Breaking News
Home / اہم ترین / مودی کے دورحکومت میں فرقہ وارانہ فسادات پرقابو۔ مرکزی وزیر نقوی کا دعوی

مودی کے دورحکومت میں فرقہ وارانہ فسادات پرقابو۔ مرکزی وزیر نقوی کا دعوی

نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)17 جنوری۔  ملک کی ترقی کے لئے قومی ہم آہنگی اور ثقافتی خیر سگالی لازمی ہے اور مودی حکومت ہندوستان کے تمام عوام کی سماجی ، معاشی ، اقتصادی اور تعلیمی ترقی کے عہد کے ساتھ تیز رفتار کام کر رہی ہے ۔ مرکزی وزیر مملکت برائے اقلیتی امور (آزادانہ چارج) مختار عباس نقوی نے آج یہاں ریاستی اقلیتی کمیشنوں کی سالانہ کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد فرقہ وارانہ فسادات پر خاطر خواہ طریقے پر قابو پایا ہے یہی وجہ ہے کہ سال 2016 ۔ 2015 میں ملک میں کوئی بڑا فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا ہے اور جو اکا دکا فسادات ہوئے ہیں وہ ذاتی نوعیت کے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ فسادات کے اکا دکا واقعات کے سلسلے میں موصولہ شکایات کا اقلیتی کمیشن نے بخوبی نپٹارہ کیا اور اس سے متعلق ایجنسیوں کو آگاہ بھی کرایا۔ نقوی نے کہا کہ ہندوستان کی آئین میں اقلیتوں کو دیئے گئے حقوق کو کوئی بھی پارٹی ، حکومت یا کوئی بھی نظام ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ اس کی بنیادیں کافی گہری اور مضبوط ہیں۔ جو لوگ قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ایسی طاقتوں کو بے اثر کرنا چاہئے ۔مرکزی وزیر نے کہا کہ بہت سے لوگ مذہبی منافرت پھیلانے کے لئے افواہوں کا سہارا لے کر ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ہریانہ کے میوات میں اسی طرح کی افواہیں پھیلا کر فرقہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے ان علاقوں میں چھ پروگریس پنچایت کرکے نہ صرف اس طرح کی افواہوں پر روک لگانے میں کامیابی حاصل کی بلکہ میوات کے علاقوں میں تعلیمی اور ترقیاتی اسکیموں کا اعلان کرکے وہاں کے عوام میں اعتماد پیدا کیا ۔ نقوی نے کہا کہ ان کی وزارت نے ملک میں عالمی معیار کی پانچ یونیورسٹیاں قائم کرنے کا حال ہی میں اعلان کیا ہے جن میں 40 فیصد سیٹیں طالبات کے لئے ریزر و ہوں گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان یونیورسٹیوں کے قیام کے لئے راجستھان، مہاراشٹر اور کرناٹک کی حکومتوں نے زمین فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان یونیورسٹیوں کے قیام کے لیے کارروائی شروع کردی گئی ہے اور 2018 کے تعلیمی سیشن میں ان میں پڑھائی کا عمل شروع کردیا جائے گا۔ نقوی نے کہا کہ اقلیتی وزارت نے اقلیتوں کو با اختیار بنانے کے لئےمختلف اسکیمیں چلائی ہیں، جن کے نتیجہ میں آج اقلیتی طبقے کے لوگ تیز رفتار ترقی کی راہ پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم کا نیا 15 نکاتی پروگرام ، نئی منزل ،نئی روشنی،سیکھو اور كماو ،پری میٹرک، پوسٹ-میٹرک اسکالرشپ کا بھرپور فائدہ اقلیتوں کو ملا ہے۔ اس کے علاوہ مرکز کی دیگر اسکیموں جیسے میک ان انڈیا، اسکل انڈیا، اسٹارٹ اپ انڈیا کا فائدہ اقلیتوں کو بھی مل رہا ہے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ وقف کی زمینوں پر اقلیتی وزارت کی طرف سے ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر اسکول، کالج، مال، ہسپتال، اسکل ڈیولپمنٹ کے مرکز وغیرہ کی تعمیر کرائی جا رہی ہے اور اس سے ہونے والی آمدنی کو مسلم طبقے کی تعلیم اور دیگر ترقیاتی کاموں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان زمینوں پر کثیر المقاصد کمیونٹی سینٹر ،سدبھاونا منڈپ کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے جن کا شادی بیاہ، نمائش ، اسکل ڈیولپمنٹ ،تعلیمی سرگرمیوں، کھیل کود اور کسی آفت کے وقت راحت مرکز کے طور پر بھی استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور قومی اقلیتی کمیشن کو لوگوں کےاندر یہ اعتماد پیدا کرنا چاہئے کہ ملک میں سب کو یکساں حقوق حاصل ہیں اور کسی کے ساتھ کوئی تفریق نہیں برتی جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت برداشت اور روا داری میں مکمل یقین رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’وکاس اور وشواس ‘‘ کا چولی دامن کا ساتھ ہے جب تک عوام کے اندر اعتماد نہیں ہوگا ملک ترقی نہیں کرسکے گا۔مرکزی وزیر نے ریاستی اقلیتی کمیشن کی سالانہ کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کو خوف سے باہر نکالنے کی ضرورت ہے جس کے لئے وزارت اقلیتی امور کے ساتھ ساتھ قومی اقلیتی کمیشن اور ریاستی اقلیتی کمیشن اہم رول ادا کر رہے ہیں ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ILHiU

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے