Breaking News
Home / اہم ترین / مودی کی’’ پریورتن ریلی‘‘ :مایاوتی اور ملائم پرجم کربرسے وزیراعظم مزید خبریں

مودی کی’’ پریورتن ریلی‘‘ :مایاوتی اور ملائم پرجم کربرسے وزیراعظم مزید خبریں

جہاں جہاں ہمیں موقعہ ملاہے،ہم نے کام کرکے دکھایاہے،مودی کادعویٰ

الہٰ آباد13جون(ہرپل نیوز/آئی این ایس انڈیا)سنگم نگری الہ آباد میdownloadں قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ کے بعد پیر کوزیراعظم نریندرمودی نے پریڈ گراؤنڈ میں ایک جلسے سے خطاب کیا۔جلسہ عام سے پہلے وزیر اعظم نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ ان کے جسم کا ذرہ ذرہ اور زندگی کا پل پل اس ملک کو وقف ہے۔بھارت ماتا کی جے کے نعرے کے ساتھ پی ایم مودی نے اپنی تقریر کا آغاز کیا۔اترپردیش میں اس معاملے میں کیاہوا۔اس سب جانتے ہیں۔مایاوتی جی ملائم سنگھ پر الزام لگاتی ہیں اور ملائم بھی یہی کرتے ہیں۔پانچ پانچ سال تک دونوں ریاست کو باری باری لوٹتے ہیں۔ہمیں آپ نے سب سے زیادہ ایم پی دیئے۔اب ریاست میں اکثریت دیجئے۔ہمیں یوپی سے ممبر پارلیمنٹ بنایا۔یہاں کی تباہی ختم کرنے کیلئے ہمیں پانچ سال کا موقع دیجئے۔مودی نے یہ بھی کہاکہ پانچ سال میں اگر ہم نے خدمت میں کوئی کمی تو ہمیں لات مار کر بھگا دینا۔جہاں جہاں ہمیں موقع ملا ہے، ہم نے ترقی کا کام کر کے دکھایا۔وزیر اعظم مودی نے اپنی تقریر پر اسٹیج پر بیٹھے لوگوں میں سب سے پہلے مرلی منوہر جوشی کا نام لیا۔انہوں نے کہاکہ پر بیٹھے لیڈروں کو دیکھ کر سب کو لگتا ہے کہ کہ مرکزی حکومت میں سب سے طاقتور تو یوپی ہی ہے۔حال ہی میں جن ریاستوں میں انتخاب ہوا وہاں بی جے پی نے بہت مقبولیت حاصل کی ہے۔آسام کی فتح کیلئے ریلی میں آئے لوگوں نے پی ایم مودی کے کہنے پر موبائل کی روشنی جلا کرمبارک باد دی۔انہوں نے کہاکہ ملک میں جب بھی کبھی دقت آتی ہے کو سب سے پہلے یوپی کے لوگ کھڑے ہوتے ہیں۔مودی کے بیرون ملک دوروں میں جو بھارت،بھارت، بھارت کانام ہو رہا ہے۔وہ سب سواسو کروڑ لوگوں کی قدر بڑھ رہی ہے۔مودی نے کہاکہ ہمارے باپ دادا کو جن مشکلات کاسامناکرناپڑا، ویسا اولاد کے ساتھ نہ ہو۔ہر مصیبت کا ایک ہی حل ہے ترقی۔نوجوانوں کے لئے ترقی ہی سب سے بڑامنترہے۔نوجوانوں کے مستقبل کوکچلنے نہیں دیا جائے گا۔قابلیت کو پورا حق دلانے کیلئے ہم مصروف عمل ہیں۔نوجوانوں کی ترقی کیلئے دہلی میں ہم ہر کوشش کررہے ہیں۔آسام جیسی ہی تبدیلی یوپی میں بھی آنی چاہئے۔اس سے پہلے مودی نے پارٹی لیڈروں کوخطاب کرتے ہوئے کہاکہ زور دیا کہ لوگ صرف نعروں سے مطمئن نہیں ہوتے بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ ملک کس طرح مضبوط ہو رہا ہے۔بی جے پی کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں تقریر کرتے ہوئے مودی نے کسی بھی متنازعہ مسئلے کا ذکر نہیں کیااور رہنماؤں سے کہا کہ وہ اقتدار کا استعمال سماج کے فائدے کیلئے کریں۔اجلاس میں پارٹی کے قومی صدر امت شاہ نے اگرچہ فرقہ وارانہ طور پر حساس مانے جانے والے مغربی اتر پردیش سے ہندوؤں کے پالین پر تشویش ظاہر کی تھی۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے مراٹھاحکمران شیواجی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکمران ہوتے ہوئے بھی اقتدار کا ذائقہ نہیں چکھ پائے۔انہوں نے بالواسطہ طور سے کانگریس گاندھی خاندان پر چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ ملک نے اگرچہ ایسا بھی دیکھا ہے کہ جائز طور پر حقدار نہیں ہوتے ہوئے بھی لوگوں نے اقتدار کا ذائقہ چکھا۔

دہلی:گوپال رائے نے وزارت ٹرانسپورٹ چھوڑنے کی پیشکش کی 

نئی دہلی،13؍جون (ہرپل نیوز/آئی این ایس انڈیا )دہلی کے وزیر ٹرانسپورٹ گوپال رائے نے ٹرانسپورٹ کی وزارت چھوڑنے کی پیشکش کی ہے۔جمعہ کو وزیر اعلی کیجریوال سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران گوپال رائے نے یہ اپیل کی کہ ان کو محکمہ ٹرانسپورٹ کی ذمہ داری سے آزاد کیا جائے۔پیر کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے گوپال رائے نے بتایا کہ ڈاکٹر نے مجھے مشورہ دیا ہے کہ کیونکہ میری ریڑھ کی ہڈی کی انجری کا تین ماہ علاج چلے گا تو مجھے اپنے کام کا بوجھ کم کرنے کی ضرورت ہے، اس لیے میں نے وزیر اعلی سے اپنی ذمہ داری کم کرنے کے لیے کہا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ گوپال رائے نے یہ پیشکش ایسے وقت میں کی ہے جب حکومت کی ایپ بیسڈ پریمیم بس سروس کی اے سی بی جانچ کر رہی ہے اور اے سی بی کے اعلی افسر مکیش مینا کہہ چکے ہیں کہ وزیر ٹرانسپورٹ گوپال رائے سے بھی ضرورت پڑنے پر پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔بحث یہ بھی چل رہی ہے کہ ایپ بیسڈ پریمیم بس سروس تنازعہ کے علاوہ بھی وزیر ٹرانسپورٹ کے طور پر گوپال رائے نہ تو دہلی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی حالت بہتر کر پائے اور مزیدبرآں دسمبر میں آٹو پرمٹ گھوٹالہ بھی سامنے آیا، جس سے اخلاقی طور پر گوپال رائے پر بہت دباؤ تھا اس لیے انہوں نے ایک بڑی وزارت چھوڑنے کی بات کہہ کر درمیان کا راستہ نکالنے کی کوشش کی ہے ۔حالانکہ گوپال رائے نے ان باتوں کی تردید کی ہے کہ وہ کسی قسم کے دباؤ میں ایسا کر رہے ہیں۔گوپال رائے نے چیلنج کیا ہے پریمیم بس سروس معاملے میں ایک پیسے کی بھی ہیر پھیری اگر ثابت ہو جائے تو وہ پوری زندگی تہاڑ جیل میں گزارنے کے لیے تیار ہیں۔

اڑتا پنجاب تنازعہ :بمبئی ہائی کورٹ نے سینسر بورڈ کو صرف ایک کٹ کے ساتھ فلم کو منظوری دینے کی ہدایت دی 

ممبئی، 13؍جون (ہرپل نیوز/آئی این ایس انڈیا )بامبے ہائی کورٹ نے پیر کو سینٹرل فلم سرٹیفیکیشن بورڈ کو فلم ’اڑتا پنجاب’کو صرف ایک کٹ کے ساتھ منظور کرنے کی ہدایت دی۔کورٹ نے یہ بھی کہا کہ فلم کو دو دن کے اندر سرٹیفکیٹ مل جانا چاہیے ۔سینسر بورڈ کی طرف سے فلم میں مجوزہ کٹ کو لے کر اپنے فیصلہ میں ہائی کورٹ نے کہا کہ وہ ایک سین کو کاٹنے سے متفق ہے، جس میں پیشاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اس کے علاوہ عدالت نے فلم کے ڈس کلیمر میں ترمیم کرنے کا حکم دیا ہے۔اس سے پہلے، ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اسے فلم ’اڑتا پنجاب‘میں کہیں بھی ہندوستان کی خود مختاری یا سالمیت پر سوال اٹھتا نہیں دکھائی دیا۔ہائی کورٹ نے کہاکہ ہم نے پوری اسکرپٹ یہ جاننے کے لیے پڑھی کہ کیا فلم نشے کو فروغ دیتی ہے یا نہیں۔ہم نے یہ پایا کہ فلم کسی شہر یا ریاست کے نام، یا پھر کسی اشارہ کے ذریعے ہندوستان کی خود مختاری یا سالمیت پر سوال اٹھاتی نہیں دکھائی دیتی ہے۔یہ کہتے ہوئے عدالت نے کہا کہ جب تک کہ تخلیقی آزادی کا غلط استعمال نہ ہو، کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے ۔کورٹ نے کہا کہ ہمیں فلم میں ایسا کچھ نہیں نظر آیا جو پنجاب کی غلط تصویر پیش کرتا ہو یا ہندوستان کی خود مختاری یا سالمیت کو متاثر کرتا ہو جیسا کہ سی بی ایف سی نے دعوی کیا ہے۔کورٹ نے اس فلم سے جڑے تنازعہ پر کہاکہ سی بی ایف سی کو قانون کے حساب سے فلموں کو سنسر کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ سینسر لفظ سنیماٹوگرافی ایکٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ویسے ’اڑتا پنجاب‘میں کچھ کٹ کئے جاسکتے ہیں۔فلم میں استعمال گالیوں کے حق میں دی گئی دلیلوں سے بامبے ہائی کورٹ متفق نہیں ہے۔واضح رہے کہ جمعہ کو ہی ہائی کورٹ نے سینسر بورڈ کے سربراہ پہلاج نہلانی کو یاد دلایا تھا کہ ان کا کام فلموں کو سرٹیفکیٹ دینا ہے نہ کہ ان کی کاٹ چھانٹ کرنا۔نہلانی نے انوراگ کشیپ کی فلم ’اڑتا پنجاب‘کو سرٹیفکیٹ دینے سے پہلے فلم کے 89مناظر پر قینچی چلا دی تھی، جس کے بعد کشیپ اور ان کی فینٹمس فلمز معاملے کو عدالت لے گئی تھے ۔اڑتا پنجا ب آئندہ 17؍جون کو رلیز ہونے جا رہی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/9reDZ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے