Breaking News
Home / اہم ترین / مودی حکومت نے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا :یشونت سنہا

مودی حکومت نے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا :یشونت سنہا

نئی دہلی(ہرپل نیوز،یو این آئی)28 ستمبر۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر خزانہ یشونت سنہا نے نریندر مودی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی بدانتظامی، نوٹ بندی اور گوڈس اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی)کے کمزور نفاذ نے ہندوستانی معیشت کابیڑہ غرق کر دیا ہے اور (حقیقی) اقتصادی ترقی کی شرح انتہائی نچلی سطح تک پہنچ گئی ہے ۔مسٹر سنہا نے آج ایک انگریزی روزنامہ میں لکھے اپنے ایک مضمون میں مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ وہ24گھنٹے مسلسل کام کرنے کے باوجود اپنے کام کے تئیں انصاف کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مسٹر جیٹلی کی قابلیت پر سوال اٹھاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ2014کے لوک سبھا انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے کے بعد بھی انہیں وزیر خزانہ جیسی اہم ذمہ داری دی گئی ہے ۔اصل میں، عام انتخابات سے قبل ہی انہیں وزیر خزانہ بنایا جانا طے تھا۔انھوں نے مسٹر جیٹلی کو لبرلائزیشن کے بعد سے اب تک کا سب سے خوش قسمت وزیر خزانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے وقت میں خام تیل کی قیمتیں کافی کم ہوگئیں۔ اس کا فائدہ اٹھا کر غیر کارآمداثاثہ جات (این پی اے ) پر قابو پایا جا سکتا تھا اور رکے ہوئے منصوبوں کو مکمل کیا جا سکتا تھا۔بی جے پی لیڈر نے کہا ہے کہ حکومت کے اعداد و شمار میں مجموعی گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی) کی موجودہ ترقی کی شرح5.7فیصد ہے لیکن حقیقت میں یہ 3.7فیصد ہے ۔ مودی حکومت نے2015میں جی ڈی پی کی ترقی کی شرح کی پیمائش کے طریقوں میں تبدیلی لائی ہے ، جس سے اعداد و شمار5.7فیصدنظر آرہے ہیں۔مسٹر سنہا نے لکھا ہے کہ نجی سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے ۔ زراعت کی حالت بہت خراب ہوگئی ہے ۔ مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں کمی اور صنعتی پیداوار میں گراوٹ آئی ہے ۔ سروس سیکٹر کے شعبے میں گراوٹ آئی ہے اور برآمدات میں کمی ہوئی ہے ۔ہر شعبے کی مالی حالت خراب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی اقتصادی آفت ثابت ہوئی ہے ۔ جی ایس ٹی پر عملدرآمد کرنے کا طریقہ مضحکہ خیز ہے ، جس کی وجہ سے صنعت اور کاروبار کے شعبے میں اتھل پتھل مچ گئی۔ لوگوں کی نوکری ختم ہو چکی ہے اور نئی ملازمتیں دستیاب نہیں ہیں۔ نوٹ بندی اور اس کے بعد جی ایس ٹی کی وجہ سے حال ہی میں آئے تازہ اعدادوشمار کے مطابق اس کی شرح ترقی5.7فیصد ہے جو چین سے کم ہے ۔بی جے پی لیڈرنے حال ہی میں تشکیل دی گئی اقتصادی مشاورتی کونسل کے پانچ ممبران کو پانچ پانڈوؤں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افراد اقتصادی بحران سے نکلنے میں مدد کریں گے ۔ مودی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی میعاد کے ڈاکٹر سی رنگاراجن کی سربراہی والی اقتصادی مشاورتی کونسل کو تحلیل کردیا تھا۔ حکومت نے سابق ماہر اقتصادیات وویک دیورائے کی صدارت میں مشاورتی کونسل کی تشکیل کی ہے ۔اس کونسل میں رتن گھاٹل، رتھن رائے ، سرجیت بھلا اور آشماگوئل کوممبربنایا گیا ہے ۔مسٹر سنہا نے کہا ہے کہ چھوٹی صنعت کاشعبہ اپنے وجود کو بچانے کے لئے جوجھ رہا ہے ۔ اسے فوری امدادی پیکیج کی ضرورت ہے ۔حکومت بڑے مالیاتی بحران سے گزر رہی ہے ۔ جی ایس ٹی کا ان پٹ کریڈٹ کا ری فنڈ65ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گیا جبکہ مجموعی ٹیکس95ہزار کروڑ روپے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مانسون توقعات کے مطابق نہیں ہے جس کی وجہ سے ملک کے اقتصادی بحران میں مزید اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں چھاپہ ماری کی روایت بڑھ رہی ہے ۔ نوٹ بندی کے بعد سے اس میں بھاری اضافہ ہوا ہے ۔انکم ٹیکس اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے پاس لاکھوں مقدمات زیر التواء ہیں جس میں کروڑ لوگوں کا مستقبل داؤ پر ہے ۔بی جے پی کے سینئر لیڈر نے کہا کہ معیشت کی تعمیر میں کافی محنت لگتی ہے جبکہ اسے آسانی سے تباہ کیا جا سکتا ہے ۔

معیشت کی شرح نمو تیز۔راجناتھ :ہندوستانی معیشت کے تعلق سے سینئربی جے پی لیڈر اور سابق وزیرخزانہ یشونت سنہا کے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہ ہندوستانی معیشت سخت بحران سے دوچار ہے ، مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ اس ناقدانہ مشاہدے کے برعکس ہندوستانی معیشت نے بہترین کارکردگی انجام دی ہے اور عالمی سطح پر اس کا’’وقار‘‘قائم ہوا ہے ۔ مرکزی وزیرداخلہ اور بی جے پی کے سابق سربراہ راجناتھ سنگھ نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ ہندوستانی معیشت آج کی سب سے تیز ترقی کرنے والی معیشت ہے اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔کابینی میٹنگ پر میڈیا بریفنگ کے دوران نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مسٹر سنگھ شروع میں تو اس حوالے سے جواب دینے سے کترائے اور یہ اصرار کرتے رہے کہ کابینہ کے ایجنڈے تک ہی یہ ملاقات محدود رکھی جائے ۔ لیکن نامہ نگاروں نے جب بار بار پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جہاں تک ہندوستانی معیشت کا تعلق ہے تو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے اور یہ بات کسی کو نہیں بھولنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں اس کی وجہ سے ہندوستان کا ایک وقار قائم ہوا ہے ۔ واضح رہے کہ مسٹر سنہا نے اپنے ایک مضمون میں جو آج ہی شائع ہوا ہے یہ دعویٰ کیا کہ ہندوستانی معیشت کو سخت بحران کا سامنا ہے ۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ پچھلے تین برسوں میں غیر سرکاری سرمایہ کاری میں اتنی کمی آئی ہے کہ پچھلی دو دہائیوں میں ایسی کمی کا سامنا نہیں ہوا۔ مسٹر سنہا نے دعویٰ کیا کہ صنعتی پیداوار ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے ، زراعت کو بحران کا سامنا ہے اور تعمیراتی صنعت بھی متاثر ہے ۔ یہ صنعت بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے ۔

راہل نے سنہا کے مضمون پر مودی ۔ جیٹلی کا اڑایا مذاق:کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے ملک کی معیشت کی صورت حال پر سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا کے ایک روزنامہ میں شائع مضمون کے بہانے مودی حکومت کا مذاق اڑاتے ہوئے آج وزیر عظم نریندر مودی اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی پر سخت حملہ کیا۔مسٹر سنہا نے ایک قومی ہندی روزنامہ میں اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ وزیر اعظم دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے غریبی کو قریب سے دیکھا ہے ۔ ان کے وزیر خزانہ اوور ٹائم کرکے یہ یقینی بنارہے ہیں کہ تمام ہندوستانی غریبی کو قریب سے دیکھ سکیں۔کانگریس کے نائب صدر نے اس مضمو ن کے بہانے مودی حکومت کی اقتصاد ی پالیسیوں پر سخت حملہ کیا اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی کا نام لے کر اور مسٹر مودی کا نام لئے بغیر ان کا مذاق اڑاتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیاکہ دیویو اور سجنو آپ کا معاون پائلٹ اور وزیر خزانہ بول رہا ہوں۔ براہ کرم اپنی سیٹ پر لگی پٹی کو باندھ لیں اور احتیاط سے بیٹھیں ۔ ہمارے طیارے کے بازو گرگئے ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/bBGlX

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے