Breaking News
Home / اہم ترین / مولانا انظرشاہ کی گرفتاری پرآسمان سر پراٹھانے والا میڈیارہائی کی خبر کیوں نہیں چلاتا؟مولاناارشد مدنی کاسوال۔میڈیاپرجانب داری برتنے کاالزام

مولانا انظرشاہ کی گرفتاری پرآسمان سر پراٹھانے والا میڈیارہائی کی خبر کیوں نہیں چلاتا؟مولاناارشد مدنی کاسوال۔میڈیاپرجانب داری برتنے کاالزام

نئی دہلی۔ (ہرپل نیوز، ایجنسی)24 اکتوبر۔’’ ہندوستان کے مسلمان نہ تو دہشت گرد ہیں اور نہ ہی دہشت گردوں کے حامی یہ بات اب خود ملک کی عدالتوں میں ثابت ہو رہی ہے ۔ ہمیں اپنے نظام عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے اور تمام تر سازشوں کے باوجود عدالتیں انصاف دے رہی ہیں ۔ معروف عالم دین مولانا انظر شاہ کا دہشت گردی کے الزام سے با عزت بری کرنے کا عدلیہ کا حالیہ فیصلہ اس کا تازہ ثبوت ہے‘‘ ۔ یہ بات جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے جمعیۃ علما ہند کے صدر دفتر مسجد عبدالنبی میں مولانا انظر شاہ سے ملا قات کے دوران کہی۔ مولانا انظرشاہ اپنی رہائی کے بعد  خود کو قانونی امداد فراہم کرانے کے لئے جمعیۃ علما ء ہند اور بالخصوص مولانا ارشد مدنی کا شکریہ ادا کرنے یہاں آئے تھے۔

مولانا مدنی نے مزید کہا کہ ملک کا الیکٹرانک میڈیا جانبدارانہ کردار ادا کر رہا ہے ۔جب بھی کسی بے قصور مسلمان کو دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے تو الیکٹرانک میڈیا پوری شدت سے اس شخص کو دہشت گرد ثابت کرنے پر تل جاتا ہے لیکن جب وہی شخص عدالت سے بے قصور ثابت ہو جاتا ہے تو وہ اس کی خبر دینا بھی ضروری نہیں سمجھتا۔ اس سے الیکٹرانک میڈیا کی نیت اور نیتی دونوں کوہی سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ انظر شاہ کی گرفتاری پر آسمان سر پر اٹھا لینے والا الیکٹرانک میڈیا عدالت سے ان کی رہائی کے بعد کیو ں خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ا س رویہ کی وجہ سے اب میڈیا عوام کا اعتماد کھوتاجا رہا ہے ۔مولانا مدنی نے امید ظاہر کی کہ ابھی جن لوگوں کے خلاف دہشت گردی کے معاملے زیر غور ہیں وہ زیادہ تر فرضی ہیں اور انہیں امید ہے کہ ان شاء اللہ ہم وہ تمام مقدمات جیتیں گے۔ مولانا مدنی نے مولانا انظر شاہ سے ملاقات کے دوران بتایا کہ جمعیۃ علما ہند کا لیگل سیل کس دلجوئی کے ساتھ جیلوں میں بند بے قصور لوگو ں کی رہائی کے لئے کام کر رہا ہے ۔اس موقع پر مولانا انظر شاہ نے انہیں قانونی امداد پہنچانے اور باعزت بری کرانے میں اہم رول ادا کرنے کے لئے جمعیۃ علما کے صدر مولانا سید ارشد مدنی اور لیگل سیل کے سربراہ گلزار اعظمی کا شکریہ ادا کیا۔

واضح ہو کہ پٹیالہ ہائوس عدالت نے گذشتہ ہفتہ مولانا انظرشاہ کو دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے سے متعلق مقدمہ میں ڈسچارج کر دیا تھا اور اپنے فیصلے میں عدالت نے واضح کر دیا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم اپنے اس الزام کو ثابت نہیں کرسکی کہ مولانا انظر شاہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ عدالت نے ان کی تقریروں کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ پایا کہ ان کی تقریروں میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو نوجوانوں کو القاعدہ سے جڑنے کی ترغیب دینے والا یا اکسانے والا ہو۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/S3xfG

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے