Breaking News
Home / اہم ترین / مغربی بنگال میں یونیورسٹیوں سے لے کر پرائمری اسکولوں تک میں اردو اساتذہ کی نمایاں کمی

مغربی بنگال میں یونیورسٹیوں سے لے کر پرائمری اسکولوں تک میں اردو اساتذہ کی نمایاں کمی

کلکتہ ( ہرپلنیوز، ایجسنی)27؍دسمبر- مغربی بنگال میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوئے 6سال ہونے کے بعد بھی یونیورسٹیوں سے لے کر پرائمری اسکولوں تک میں اردو اساتذہ کی نمایاں کمی ہے۔ برسوں سے اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں ۔ شیڈویل کا سٹ و شیڈول ٹرائب کیلئے ریزرویشن نے اردو اسکولوں کی حالت کو مزید خستہ کردیا ہے۔ مغربی بنگا ل کے اردو میڈیم مدھیامک اسکولوں میں شیڈویل کا سٹ و شیڈول ٹرائب کیلئے ریزرویشن کی وجہ سے تقریباً 130سے زاید اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں اس کا سیدھا نقصان طلباء کو ہورہا ہے اور کئی نصابوں کی کتابوں کی تعلیم تک نہیں ہوپا رہی ہے۔ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت گزشتہ 6سالوں میں اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔کلکتہ ، شمالی24پرگنہ، ہگلی ، ہوڑہ،اسلامپور جہاں اردو بولنے والوں کی 10فیصد آبادی ہے میں 60سے زاید مدھیامک اسکول ہیں ۔ جہاں شیڈول کاسٹ و شیڈدل ٹرائب کے لئے ریزرویشن ہے۔ چوں کہ شیڈول کاسٹ و شیڈول ٹرائب سے تعلق رکھنے والوں میں اردو جاننے والے نہیں ہیں اس لیے یہ سیٹیں خالی رہ جاتی ہیں ۔2010 میں سابق وزیرا علیٰ بدھا دیب بھٹاچاریہ کو جب اردو اسکولوں کے اس مسئلے سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے عارضی طور پر ریزرویشن پر روک لگا دی  اور کچھ سیٹوں پر اساتذہ کی بحالی بھی ہوئی۔مگر 2011میں ممتا بنرجی کی حکومت آنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اردو اسکولوں میں ریزرویشن کا نظام بحال ہوگیا ۔2011 سے اب تک کئی اساتذہ کے ریٹائراور موت کی وجہ سے مزید سیٹیں خالی ہوگئی ہیں۔ اساتذہ کی ایک ٹیم نے کلکتہ و اطراف میں اردو اسکولوں کا سروے کرکے ایک رپورٹ مرتب کی ہے ۔سروے کی ٹیم میں آفتاب عالم ، ہوڑہ ہائی اسکول، شمیمہ بانو مولانا ازاد اسکول اور اسلم علی سلیمیہ اسکول شامل تھے۔ یہ رپورٹ ریاستی وزیر تعلیم پارتھو چٹرجی، ڈائریکٹر محکمہ تعلیم، ریاستی وزہر شہری ترقیات فرہاد حکیم ، ریاستی وزیر جاوید احمد خان کو سونپی جائے گی۔ٹیم میں شامل اساتذہ نے کہا کہ اگر اس رپورٹ پر عمل نہیں کیا گیا اور اردو اسکولوں میں ریزرویشن کو ختم نہیں کیا گیا تو اساتذہ کی ٹیم سڑکوں پر مظاہرہ کرے گی۔خیال رہے کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے 2011میں اقتدار سنبھالتے ہی ریاست میں جن علاقوں میں اردو بولنے والوں کی 10فیصد آبادی ہے وہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیدیا  تھا۔اردو اکیڈمی کے بجٹ میں کئی گنا اضافہ کردیا گیا۔ سیمینار، مشاعرے ، ڈرامے کے پروگرام خوب ہورہے ہیں مگر اردو تعلیم کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پرائمری سطح سے لے کر یونیورسٹیوں میں اردو اساتذہ کی کمی ہے۔کلکتہ یونیورسٹی میں اردو کے شعبہ میں صرف ایک مستقل پروفیسر ہیں ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/efYmf

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے