Breaking News
Home / اہم ترین / ملک میں نفرت کے ماحول کو امن و بھائی چارگی سے ہی پرامن بنایا جا سکتاہے۔ سوامی لکشمی اچاریہ ومولانا سید ارشد مدنی کا خطاب

ملک میں نفرت کے ماحول کو امن و بھائی چارگی سے ہی پرامن بنایا جا سکتاہے۔ سوامی لکشمی اچاریہ ومولانا سید ارشد مدنی کا خطاب

موتیہاری کے مہاراجہ نہرو اسٹیڈیم میں جمعیت علمائے ہند کا اہم اجلاس ۔ ریاست سے لاکھوں کی تعداد میں دانشوران، علماء وفضلاء نے کی شرکت

موتیہاری،بہار ( ہرپل نیوز، راست ،موصولہ رپورٹ )نفرتوں کا جواب امن اور بھائی چارگی سے دیا جانا یہ وقت کے اہم تقاضوں میں سے ہے۔ یہ ہمارا مذہبی فریضہ ہے کہ ہم دوسروں کا خیال رکھتے ہوئے حالات سے سمجھوتہ کئے بغیر بھائی چارگی اور اخوت کا پیغام عام کریں۔ جمعیۃ علماء ہندوستانی مسلمانوں کا قیمتی اثاثہ ہے، جس کی حفاظت کی ذمہ داری ہم سب کا فریضہ ہے۔، نفرت کی سیاست کے سبب ملک تباہی کے دہانے کی طرف جارہا ہے اور اس وقت ہر ایک فرقہ پرست عناصر سماج میں زہر گھول کر آپسی بھائی چارگی کو تار تار کرنے میں لگے ہیں، وقت آگیا ہے کہ ہم متحدہو کر سماج کے تانے بانے بکھیرنے والوں کو جواب دیں، اس کے لئے ہمیں متحد ہونے کے ساتھ ساتھ براداران وطن کو اسلام کا پیغام دینا ہوگا ان خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء ہندکے قومی صدرمولانا سید ارشد مدنی موتیہاری کے مہاراجہ نہرو اسٹیڈیم میں منعقد نویں صوبائی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

جمعیۃ علماء بہار کے پریس سکریٹری انوار الہدیٰ کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ وہ کسی پارٹی اور تنظیم کی مخالفت نہیں کررہے ہیں بلکہ موجودہ نظام کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ آج حالات اس طرح کے پیدا ہوگئے ہیں کہ ان سے نپٹنے کے لئے ملک میں پھیلی نفرت کی آگ کو ختم کرنا ہوگا اور اس کے لئے پہلی فرصت میں قومی یکجہتی ضروری ہے، مولا نامدنی نے سبھی افراد سے متحد ہونے کی درخواست کرتے ہوئے کہاکہ ہم سب ایک ہی ملک کے باشندے ہیں ہم ہی ملک کے گل و گلشن ہیں ہم نفرت کی سیاست کو ختم کرنے کے لئے متحدہو کر تحریک چلائیں، مولانا مدنی نے یہ بھی کہاکہ ہمیں مشترکہ طور پر سماجی وملی مسائل میں براداران وطن کو بھی شریک کرنا ہوگا۔مولانا ارشد مدنی نے اس موقع پر کہا کہ جمعیۃ علماء کا تعلق سیاست سے قطعی نہیں جمعیۃ علماء محض ملک میں امن کی خواہاں ہے اس لئے جمعیۃ علماء نے ہر موقع پر ملک میں یکجٹ ہونے کے لئے اجلاس کے انعقاد کے ساتھ ساتھ تحریک بھی چلائی ہے ملک میں جس طرح فرقہ پرستی کا عروج ہے اور جس طرح سے لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کی جارہی ہے اس کا مقابلہ انتہائی ناگزیر ہے ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء اتر پردیش کے صدر اور مہمان خصوصی مولانا سید اشہد رشیدی نے کہاکہ ہم متحد ہوکر ملک میں تیزی سے پھیل رہے نفرت کے خاتمے کے لئے کوشش کریں نیز جمعیۃ علماء ملک میں آپسی بھائی چارے کو مضبوط کرنے کا کام کررہی ہے ۔مولانا رشیدی نے کہاکہ اس وقت کچھ سر پھرے افراد مذہب کے نام پر افواہیں پھیلا کر ملک میں بد امنی پید اکرنے کی کوشش کررہی ہے مگرہمیں متحد ہوکر مقابلہ کرنا ہوگا سوشل میڈیا پر بھی کچھ لوگ غلط تشہیر کرتے ہیں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جانی چاہئے تاکہ وہ ملک کے امن و امان کو نقصان نہ پہونچا سکیں، ملک کے نازک حالات میں جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ ملک کی سلامتی کے لئے کام کیا ہے۔ علماء نے ملک میں محبت و پیار قائم رکھنے کے لئے جی توڑ کوشش کی ہے، یہ ملک سب کا ہے اور اس میں سبھی کور ہنے کا حق ہے، اس ملک کو آزاد کرانے میں ہندو ، مسلم، سکھ، عیسائی سب نے اپنی اپنی قربانیاں پیش کی ہیں ۔ کانپور سے تشریف لائے اجلاس کے مہمان خصوصی سوامی لکشمن اچاریہ نے کہاکہ اس ملک میں سب سے پہلے انسان آیا مذہب بعد میں، کیونکہ کہ انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے ہمیں اپنے کردار و اخلاق کو بلند پایہ کا کرنا ہوگا جب تک ہم اپنے اخلاق و کردار سے اسلام کے پیغامات کو بلند نہیں کریں گے اس وقت تک برداران وطن ہمارے ساتھ نہیں آئیں گے انہوں نے جہاد پر تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ جب انسان پر ہورہے مظالم حد سے گزر جاتے ہیں تووہ مذہب کے حق میں تلوار اٹھاتا ہے اس کو جہاد کہتے ہیں دہشت گردی کا جہاد ے کوئی تعلق نہیں دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔

اس موقع پر جمعیۃ علماء بہار کے جنرل سکریٹری الحاج حسن احمد قادری نے استقبالیہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اجلاس میں تشریف لائے مہمانوں کا خیر مقدم کیا جبکہ اپنے حسن نظامت سے پہلے سیشن کو بحسن خوبی صحافی وسماجی کارکن عزیر انجم نے اختتام کو پہونچایا وہیں دوسرے سیشن کی نظامت پروفیسر مولانا شکیل احمد قاسمی نے کی ۔ اس موقع پر اہم شرکاء میں مولانا قاسم مظفر پوری، مولانا اظہار الحق، جمعیۃ علماء مشرقی چمپارن کے جنرل سکریٹری مولانا جاوید عالم قاسمی، جامع مسجد کے امام و خطیب مولانا قاری جلال الدین قاسمی، مدرسہ منبع العلوم کے ناظم مولانا بہاء الدین قاسمی، مدرسہ منبع العلوم کے استاذ مولانا جاوید عالم مظاہری، مولانا مجیب الرحمن، جمعیۃ علماء سکرہنہ کے صدر مولانا امان اللہ مظاہری، جمعیۃ علماء سکرہنہ سکریٹری مفتی ڈاکٹر سید طارق انور، خیروا مدرسہ تجوید القرآن کے ناظم تعلیمات قاری عبد الرؤف ، خیروا کے موقر استاذ قاری ندیم ظفر، موتیہاری باب تنظیم کے صدر ساجد رضا، ڈھاکہ ایم ایل اے فیصل رحمن، نرکٹیا ایم ایل اے ڈاکٹر شمیم احمد، سابق ایم ایل اے امیدوار ونود سری واستو، اقراء انٹر نیشنل اسکول کے ڈائریکٹر ظفر الاسلام ، ڈاکٹر تبریز عزیز،ڈاکٹر خورشید عزیز، بتیا جمعیۃ علماء کے سکریٹری مولانا عامر عرفات قاسمی، بتیا کے شہر قاضی قاضی نثار احمد سمیت ہزاروں اسماء شامل ہیں۔

واضح رہے کہ جمعیۃ علماء کے اس نویں صوبائی اجلاس میں لاکھوں کی تعداد میں پوری ریاست سے لوگ تشریف لائے تھے شام کے ڈھلنے کے ساتھ ہی پوری ریاست کے شہروں کی سڑکوں کا رخ موتیہاری کے مہاراجہ نہرو اسٹیڈیم کی طرف تھا لوگوں نے لاکھوں کی تعداد میں پہونچ کر اجلاس کو جہاں کامیاب بنایا وہیں مقامی جمعیۃ علماء نے بھی بڑے پیمانے پر مہمانوں کے رہائش کا انتظام کیا تھا ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/IrhC6

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے