Breaking News
Home / اہم ترین / مہاراشٹرا کےعمر کھیڑ فساد میں گرفتار۲۳مسلم نوجوان ضمانت پر رہا۔ جمعیۃ علماء کی کوششوں سے ممکن ہوئی ضمانت پر رہائی

مہاراشٹرا کےعمر کھیڑ فساد میں گرفتار۲۳مسلم نوجوان ضمانت پر رہا۔ جمعیۃ علماء کی کوششوں سے ممکن ہوئی ضمانت پر رہائی

ممبئی(ہرپل نیوز/ پریس ریلیز)10 اکتوبر: مہاراشٹر کے ایوت محل ضلع کے عمرکھیڑ نامی علاقے میں گنپنی وسرجن کے موقع پر پھوٹ پڑنے والے فرقہ فسادات میں پولس نے۴۲؍ لوگوں کو گرفتار کیا تھا جس میں ۱۲؍ غیر مسلم بھی شامل تھے، ان  میں سے مزید ۲۳ مسلم نوجوانوں کو مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے گذشتہ کل پوسد سیشن عدالت نے احکامات جاری کیئے، گذشتہ جمعرات کو عدالت نے ۱۰؍ مسلم نوجوانوں کو ضمانت پر رہا کیا تھا اس طرح ابتک کل ۳۳؍ مسلم نوجوان ضمانت پر رہا کیئے جاچکے ہیں جس میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے ۲۵؍ مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کی ہے۔

جمعیۃ کے وکلاء محمد تاج ملناس،الیاس سید اور فیق اللہ خان نے پوسد سیشن عدالت کے جج ایس جے شرماکے سامنے ضمانت عرضداشت پر بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں گرفتار مسلم نوجوانو ں کا ان فسادات سے کوئی تعلق نہیں ہے نیز پولس نے ملزمین سے تفتیش مکمل کرلی ہے اور اب مزید ملزمین کو جیل میں قیدرکھنا ضروری نہیں ہے لہذا انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے نیز پولس نے ملزمین کے خلاف جو اقدام قتل کی دفعات عائد کی ہیں اس کا ملزمین پر اطلاق ہوتا ہی نہیں ۔دفاعی وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے سیشن جج نے ۲۳؍ ملزمین کو مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے اور انہیں ہدایت دی کہ وہ جیل سے رہا ہونے کے بعد ان کے خلاف موجود ثبوت وشواہد سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں اور نہ ہی اس معاملے میں پولس کی جانب سے نامز د کیئے گئے گواہوں سے رابطہ قائم کریں۔جمعیۃ علماء کے توسط سے ضمانت پر رہا ہونے والوں میں جلیل قریشی عثمان قریشی،نذیر قریشی عبد الرحمٰن قریشی،اویس قریشی یوسف قریشی،مکرم علی شیر علی،ایوب علی شیر علی،سید مزمل سید علی،عادل پٹیل شیخ لعل پٹیل،نیہال پٹیل شیخ لعل پٹیل،فیاض الدین عین الدین قاضی،واجد خان وحید خان،جعفر خان ابراہیم خان،عارف الزماں عبد السلام،شیخ سرفراز شیخ سراج،عمران عبد المنان،شیخ مستقیم شیخ ابراہیم،سید نواز سید مکندر،آصف خان عظیم خان،شیخ جاوید شیخ نذیر،محسن خان رمضان خان،بابو خان ٖغفار خان ،شیخ محبوب شیخ لعل،شیخ سلیم شیخ مختار،شیخ آصف شیخ منظور،سید حمید سید منیرشامل ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ شب گنیش وسرجن کے موقع پر ملی جلی آبادی والے عمر کھیڑ کے ناگ چوک اور ساج پوری کے علاقے میں دیر رات گئے ڈھول تاشے کے ساتھ گنپتی کا جلوس رواں دواں تھا اسی درمیان دو گنیپی منڈلوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا جس کے بعد دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا اور اس دوران پتھر مسلم بستیوں پر بھی پھینکے گئے جس کے بعد مقامی مسلم نوجوانوں نے مداخلت کی نیز دونوں فرقوں کے درمیان ہونے والے پتھراؤ کے نتیجے میں ایک گنپی کی مرتی ٹوٹ گئی جس کے بعد اکثریتی فرفہ سے تعلق رکھنے والے نشہ میں دھت افراد نے علاقے میں کہرام مچا دیا اور گنپتی کا جلوس وہیں روک دیا تھا اور پولس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مورتی کو توڑنے والوں کی گرفتاری ہوجانے کے بعد ہی وسرجن انجام دیں گے ۔ پولس نے اس معاملے میں دونوں فرقے کے جملہ ۴۲؍ افراد کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 535,307,324,436 و یگر کے تحت مقدمہ درج کیا ہے ۔جس میں سے مسلم نوجوانوں کی جیل سے رہائی عمل میں آچکی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/vyirc

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے