Breaking News
Home / اہم ترین / منگلورو سیشن کورٹ کے فیصلے کے بعد چارمسلم نوجوان دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری،بھٹکل کے مولانا شبیرگنگاولی بھی بری ہونےوالوں میں شامل۔فیصلہ پر(اے پی سی آر) اورجمعیت علمائے ہند کا اظہارمسرت

منگلورو سیشن کورٹ کے فیصلے کے بعد چارمسلم نوجوان دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری،بھٹکل کے مولانا شبیرگنگاولی بھی بری ہونےوالوں میں شامل۔فیصلہ پر(اے پی سی آر) اورجمعیت علمائے ہند کا اظہارمسرت

منگلورو ( ہرپل نیوز) 11اپریل : منگلورو کی تھرڈ ڈسڑکٹ سیشن کورٹ نے سات ملزمین میں سےچار کو بے قصور قرار دیتے ہوئے رہا کرنے کے احکامات دئیے ہیں جن میں بھٹکل کے مولانا شبیر اور ان کے تین ساتھی شامل ہیں جن پر ان لا فل ایکٹیویٹی کی مختلف دفعات کے تحت دہشت گردی ، جہادی لیٹریچر رکھنے ، اور انڈین مجاہدین کے ممبران کو پناہ دینے جیسے سنگین الزمات کے تحت مقدمات قائم کئے گئے تھے۔خصوصی عدالت نے ان کےعلاوہ تین لوگوں کو قصوروار قرار دے کر کہا ہے کہ ان کی سزاؤں کا تعین 12 اپریل کو کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق سات ملزمین میں سے عدالت نے جنھیں مجرم ٹہرایا ہے ان میں سید احمد نوشاد، احمد باوا ابوبکر اور فقیر احمد شمال ہیں جبکہ محمد علی، جاوید علی، مولانا شبیر اور محمد رفیق باعزت بری کئے جانے والوں میں ہیں ۔بتایا گیا ہے کہ گرفتار شدگان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 120(بی), 121(اے), 122,123,153(اے) 122,420, 468,471 اوریو اے پی اے قانون کی دفعات 10, 11, 13,16,17,18,19,20,21 سمیت آرمس ایکٹ اور ایکسپلوزیو سبسٹنس کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا۔جن سات پر مقدمے چل رہے تھے ان میں بھٹکل کے مولانا شبیر ندوی بھی شامل تھے جن کا کیس بھٹکل اے پی سی آر سینئر وکلا ء کی مدد سے لڑا تھا جن میں اڈپی کے شانتا رام شیٹی بطور خاص شامل ہیں ۔

بھٹکل کے مولانا شبیر کی کہانی:بھٹکل کے مولانا شبیر کو ڈسمبر دو ہزار آٹھ میں پونا کی ایک مسجد سے جعلی کرنسی رکھنےکے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا بعد میں ان پر دہشت گردی کے مختلف دفعات عائد کئے گئے تھے۔ مقدمے کی کارروائی میں تعاون کرنے والی تنظیم اے پی سی آر نے اس موقع پر خوشی کاا ظہار کیا ہے کل صبحقریب بارہ بجے پولس کی سخت سیکوریٹی کے ساتھ تمام ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا، مینگلورتھرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی جج پشپانجلی نے بھٹکل کے مولانا شبیر گنگولی سمیت جملہ چار لوگوں کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے باعزت رہا کرنے کا حکم دیا۔البتہ جج نے بقیہ تین لوگوں پر الزمات ثابت ہونے کی وجہ سے سزا سنائیں۔ واضح رہے کہ بھٹکل کے مولانا شبیر کو سن دو ہزار نو میں پونا سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ ان کی رہائی پر ان کے گھر والے اور اے پی سی آر کے مقامی ذمہ داران خوشی کاا ظہار کر رہے ہیں ۔

مولانا شبیر کی پریس کانفرنس:بھٹکل میں آج صبح ہوئی ایک پریس کانفرنس میں جب انہوں نے آٹھ سال جیل کے کرب والم کی داستان میڈیا کو سنائی تو وہاں موجود لوگوں میں سے اکثر لوگ حواس باختہ ہوئے مولانا شبیر نے واضح الفاظ میں کہا کہ انہیں ایک بھٹکلی مسلمان اور مولوی ہونے کی حیثت سے نشانہ بنایا گیا تھا ۔ انہوں ے کہا کہ گرفتاری کے بعد ان پر بے انتہاء مطالم کئے گئے اور ناکردہ گناہوں کا اقرار کروانے کی کوشش کی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیات کے نام پر انہیں بہت ہراساں کیا گیا ۔ بسا اوقات جسم کے نازک حصہ پر ضرب لگائی گئی اور داڑھی نوچی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ لمحے ان کے لئے ناقابل فراموش ہیں ۔

کورٹ کے فیصلہ پر شبیر کی والدہ کا رد عمل : شبیر گنگاولی کو آٹھ سالوں تک جیل میں بند رکھنے کے بعدرہا کرنے پر ان کی والدہ نے کہا کہ انہیں یقین تھا کہ ان کے کا بیٹا بے قصور ہے اور وہ رہا ہوجائے گا ۔ تاہم آٹھ سال جیل میں بند رکھنےپر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا ۔ مولانا شبیر کی والدہ نورالنساء نےاللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے بھٹکل APCR کے ذمہ داران قمر الدین مشائخ اور مولانا محمد زبیر مارکٹ ندوی کا شکریہ ادا کیا۔

مولانا شبیر کی گھر واپسی: کل دیر رات کو شبیر اپنی والدہ کے خستہ حال مکان پہنچے جہاں ان کے محلہ والوں اوردیگر لوگوں نے خیر مقدم کیا ۔ میڈیا سے بات چیت میں مولانا شبیر گنگاولی نے جیل کی داستان بیان کی اوروہاں سے رہائی ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستانی عدلیہ پر فخر کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے آئین اور یہاں کے عدالتی نظام پر انہیں پورا اطمینان ہے

گھر کا حال بے حال:آٹھ سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے والے شبیر جہاں اندرونی طور پر ٹوٹ گئے ہیں وہیں ان آٹھ سالوں میں شبیر کے گھر والے بھی بے حال رہے ۔ عید ،بقر عید اور شادی بیاہ کی تقریبات شبیر کے گھر والوں کے لئے کبھی خوشی کا باعث نہ بن سکی ۔ کبھی پونا تو کبھی بنگلور اور منگلورو جیل کی سنسان دیواریں شبیر کا مقدر بنی ۔ کھپریل کے چھوٹے سے خستہ حال مکان میں رہنے والی شبیر کی والدہ کا ان آٹھ سالوں میں حال بے حال ہوگیا ۔ بیٹے کی جدائی کے غم میں رو رو کر شبیر کی والدہ نے اپنی ایک آنکھ کی روشنی گنوائی

جمعیت علمائے ہند یا اے پی سی آر ؟ منگلورو سیشن کورٹ سے فیصلہ صادر ہونے کے بعد میڈیا کے حلقوں میں کہیں جمعیت علمائے ہند کے لیگل سیل کا نام آیا تو کہیں اے پی سی آر ( اسوسی ایشن پروٹیکشن فار سول رائٹس ) کا نام جلی حروفوں میں دیکھا گیا ۔ ایسے میں لوگوں نے سوال کیا کہ مقدمے کی جیت کا کریڈٹ کون لے ؟ اس سلسلے میں ہرپل آن لائن نے جب تحقیق کی تو پتہ چلا کہ بھٹکل کے مولانا شبیر کا کیس پورے طور وکلاء کے ساتھ مالی تعاون دیتے ہوئے بھٹکل اے پی سی آر نے لڑا جبکہ دیگر کے کیس میں جمعیت علماء ہند نے بعض کو مالی تعاون دیا تھا ۔ اس طور پر دونوں فریق اپنی بات میں درست ہے ۔ البتہ بھٹکل کا مقامی میڈیا کا مولانا شبیر کی رہائی کی بات اے پی سی آر کے تذکرے کے ساتھ لکھنا حق بجانب ہے کیونکہ مولانا شبیر کا کیس بھٹکل اے پی سی آر کا رہین منت ہے ۔ البتہ ملت کے نوجوانوں کی رہائی کے لئے دن رات ایک کرنے والی یہ دونوں ملی تنظیمیں لائق ستائش ہیں کہ انہوں نے بہر کیف اس عظیم کام کا بیڑا اٹھایا ہے ۔ جس کے لئے یہ اور ان جیسے دوسرے رفاہی ادارے بھی پوری ملت کی طرف سے شکریہ اور تعاون کے مستحق ہیں ۔

کوئی لوٹا دے مرے بیتے ہوئے دن : آٹھ سال بعد شبیر کو جیل کی سلاخوں سے نجات ملی ہے ۔ اور شبیر اب آزاد زندگی گزارہے ہیں ۔ لیکن حالیہ دنوں میں ملک کی مختلف عدالتوں سے ایسے کئی نوجوان بے قصور ثابت ہو کر باہر آگئے ہیں ۔ مولانا شبیر بھی انہی کی طرح سوچتے ہیں کہ جیل میں بے قصور کاٹے گئے زندگی کے ان قیمتی ایام کو کون لوٹائے گا ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/hBUcm

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے