Breaking News
Home / اہم ترین / مولانا انظرشاہ ،مولانا عبدالسمیع اور دیگرکے خلاف خصوصی سیل نے داخل کی چارج شیٹ

مولانا انظرشاہ ،مولانا عبدالسمیع اور دیگرکے خلاف خصوصی سیل نے داخل کی چارج شیٹ

غیرقانونی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی دفعات کے تحت الزامات عائد کیا

بابری مسجد شہادت اور گودھرا سانحہ کا بدلہ لینے کو بتایا القاعدہ سے جڑنے کی وجہ،سبنھل سے بھی تارجڑنے کادعویٰ

نئی دہلی12جون(ہرپل نیوز/آئی این ایس انڈیا)دہلی پولیس نے عدالت میں کہا کہ سال 1992میں ہوئے بابری مسجد انہدام اور سال 2002کے گودھرا فسادات کی وجہ سے ہندوستانی نوجوانوں کا جھکاؤ القاعدہ کی جانب ہوا اور یہ نوجوان دہشت گرد تنظیم القاعدہ برصغیر میں بنیادبنانے کیلئے مصروف عمل ہے۔دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے 17ملزمان کے خلاف دائراپنی چارج شیٹ میں کہا ہے کہ جہاد کیلئے کچھ نوجوان پاکستان گئے اور جماعت الدعوۃ سربراہ حافظ سعید، لشکر طیبہ چیف ذکی الرحمن لکھوی اور دیگر دہشت گردوں سے ملے۔چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف مساجد میں مبینہ جہادی تقریر کرنے کے بعد گرفتار ملزم سیدانظرشاہ محمد عمر سے ملاجوایک فرار ملزم ہے۔انہوں نے ہندوستان میں مسلمانوں پر مبینہ تشدد، خاص کر گودھرا اور بابری مسجد مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

ایڈیشنل سیشن جج ریتیش سنگھ کے سامنے داخل چارج شیٹ میں کہا گیا ہے عمر ان کے جہادی خیالات اور تقریروں سے بہت متاثر ہوا اور خود کو جہاد کے لئے وقف کر دیا۔اس نے پاکستان سے ہتھیار اور گولہ بارود کی تربیت لینے کی خواہش کااظہارکیا۔چارج شیٹ کے مطابق عمر پاکستان سے اپنی سرگرمیاں چلاتا ہے۔پولیس نے کہا کہ ملزم عبد الرحمن نے پاکستانی عسکریت پسندوں سلیم، منصور اور سجاد کو ہندوستان میں محفوظ پناہ دی۔سلیم، منصور اور سجاد جیش محمد کے رکن تھے اورسال2001میں اتر پردیش میں فائرنگ میں مارے گئے تھے۔چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تینوں پاکستانی عسکریت پسند بابری مسجد انہدام کا بدلہ لینے کے لئے ہندوستان آئے تھے اور ان کا منصوبہ ایودھیا میں رام مندر پر حملہ کرنے کاتھا۔چارج شیٹ میں پولیس نے 17ملزمان کے نام دئے ہیں جن میں سے 12فرار ہیں۔اس چارج شیٹ مبینہ سازش رچنے،ہندوستانی نوجوانوں کی بھرتی کرنے اور یہاں بنیاد قائم کرنے کے الزام کے بارے میں ہے۔اپنی آخری رپورٹ میں ایجنسی نے پانچ گرفتار ملزموں محمد آصف، ظفر مسعود، محمد عبد الرحمن،سیدانظرشاہ اور عبدالسمیع پر انسدادغیر قانونی سرگرمیاں قانون (یواے پی اے)کی دفعات کے تحت مبینہ جرائم کیلئے الزام لگائے ہیں۔تمام 17ملزمان کے خلاف یواے پی اے کی دفعہ 18،دفعہ 18بی (دہشت گردانہ سرگرمیوں کیلئے کسی بھی شخص کو بھرتی کرنے کی سزا)اور دفعہ 20(دہشت گرد تنظیم کارکن بننے کیلئے سزا)کے تحت الزام لگائے گئے ہیں۔ملزمان کو دسمبر 2015سے جنوری 2016کے درمیان ملک کے مختلف حصوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔جانچ ایجنسی کا الزام ہے کہ القاعدہ ایکیواییس کے بینر تلے ہندوستان میں اپنی بنیاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور مغربی اتر پردیش کے اضلاع کے کچھ نوجوان ہندوستان چھوڑ کر پاکستان چلے گئے اور اس کے کیڈر میں شامل ہو گئے۔اس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہ کا ایک گروپ اتر پردیش کے سنبھل ضلع میں سرگرم ہے۔چارج شیٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزم سوشل میڈیا اور موبائل فونز کے ذریعے پاکستان، ایران اور ترکی کے دہشت گردوں کے رابطے میں تھے، وہ ان ممالک میں گئے، ایکیواییس کے لئے خزانہ کا انتظام کیا اور نوجوانوں کو جہادکیلئے اکسایا۔پانچ گرفتار ملزمان کے علاوہ ایجنسی نے اپنے چارج شیٹ میں 12دیگر کے بھی نام لئے ہیں جو فرار ہیں اور ان کے خلاف عدالت نے ماضی میں غیرضمانتی وارنٹ جاری کیاتھا۔فرارملزم سیداختر،زین الحق،محمدشرجیل اختر،عثمان،محمدریحان،ابوسفیان،سیدمحمدارشیاں،سید محمد ذیشان علی،سبیل احمد،محمدشاہدفضل،فرحت اللہ گھوری اورمحمدعمرہیں۔ گزشتہ سال14دسمبر کو آصف کو گرفتارکیاگیاتھاجس کے بعداس معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/PKv0i

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے