مسائل کو درج ذیل تین نکات میں سمیٹا جاسکتا ہے:
1- پست سماجی حیثیت: سماجی حیثیت سے انسانوں کو مختلف طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کچھ کو اعلیٰ و اشرف اور کچھ کو ادنیٰ و ارذل قرار دیا گیا ہے۔ جن طبقات کو ادنیٰ سماجی حیثیت دی گئی ہے، انھیں عزت و احترام کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ بعض سماجوں میں یہ تقسیم صدیوں سے جاری ہے اور اسے مذہبی سند بھی حاصل ہے۔ موجودہ دور کی روشن خیالی اور حریت پسندی کے باوجود اس رویّہ میں کوئی تبدیلی نہیں آسکی ہے۔
2- حقوق سے محرومی: عدل و مساوات کے بلند بانگ دعووں کے باوجود سماج کے بعض طبقات کو بہت سے حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس کے مظاہر ہمارے ملک میں بھی نظر آتے ہیں اور عالمی سطح پر بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً امریکہ نے گوانتاناموبے کے قیدیوں کو حصولِ انصاف کے وہ حقوق نہیں دیے ہیں جو امریکی شہریوں کو حاصل ہیں۔
3- طاقت کی حکم رانی عام ہے۔ طاقت ور افراد ہوں یا قومیں یا ممالک، وہ اپنے سے کم زور کو دبانے کے لیے ہر طرح کے حربے اختیار کرتے ہیں اور ہر طرح کا ظلم روا رکھتے ہیں۔
عہد نبوی کا سماج
اسلام محروم، دبے کچلے اور مظلوم طبقات کا نجات دہندہ بن کر سامنے آتا ہے۔ اس نے ان کے مسائل کو ماضی میں بھی کامیابی کے ساتھ حل کیا ہے اور موجودہ دور میں بھی وہ اس کی اہلیت رکھتا ہے۔ آج سے چودہ سو سال قبل جب سرزمینِ عرب میں پیغمبراسلام حضرت محمد ﷺ کی بعثت ہوئی تھی، اس زمانے کا سماج انتشار، بد امنی، لوٹ کھسوٹ، ظلم و جور اور حقوق کی پامالی کی انتہا پر تھا۔ آپ کی تعلیمات کے نتیجے میں امن و امان کا دور دورہ ہوگیا۔ آپ نے تمام طبقات کے حقوق بیان کیے، ان کی ادائی کی تاکید کی اور ان کی حق تلفی کے برے انجام سے ڈرایا۔ آپؐ نے کم زور طبقات کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا، کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کی سخت ترین الفاظ میں مذمّت کی۔ اس طرح آپ کی تعلیمات کے نتیجے میں اس عہد کا سماج امن و امان کا گہوارہ بن گیا، ظلم و زیادتی کا خاتمہ ہوگیا اور تمام افراد شیر و شکر ہوکر رہنے لگے۔
رسول اللہ ﷺ نے کم زوروں کے حقوق بیان کیے
اُس زمانے میں سماج کے جو طبقات کم زور تھے آپؐ نے ان کے حقوق بیان کیے۔ سب سے زیادہ کم زور اور بے وقعت غلاموں کا طبقہ تھا۔ انھیں کسی طرح کی آزادی اور اختیار حاصل نہ تھا۔ ان کے ساتھ جانوروں سے بھی بد تر سلوک کیا جاتا تھا۔ ان پر ہر طرح کا ظلم اور زیادتی روا رکھی جاتی تھی، جس پر وہ کوئی شکوہ و فریاد نہ کرسکتے تھے۔ آپؐ نے انھیں بنیادی انسانی حقوق عطا کیے۔ فرمایا:
“تمھارے یہ غلام تمھارے بھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں تمھارے زیر دست رکھا ہے۔ پس جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو اسے وہ کھلائے جو خود کھاتا ہو اور وہ پہنائے جو خود پہنتا ہو”۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب المعاصی من امر الجاہلیۃ)
آپؐ نے مالکوں کو اپنے غلاموں پر ناروا زیادتی سے روکا اور انھیں آزاد کرنے کی ترغیب دی۔ آپؐ نے فرمایا:
“جو شخص اپنے غلام کو کسی وجہ سے مارے اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کردے”۔ (مسلم، کتان الایمان، باب صحبۃ الممالک و کفارۃ و کفارۃ من الطم عبدہ)
ایک صحابی اپنے غلام کو مار رہے تھے، اچانک وہاں اللہ کے رسول ﷺ آگئے۔ صحابی نے شرمندہ ہوکر کہا: آئندہ میں کسی غلام کو نہ ماروں گا اور یہ غلام آزاد ہے۔ آپؐ نے فرمایا:
“اگر تم اسے آزاد نہ کرتے تو جہنم کی آگ تمھیں چھوٗ جاتی”۔ (حوالہ سابق)
اس زمانے میں عورتوں کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ انھیں مردوں سے فروتر سمجھا جاتا تھا اور بسا اوقات ان کے ساتھ غیر انسانی رویّہ اختیار کیا جاتا تھا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے انھیں مردوں کے برابر کا مقام عطا کیا اور ان پر دست درازی سے منع کیا۔ آپؐ نے بیویوں کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا:
“جو خود کھاتے ہو وہ انھیں بھی کھلاؤ، جو خود پہنتے ہو وہ انھیں بھی پہناؤ، نہ ان کے ساتھ مارپیٹ کرو اور نہ انھیں برا بھلا کہو”۔ (ابو داود، کتاب النکاح، باب فی حق المرءۃ علی زوجھا)
بیوہ عورت کے ساتھ اس زمانے میں بدترین سلوک کیا جاتا تھا۔ اسے نحوست کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ آپؐ نے اسے حسنِ سلوک اور ہم دردی کا مستحق قرار دیا۔ فرمایا:
“بیوہ اور مسکین کے سلسلے میں دوڑ دھوپ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جو مسلسل اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے، مسلسل نماز پڑھتا اور مسلسل روزے رکھتا ہے”۔ (بخاری، کتاب الادب، باب الساعی علی الارملۃ)
لڑکیوں کو اس زمانے میں باعثِ ننگ و عار سمجھا جاتا تھا۔ بسا اوقات انھیں پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردیا جاتا تھا اور اگر زندہ رکھا جاتا تو بوجھ سمجھ کر ان کی پرورش کی جاتی تھی۔ آپؐ نے ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت کو باعثِ اجر قرار دیا اور اس پر جنت کی بشارت دی۔ حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا :
“جس شخص نے تین لڑکیوں کی پرورش کی، ان کو ادب اور سلیقہ سکھایا، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اس کے لیے جنت ہے”۔ (ابو داود، کتاب الادب، باب فی فضل من عامل یتیماً)
کسی شخص کا انتقال ہوجاتا تو اس کے بچوں کا کوئی پرسان حال نہ ہوتا تھا۔ اس کے رشتہ دار اس کا مال ہڑپ کرلیتے تھے اور اس کے بچوں کی خبرگیری نہ کرتے تھے۔ آپؐ نے یتیموں کی پرورش اور نگہ داشت کو بڑا کارِ ثواب قرار دیا۔ فرمایا:
“میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اتنے قریب ہوں گے” یہ کہتے ہوئے آپؐ نے انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کو ملاکر اشارہ کیا۔ (بخاری، کتاب الادب، باب فضل من یعول یتیماً)
مسکینوں اور محتاجوں کی مدد پر ابھارا
سماج میں جو لوگ مالی حیثیت سے کم زور ہوتے ہیں اور معاشی دوڑ دھوپ میں پیچھے رہ جانے کے سبب دوسروں کے دست نگر اور محتاج ہوجاتے ہیں، انھیں اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا ہے، انھیں بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ان کے حقوق بیان کیے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین کی۔ ایک موقع پر آپؐ نے فرمایا:
“تمھیں تمھارے کم زوروں ہی کی وجہ سے رزق دیا جاتا اور مدد کی جاتی ہے”۔ ( بخاری، کتاب الجھاد، باب من استعان بالضعفاء والصالحین فی الحرب)
ایک شخص نے اپنے دل کی سختی کا علاج دریافت کیا تو فرمایا:
“مسکین کو کھانا کھلاؤ اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو”۔ (مسند احمد،6/139)
حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
“جس شخص نے کسی مصیبت زدہ کی مدد کی اللہ اس کے نامۂ اعمال میں تہتّر مغفرتیں لکھ دے گا”۔ (بیہقی، فی شعب الایمان)
مساوات کی تاکید و تلقین
اللہ کے رسول ﷺ نے اونچ نیچ کے تمام تصورات کو کالعدم قرار دیا اور تمام انسانوں کے درمیان مکمل مساوات کی تاکید کی۔ خواہ وہ کسی رنگ و نسل کے ہوں، کوئی زبان بولتے ہوں اور کسی علاقے کے رہنے والے ہیں۔ آپؐ نے ایک موقع پر لوگوں کے درمیان خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
“لوگو، خوب اچھی طرح سن لو، تمھارا رب ایک ہے، تمھارا باپ ایک ہے، خوب اچھی طرح سن لو، نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت حاصل ہے، نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کسی گورے کو کسی کالے پر، نہ کسی کالے کو کسی گورے پر۔ اگر کسی کو کسی دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل ہوسکتی ہے تو صرف تقویٰ کی بنیاد پر”۔ (مسند احمد، 5/411)
عہدِ نبوی میں دو افراد کا کسی معاملے میں جھگڑا ہوگیا۔ ان میں سے ایک کالا کلوٹا حبشی تھا۔ دوسرے شخص نے اسے اس کی ماں کا طعنہ دیا۔ اللہ کے رسول ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپؐ نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا اور فرمایا:
“کیا تو نے اسے اس کی ماں کا طعنہ دیا ہے۔ یہ تو جاہلیت کی بات ہے”۔ (بخاری، کتاب العتق،2545)
قبیلۂ بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی۔ اسے آپؐ نے سزا دیے جانے کا حکم دے دیا۔ معزز قبیلہ سے ہونے کی وجہ سے لوگوں نے سفارش کی کہ اسے معاف کردیا جائے۔ آپؐ نے اس پر سخت الفاظ میں اپنی ناگواری ظاہر کی اور فرمایا:
“اللہ کی قسم، اگر محمد کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کٹوادیتا”۔ (بخاری، کتاب الحدود، باب کراہیۃ الشفاعۃ فی الحد)
ظلم کی مذمّت اور مظلوم کی حمایت و مدد
کم زور افراد ہوں یا طبقات، ہر زمانے میں طاقت ور افراد اور طبقات کے ظلم و تعدّی کا شکار رہے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے سخت ترین الفاظ میں کم زوروں پر ظلم و ستم کرنے سے روکا ہے اور ایسا کرنے والوں کو روز قیامت کی وعید سنائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا:
“ظلم سے بچو، اس لیے کہ ظلم روز قیامت تاریکیوں کی شکل میں ظاہر ہوگا”۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم)
دوسری حدیث میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
“مظلوم کی بد دعا سے بچو، اس لیے کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی آڑ نہیں ہوتی”۔ (بخاری، کتاب المظالم، باب التقاء ولاحزر من دعوۃ المظلوم)
ایک موقع پر آپؐ نے صحابۂ کرام کے درمیان فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، صحابہ نے تعجب سے عرض کیا: مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں آتا ہے، مگر ظالم کی مدد کرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اس کو ظلم کرنے سے روک دو، یہ اس کی مدد کرنا ہے”۔ (بخاری، کتاب المظالم، باب اعن اخاک ظالما او مظلوما)
ایک موقع پر آپؐ نے ارشاد فرمایا:
“جب لوگ کسی شخص کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں، پھر بھی اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ سب پر عذاب نازل کردے”۔ (ترمذی، کتاب الفتن،2168)
ایک مرتبہ آپؐ نے صحابہ سے دریافت کیا: جانتے ہو، مفلس کون ہے؟ انھوں نے جوا ب دیا: ہم تو مفلس اس کو سمجھتے ہیں ، جس کے پاس درہم و دینار نہ ہو، فرمایا: نہیں، میری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو روزِ قیامت نماز، روزہ، زکوٰۃ سب کچھ لے کر آئے گا، لیکن اس کے ساتھ اس نے کسی کو برا بھلا کہا ہوگا، کسی کا ناحق مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو مارا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں ان مظلومین کو دے دے گا۔ پھر اگر ان کا حساب پورا ہونے سے قبل اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو ان کے گناہ اس کے سر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا”۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم)
ام المومنین کی گواہی
یہ رسول اللہ ﷺ کی صرف تعلیمات اور ارشادات ہی نہ تھے، بلکہ آپؐ نے عملی نمونہ بھی پیش کیا۔ آپ کم زوروں اور بے کسوں کی مدد کرتے تھے، محتاجوں کا مالی تعاون کرتے تھے، بے سہاروں کا سہارا بنتے تھے، مظلوموں کی حمایت کرتے تھے اور انھیں ظلم سے بچاتے تھے، آپ کا یہ کردار بعثت سے پہلے بھی تھا، بعثت کے بعد مکّی دور میں بھی اور مدینہ ہجرت کرنے کے بعد بھی۔ ام المومنین حضرت خدیجہؓ نے آپ کے اس مثالی کردار کی گواہی دی ہے۔ غارِ حرا میں پہلی وحی آنے کے بعد جب آپؐ گھر پہنچے اور اپنی اضطرابی کیفیت کا اظہار کیا تو حضرت خدیجہؓ نے آپؐ کے سامنے یہ باتیں کہیں :
“ہرگز نہیں۔ اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا۔ آپ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں، بے سہاروں کا سہارا بنتے ہیں، محتاجوں کو کما کر دیتے ہیں، مہمان کی ضیافت کرتے ہیں اور مصیبت زدوں کی مدد کرتے ہیں”۔ (بخاری، کتاب التفسیر، سورہ العلق)
کتبِ سیرت میں متعدد ایسے واقعات مروی ہیں کہ کسی مظلوم نے آپ کے سامنے فریاد کی، آپؐ نے فوراً اس کی پکار پر لبیک کہا اور اسے ظلم سے نجات دلائی۔ مکی دور کا واقعہ ہے۔ ایک شخص تجارت کی غرض سے کچھ اونٹ لے کر آیا۔ ابوجہل نے اس کے اونٹ خرید لیے، لیکن ان کی قیمت ادا کرنے میں ٹال مٹول کرنے لگا۔ اس نے حرم میں جاکر سردارانِ قریش سے شکایت کی۔ اس موقع پر حرم کے ایک گوشے میں نبی اکرم ﷺ بھی تشریف فرماتھے۔ سرداروں نے آپؐ کی طرف اشارہ کرکے اس شخص سے کہا: ’’ان سے جاکر شکایت کرو، وہ تمھارا مسئلہ حل کردیں گے‘‘ وہ آپؐ کے پاس پہنچا اور اپنی شکایت بیان کی۔ آپؐ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے ساتھ لے کر ابوجہل کے گھر پہنچے اور اس کا حق دلوایا۔ (سیرت النبی، ابن ہشام، طبع مصر،1/416۔417)
حلف الفضول کی ستائش
لوگوں کو ظلم و ستم سے بچانے اورمظلومین کو انصاف دلانے کے مقصد سے عہدِ جاہلیت میں چند مشہور قبائل کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا، جو ’حلف الفضول‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہوا یوں کہ ایک مرتبہ یمن کا ایک تاجر مکہ آیا۔ اس نے اپنا کچھ سامان فروخت کیا۔ جس نے خریدا اس نے اس کی قیمت ادا کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا۔ تاجر نے بعض قبائل سے مدد چاہی، لیکن کسی نے اس کی مدد نہ کی۔ بالآخر اس نے کوہ ابوقبیس پر چڑھ کی چند اشعار میں اپنی داستانِ مظلومیت بیان کی۔ اس وقت قبائل قریش کے جو سردار حرم میں موجود تھے انھوں نے اس کی چوٹ اپنے دلوں میں محسوس کی، بالآخر انھوں نے عہد کیا کہ ’’آئندہ شہر مکہ میں کسی پر ظلم ہوا، خواہ وہ مکہ کا رہنے والا ہو یا کہیں باہر کا، وہ سب مظلوم کی حمایت و مدد میں اٹھ کھڑے ہوں گے، یہاں تک کہ اسے اس کا حق مل جائے‘‘ رسول اللہ ﷺ کی عمر اس وقت تقریباً بیس سال تھی۔ آپؐ اپنے چچا زبیر بن عبدالمطلب کے ساتھ اس معاہدہ میں شریک ہوئے تھے۔ بعثت کے بعد ایک موقع پر آپؐ نے اس معاہدہ کا تذکرہ بہت تعریف و تحسین کے انداز میں کیا۔ آپؐ نے فرمایا:
“میں عبداللہ بن جدعان کے گھر میں ایک ایسے معاہدہ میں شریک رہا ہوں کہ اگر آج مجھے ایسے کسی معاہدے کی طرف بلایا جائے تو میں اس پر لبیک کہوں گا” ۔ (ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، طبع مصر،2/ 270)
عہد حاضر کے مسائل کا حل سیرت نبوی کی پیروی میں ہے
عہدِ نبوی میں کم زوروں، محروموں اور مظلوموں کے جو مسائل تھے وہ اپنی ترقی یافتہ شکل میں آج بھی موجود ہیں۔ ذات پات، رنگ و نسل، جنس وغیرہ کی بنیاد پر عدم مساوات کا چلن ہے۔ کم زور، افراد ہوں یا طبقات یا ممالک، وہ طاقت ور کے چنگل میں گرفتار اور اس کے مظالم کا شکار ہیں اور ان سے گلو خلاصی ان کے بس میں نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی زرّیں تعلیمات ان کے لیے امید کی کرن روشن کرتی ہیں۔ ان تعلیمات پر عمل کرکے پہلے بھی انسانی معاشرہ آزادی، مساوات اور عدل و انصاف سے بہرہ ور ہوچکا ہے اور آج بھی اگر سچے دل سے ان پر عمل کرے اور انھیں حرزِ جاں بنالے تو ان کے اثرات و برکات سے مستفید ہوسکتا ہے۔بشکریہ،مضامین ڈاٹ کام

The short URL of the present article is: http://harpal.in/hm7uO

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے